اہم خبریںپاکستاندنیا

اسلام آباد اکارڈ:کیا پاکستان بطور ثالث ٹرمپ پر اعتبار کر سکتا ہے؟

جون 2025 میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان بھارت جنگ بندی میں کردار پر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔

ایران امریکہ جنگ اب شدت اختیار کر چکی ہے اور دنیا اس جنگ سے ہونے والے معاشی نقصانات سے تنگ آ کر ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

ایسے میں ایران اور امریکہ کیلئے مشترکہ طور پر قابل قبول ثالث پاکستان کی صورت میں سامنے آیا ہے جس پر دونوں فریقین نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

سلام آباد نے خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ اسلام آباد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکاف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔

پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک "دو مرحلاتی معاہدے” کی تجویز پیش کی ہے جسے اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے ۔ جس میں 45 روزہ جنگ بندی کے بعد مستقل امن کا فریم ورک شامل ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عہد کرے گا اور بدلے میں پابندیوں سے نجات اور منجمد اثاثوں کی واپسی ملے گی۔

ٹرمپ: "امن کا رہنما” یا بے یقین کردار؟

یہاں وہ بنیادی سوال اٹھتا ہے جو لاکھوں پاکستانیوں اور ایرانیوں کے ذہنوں میں ہے: کیا ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ تاریخ کیا کہتی ہے؟ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں بے حد غیر متوقع ہیں۔ کل تک جسے "عظیم دوست” کہتے ہیں، آج اسی پر فوج بھیج دیتے ہیں۔

ایران کے ساتھ مذاکرات مارچ2025  سے اب تک دو بار شروع ہوئے اور دونوں بار امریکہ-اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے ناکام ہوئے۔ اسی لیے ایران کا امریکی سفارت کاری پر سے اعتماد بری طرح اٹھ چکا ہے۔

جون 2025 میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان-بھارت جنگ بندی میں کردار پر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔ اکتوبر 2025 میں شرم الشیخ (مصر) سربراہ اجلاس میں دوسری بار نامزدگی کا اعلان کیا جو کہ غزہ جنگ بندی کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا۔

یہ واقعہ پاکستانی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے: ہم نے طاقتور کو خوش کرنے کے لیے اصولوں سے سمجھوتہ کیا۔ ٹرمپ کو "امن کا آدمی” کہنا اور اگلے دن اسی کے حکم پر ایران بم باری کرنا یہ دونوں باتیں بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں۔ یہ نامزدگی نہ صرف ایک سفارتی غلطی تھی، بلکہ پاکستان کی علاقائی ساکھ کو بھی نقصان پہنچانے والی تھی۔

سب سے بڑا خطرہ: عارضی جنگ بندی کا جال

 

سب سے اہم سوال یہ ہے — اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: کیا اسرائیل اور امریکہ ایک عارضی جنگ بندی کو تیاری کا موقع استعمال کر سکتے ہیں؟ تاریخ اس خطے میں بار بار یہی سبق دیتی ہے۔

اسی لیے تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کے حصے کے طور پر آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا۔ ایران کا موقف ہے کہ جب تک مستقل اور قابلِ تصدیق ضمانتیں نہ ملیں، "تھوڑی دیر کے لیے رک جاؤ” والی بات ناقابلِ قبول ہے۔

ٹرمپ ایک ناقابل یقین کردار ہیں اور ایران جنگ نے ان کی سپر پاور کے صدر کے ہونے پر بھی سوالیہ نشان لگائے ہیں ۔

اسلام آباد اکارڈ کامیاب ہو جائے تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔ تاہم اس کامیابی میں ٹرمپ کو مکمل طور پر معاہدہ کا پابند کرنا ہوگا۔ کیونکہ اگر یہ کوشش ناکام ہوئی تو یہ پاکستان کیلئے اتنی بڑی سفارتی ناکامی بھی ہوگی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button