ورک پلیس پر ہراسانی 29

ورک پلیس پر ہراسانی کا شکار خواتین کیلئے اہم عدالتی فیصلہ

یہ کہانی صرف ایک خاتون پر گزرنے والے کرب کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی ایک شاندار مثال ہے کہ جب ایک عورت اپنے حق کے لیے کھڑی ہوتی ہے، تو وہ کیسے ایک فرسودہ اور مردانہ غلبے والے نظام کو شکست دے سکتی ہے۔

کراچی کے محکمہ ثقافت میں کام کرنے والی افشاں (فرضی نام) نے ثابت کیا کہ ورک پلیس پر ہراسانی کا شکار خواتین بے بس نہیں ہوتیں۔

آئیے اس واقعے کو ایک کہانی کے طور پر دیکھتے ہیں تاکہ سمجھ سکیں کہ استحصال کیسے شروع ہوتا ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جاتا ہے۔

اعتماد کا سراب اور حدود کی خلاف ورزی

 

کہانی کا آغاز 2018 میں ہوا جب افشاں نے اپنی محکمانہ ترقی کے لیے ایک سینئر ساتھی، عبدالکریم لاشاری سے رہنمائی مانگی۔ لاشاری نے ابتدا میں ایک شائستہ اور مددگار انسان کا روپ دھارا۔ لیکن جیسے ہی اسے افشاں کا اعتماد حاصل ہوا، اس کا اصل چہرہ سامنے آنے لگا۔

دفتری گفتگو میں غیر مہذب جنسی موضوعات شامل ہونے لگے۔ وہ رات گئے فون کرتا، افشاں کے لباس پر طنز کرتا کہ "تم پڑھی لکھی ہو کر بھی نقاب پہنتی ہو؟” اور اسے "بیب” یا "سویٹ ہارٹ” جیسے القاب سے پکارنے لگا۔ یہ وہ پہلا مرحلہ تھا جہاں پیشہ ورانہ حدود کو دانستہ طور پر پامال کیا جا رہا تھا۔

انکار کی قیمت اور ہراسانی کی انتہا

 

ایک روز دفتری کام کے سلسلے میں حیدرآباد جاتے ہوئے، لاشاری نے افشاں کو اپنی گاڑی میں ساتھ چلنے پر قائل کر لیا۔ راستے میں اس نے شادی کی پیشکش کی، جسے افشاں نے مسترد کر دیا۔ اس انکار کے بعد لاشاری کی ہراسانی نے خطرناک شکل اختیار کر لی۔

اس نے افشاں کا پیچھا کرنا، راستہ روکنا اور چھپ کر تصاویر بنانا شروع کر دیں۔ زبردستی ہاتھ پکڑنے اور بوسہ لینے کی کوششیں کی گئیں۔ جب افشاں نے اس کا نمبر بلاک کر دیا، تو اس نے دفتر میں یہ جھوٹی افواہ پھیلا دی کہ ان کی خفیہ شادی ہو چکی ہے۔

ان حالات نے افشاں کو شدید ذہنی اذیت (ڈپریشن) میں مبتلا کر دیا۔ اس کا وزن گر گیا، راتوں کو ڈراؤنے خواب آتے، اور کانوں میں لاشاری کے وہ طعنے گونجتے جن میں وہ اس کے کردار کشی کرتا تھا۔

محکمانہ بے حسی اور انصاف کا متبادل راستہ

 

افشاں نے ہمت کر کے سب سے پہلے اپنے محکمے میں شکایت کی، لیکن جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، محکمے کے اعلیٰ حکام نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی اور کوئی ایکشن نہ لیا۔

یہیں سے افشاں نے وہ فیصلہ کیا جو ہر اس خاتون کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ایسے حالات کا شکار ہے۔ اس نے محکمے کے سست نظام سے مایوس ہو کر ہار نہیں مانی، بلکہ "صوبائی محتسب برائے انسدادِ ہراسانیِ خواتین” کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

انصاف کی جیت: ثبوتوں کی طاقت

 

محتسب کے سامنے لاشاری نے حسبِ روایت تمام الزامات سے انکار کیا۔ لیکن افشاں نے یہاں اپنی سب سے بڑی طاقت کا استعمال کیا: ڈیجیٹل ثبوت۔

اس نے لاشاری کے بھیجے گئے تمام واٹس ایپ پیغامات محتسب کے سامنے رکھ دیے۔ ان ٹھوس ثبوتوں کے بعد لاشاری کے پاس اعتراف کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔ محتسب نے جرم ثابت ہونے پر لاشاری کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا۔

ورک پلیس پر ہراسانی کے خلاف سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

 

لاشاری نے اس فیصلے کے خلاف گورنر سندھ اور پھر سندھ ہائیکورٹ میں اپیلیں کیں، جو سب خارج ہوئیں۔ 24 دسمبر 2024 کو ہائیکورٹ کے جسٹس محمد کریم خان آغا نے اپنا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے لاشاری کی برخاستگی کو برقرار رکھا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں انتہائی اہم نکات اٹھائے:

  • کسی خاتون کو مردوں کی اکثریت والے محکمے کے سست اور غیر مؤثر نظام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

  • افشاں کا محکمے کی بجائے براہ راست ‘محتسب’ کے تیز اور محفوظ فورم کا انتخاب کرنا قانوناً بالکل درست تھا۔

  • عدالت نے حکومتِ سندھ کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ خواتین کو اس قانون سے آگاہ کرے اور انکوائری کمیٹیوں کو پابند کرے کہ وہ 30 دن کے اندر فیصلے کریں۔

اس کہانی سے خواتین کے لیے اہم اسباق

 

افشاں کا یہ سفر ان تمام خواتین کے لیے ایک عملی گائیڈ ہے جو ورک پلیس پر ہراسانی کا شکار رہی ہیں یا ہورہی ہیں۔

  • ابتدائی اشاروں (Red Flags) کو پہچانیں: اگر کوئی کولیگ دفتری گفتگو کو ذاتی نوعیت، نامناسب القابات یا آپ کے لباس پر تبصروں تک لے جائے، تو فوراً فاصلہ قائم کریں اور حدود واضح کریں۔

  • ڈیجیٹل ثبوت محفوظ رکھیں: افشاں کے کیس میں واٹس ایپ پیغامات نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ہراساں کرنے والے کی کالز کی ریکارڈنگ، پیغامات، ای میلز اور تصاویر کو کبھی ڈیلیٹ نہ کریں۔ یہ آپ کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔

  • محکمانہ نظام پر مکمل انحصار نہ کریں: اگر آپ کا ادارہ شکایت پر کارروائی نہیں کر رہا، تو آپ کے پاس قانون کے تحت ‘محتسب’ کے پاس جانے کا حق موجود ہے۔ یہ ایک تیز رفتار اور بااختیار فورم ہے۔

  • اپنے آپ پر الزام نہ دھریں (No Self-Blame): ہراسانی کرنے والا ہمیشہ آپ کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرے گا کہ غلطی آپ کی ہے (جیسا کہ لاشاری کا یہ کہنا کہ وہ کسی کی بھی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے)۔ یہ ایک نفسیاتی حربہ ہے، اسے اپنے اعصاب پر حاوی نہ ہونے دیں۔

    افشاں کی طرح بولنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ آپ کا ایک قدم نہ صرف آپ کو، بلکہ آپ کے بعد آنے والی کئی اور خواتین کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں