وال آف سیکریٹس 22

’وال آف سیکریٹس‘ اور پاکستان کے بچوں کے ان کہے دکھ

بچپن کو عموماً تتلیوں، رنگوں اور بے فکری سے تشبیہ دی جاتی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہر بچے کا بچپن ایسا نہیں ہوتا۔ کچھ بچے ایسے خوف، ہراسانی یا تشدد کا شکار ہوتے ہیں جنہیں وہ لفظوں میں بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

ان کی چیخیں ان کے اندر ہی گھٹ کر رہ جاتی ہیں۔ اسی خاموشی کو توڑنے اور بچوں کے اندر چھپے دکھوں کو سمجھنے کے لیے معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے ماہرِ تعلیم انعم شکیل اور ’زندگی ٹرسٹ‘ کے ساتھ مل کر ایک انتہائی حساس اور منفرد اقدام ’وال آف سیکریٹس‘ (Wall of Secrets) کا آغاز کیا ہے۔

شہزاد رائے نے حال ہی میں اپنی ایک انسٹاگرام ویڈیو میں اس اقدام کی گہرائی پر بات کی۔ یہ کوئی عام دیوار نہیں ہے، بلکہ یہ ان بچوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی، غنڈہ گردی (Bullying) یا کسی بھی قسم کے ذہنی دباؤ کو زبانی بیان کرنے سے ڈرتے ہیں۔

اس دیوار کے ذریعے بچوں کو یہ موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دل کا بوجھ، اپنے خوف اور اپنے راز آرٹ، ڈرائنگ اور رنگوں کے ذریعے ظاہر کریں۔

لفظوں کے بجائے آرٹ ہی کیوں؟

 

دنیا بھر میں ماہرینِ نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ جب انسان، خاص طور پر بچے، کسی شدید صدمے (Trauma) سے گزرتے ہیں، تو ان کے دماغ کا وہ حصہ جو زبان اور بولنے کو کنٹرول کرتا ہے، سن ہو جاتا ہے۔ بچہ چاہ کر بھی نہیں بتا پاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں کئی دہائیوں سے ’آرٹ تھراپی‘ (Art Therapy) کو ایک باقاعدہ علاج کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب ایک بچہ کینوس پر کالے رنگ کا زیادہ استعمال کرتا ہے، یا ڈرائنگ میں خود کو ایک کونے میں چھپا ہوا بناتا ہے، یا کسی بڑے سائے سے ڈرتا ہوا دکھاتا ہے، تو ایک ماہرِ نفسیات فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ بچہ کسی نہ کسی زیادتی یا خوف کا شکار ہے۔

دنیا بھر میں سکولوں اور چائلڈ پروٹیکشن سینٹرز میں ڈرائنگ اور پینٹنگ کے ذریعے بچوں کے ان رازوں تک رسائی حاصل کی جاتی ہے جو وہ ڈر کے مارے اپنے والدین کو بھی نہیں بتا پاتے۔

"بچے اکثر یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ ‘اگر میں نے بتا دیا تو مجھے ہی ڈانٹ پڑے گی’۔ آرٹ انہیں یہ آزادی دیتا ہے کہ وہ بولے بغیر سب کچھ کہہ دیں۔”

پاکستان میں ’وال آف سیکریٹس‘ کی ضرورت کیوں ہے؟

 

پاکستان کے معاشرتی خدوخال کو دیکھیں تو ہمیں اس ’دیوارِ راز‘ کی ضرورت دنیا کے کسی بھی خطے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو بولنا نہیں سکھاتے، انہیں چپ رہنا سکھاتے ہیں۔

  • معاشرتی دباؤ اور ٹیبو: پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونے والی ہراسانی یا جنسی زیادتی پر بات کرنا آج بھی ایک بہت بڑا ’ٹیبو‘ سمجھا جاتا ہے۔ بدنامی کے ڈر سے بچوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

  • احساسِ تحفظ کا فقدان: گھر ہو یا سکول، اکثر بچوں کو وہ دوستانہ ماحول نہیں ملتا جہاں وہ بغیر کسی خوف کے کہہ سکیں کہ فلاں شخص کا چھونا انہیں برا لگا ہے، یا سکول میں فلاں بچہ انہیں تنگ کرتا ہے۔

  • الفاظ کی کمی: چھوٹے بچوں کے پاس وہ الفاظ ہی نہیں ہوتے جن سے وہ اپنے ساتھ ہونے والے کسی پیچیدہ واقعے کو بیان کر سکیں۔

ان حالات میں ’وال آف سیکریٹس‘ ایک ایسا خاموش دوست بن کر ابھرا ہے جو بچوں کو جج نہیں کرتا۔ جب ایک بچہ اس دیوار کے لیے کچھ تخلیق کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنے اندر کے غبار کو باہر نکال رہا ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کار اساتذہ اور ماہرین کے لیے ایک ’ریڈ فلیگ‘ (خطرے کا اشارہ) فراہم کرتا ہے کہ اس بچے کو فوری توجہ، کونسلنگ اور تحفظ کی ضرورت ہے۔

ایک انسانی المیہ اور امید کی کرن

 

تصور کریں ایک ایسے بچے کا جو روزانہ سکول آتا ہے، کسی سے بات نہیں کرتا، سہما سہما رہتا ہے اور اچانک وہ ایک ایسی تصویر بناتا ہے جس میں ایک چھوٹے سے پرندے کو پنجرے میں قید دکھایا گیا ہے۔ یہ صرف ایک ڈرائنگ نہیں، یہ ایک مدد کی پکار (Cry for help) ہے۔

شہزاد رائے، انعم شکیل اور زندگی ٹرسٹ کی یہ کاوش محض ایک تعلیمی پروجیکٹ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ہیومن ٹچ ہے جس کی ہمارے معاشرے کو اشد ضرورت تھی۔ یہ پروجیکٹ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بچوں کی بات سننے کے لیے ہمیشہ کانوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بعض اوقات ان کے بنائے ہوئے ٹیڑھے میڑھے خاکوں کو دل کی آنکھ سے دیکھنا پڑتا ہے۔

اگر اس ماڈل کو پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی سکولوں میں اپنایا جائے، تو ہم نہ جانے کتنے معصوم بچوں کو خاموش ذہنی اذیت سے نکال کر ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل دے سکتے ہیں۔ ’وال آف سیکریٹس‘ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب معاشرہ بولنے کی اجازت چھین لیتا ہے، تو رنگ اور لکیریں بغاوت کر دیتی ہیں۔ اور کبھی کبھی، یہ بغاوت کسی معصوم کی جان بچانے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں