ٹک ٹاک پر پابندی 33

ٹک ٹاک پر پابندی کے کیس میں‌پشاور ہائیکورٹ کی سماعت کا دلچسپ احوال

کیا پاکستان میں ٹک ٹاک کے دن واقعی گنے جا چکے ہیں؟ ایک بار پھر ملک میں اس مقبول ترین شارٹ ویڈیو ایپ پر پابندی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، لیکن اس بار معاملہ ذرا مختلف ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں جو کچھ ہوا اور پی ٹی اے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) نے جو موقف اپنایا، وہ واقعی آپ کو حیران کر دے گا۔

عدالت میں کیا ہوا؟ سیاسی پوسٹ فوراً بلاک، تو بے ہودہ ویڈیوز کیوں نہیں؟

پشاور ہائیکورٹ میں جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل، بیرسٹر بابر شہزاد عمران نے موقف اختیار کیا کہ اس ایپ پر موجود مخصوص مواد معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔

لیکن کہانی میں اصل ٹوئسٹ اس وقت آیا جب پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک پر مخصوص مواد کو بلاک کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ اس کا الگورتھم ہی ایسا ہے کہ صارف جو دیکھتا ہے، اسے ویسی ہی مزید ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں۔ اس دلیل پر جسٹس اعجاز انور نے ایک ایسا زبردست ریمارکس دیا جس نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا:

"اگر حکومت کوئی سیاسی پوسٹ بلاک کرنا چاہے تو وہ فوری طور پر غائب ہو جاتی ہے، پھر اس نوعیت کے غیر اخلاقی مواد کو کنٹرول کیوں نہیں کیا جا سکتا؟”

اس سوال پر پی ٹی اے نے اپنا دامن بچاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب ایسے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک نیا ادارہ ‘سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی’ قائم کر دیا گیا ہے۔ جس پر عدالت نے اب اس نئی اتھارٹی کو طلب کر کے رپورٹ مانگ لی ہے۔

کیا ٹک ٹاک پر پابندی  واقعی مسئلے کا حل ہے؟

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی بار اس ایپ پر عارضی پابندیاں لگ چکی ہیں، جو بعد میں یقین دہانیوں پر ہٹا لی گئیں۔ لیکن اگر ہم حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تو کیا کسی پلیٹ فارم کو مکمل طور پر بند کر دینا کسی بھی مسئلے کا حل ہے؟ بالکل نہیں۔

ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں ایپس پر پابندی لگانا سر درد کے علاج کے لیے سر کاٹنے کے مترادف ہے۔ لوگ وی پی این (VPN) لگا کر ویسے بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ اصل مسئلہ ایپ نہیں بلکہ اس پر موجود مواد کو مانیٹر کرنے کا نظام ہے۔

ٹک ٹاک کا مثبت اور تعمیری پہلو (جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں)

ہمیں یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ ٹک ٹاک اب محض ہونٹ ہلانے (Lip-syncing) یا ڈانس کی ویڈیوز تک محدود نہیں رہا۔ اس پلیٹ فارم پر اس وقت بے شمار کنسٹرکٹو (تعمیری) کام ہو رہا ہے۔

آج ہزاروں پاکستانی اس ایپ کے ذریعے اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ اساتذہ چھوٹے چھوٹے کلپس میں سائنس اور حساب سمجھا رہے ہیں، ڈاکٹرز صحت سے متعلق مفت مشورے دے رہے ہیں، اور چھوٹے کاروباری افراد (E-commerce) اپنی مصنوعات دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان کے کئی دور دراز اور پسماندہ علاقوں کا وہ ٹیلنٹ اسی ایپ کے ذریعے سامنے آیا ہے جسے کبھی مین اسٹریم میڈیا پر جگہ نہیں مل سکتی تھی۔

آگے کا راستہ کیا ہونا چاہیے؟

دنیا بھر میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے، بین (Ban) نہیں۔ مکمل پابندی کے بجائے ہمیں ڈیجیٹل لٹریسی (شعور) اور بہتر کمیونٹی گائیڈ لائنز پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت اور اس نئی بننے والی ‘سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی’ کو چاہیے کہ وہ ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک مؤثر اور تیز رفتار فلٹریشن سسٹم بنائیں، جو مقامی اقدار اور قوانین کے خلاف ورزی کرنے والے مواد کو خودکار طریقے سے ہٹا سکے۔

عدالت نے نئی اتھارٹی سے رپورٹ مانگ لی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار کوئی عملی اور جدید سوچ پر مبنی حل نکالا جائے گا، یا پھر ایک بار پھر شارٹ کٹ مارتے ہوئے عوام کی پسندیدہ ایپ کو بند کر دیا جائے گا؟ فیصلہ جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ آنکھیں بند کر لینے اور چیزوں پر پابندی لگا دینے سے ڈیجیٹل دنیا کے چیلنجز کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں