یمن کے اسپائیڈر مین 43

یمن کے اسپائیڈر مین کا آتش فشاں کے دامن میں المناک انجام

انسان اور قدرت کے درمیان مہم جوئی کا رشتہ ہمیشہ سے ہی سحر انگیز رہا ہے، لیکن بعض اوقات یہ شوق ایک ایسے موڑ پر آ کر ختم ہوتا ہے جو دلوں کو گہری اداسی میں مبتلا کر دیتا ہے

۔ سوشل میڈیا پر "یمن کے اسپائیڈر مین” کے نام سے مشہور نوجوان مہم جو، القعقاع بن عنتر کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی المناک ہے۔

یمن کے اسپائیڈر مین کون تھے اور موت کیسے واقع ہوئی؟

یمن کے اسپائیڈر مین القعقاع کوئی عام نوجوان نہیں تھا۔ اس نے بغیر کسی رسی یا حفاظتی سامان (سیفٹی گیئر) کے خطرناک پہاڑوں، چٹانوں اور آتش فشاں کے دھانوں کو سر کرنے کی اپنی حیرت انگیز صلاحیتوں سے انٹرنیٹ پر بے شمار لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا۔

اس کے چاہنے والے اس کی دلیری اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیے جانے والے کارناموں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ لیکن افسوس، کہ اس بار قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔

یہ دلخراش واقعہ یمن کے صوبے الضالع میں پیش آیا، جب وہ مشہور ‘حرضہ دمت’ (Haradhat Damt) آتش فشاں کے دہانے (کریٹر) میں اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ مقام علاقے کے مشہور ترین قدرتی عجائبات میں سے ایک ہے، جو اپنی سیدھی، کھڑی چٹانوں اور انتہائی دشوار گزار راستوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

اپنی اسی مہم کے دوران اچانک اس نوجوان کا پاؤں پھسلا اور وہ توازن برقرار نہ رکھ پانے کی وجہ سے سیدھا تقریباً 120 میٹر گہرے آتش فشاں کے غار میں جا گرا۔

اس خوفناک حادثے کی خبر ملتے ہی مقامی رضاکار اور امدادی ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ لیکن امدادی کام اتنا آسان نہیں تھا۔ آتش فشاں کی شدید گہرائی اور وہاں کے غیر مستحکم، خطرناک اور پھسلن بھرے راستوں نے ریسکیو آپریشن کو بے حد مشکل بنا دیا۔

سول ڈیفنس کی ٹیموں کو اس بہادر نوجوان کی لاش نکالنے کے لیے دن رات ایک کرنا پڑا اور مسلسل 24 گھنٹے کی کٹھن جدوجہد کے بعد بالآخر اس کا جسدِ خاکی نکالا جا سکا۔

سوشل میڈیا پر صارفین غم ناک

اس المناک خبر نے سوشل میڈیا پر سوگ کی فضا قائم کر دی ہے۔ وہ مداح جو کل تک اس کی نئی اور سنسنی خیز ویڈیوز کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے، آج بوجھل دل کے ساتھ اس کی بہادری اور بے خوف روح کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

القعقاع بن عنتر اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن موت کے خوف سے آزاد اس کی بے باک داستانیں یمن کی ان چٹانوں اور اس کے چاہنے والوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وہ اپنے شوق کی تکمیل کرتے ہوئے اسی فطرت کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے سو گیا، جس سے اسے بے پناہ محبت تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں