پاکستانی سیاست کا ذکر ہو اور لال حویلی کے باسی شیخ رشید احمد کا نام نہ آئے، ایسا تو ممکن ہی نہیں۔
کئی دہائیوں تک ملکی سیاست کے مرکز میں رہنے والے، اپنے مخصوص عوامی انداز اور چٹکلوں سے خبروں کی زینت بننے والے شیخ رشید نے اب ایک نیا اور حیران کن فیصلہ کیا ہے۔
نصف صدی تک سیاست کے خارزار میں قدم جمانے کے بعد، انہوں نے اپنا منسوخ شدہ وکالت کا لائسنس بحال کروانے کی درخواست دے دی ہے۔
ایک طویل سیاسی اننگز اور عوامی انداز
شیخ رشید کی سیاست کبھی بھی روایتی نہیں رہی۔ سگار پینا، لال حویلی کی بالکونی سے عوام سے خطاب کرنا اور مشکل ترین سیاسی حالات میں بھی اپنے مخصوص انداز میں پیش گوئیاں کرنا، ان کی پہچان رہی ہے۔
انہوں نے کونسلر کی سطح سے اپنا سیاسی سفر شروع کیا اور ملکی سیاست کے عروج تک پہنچے، جہاں انہوں نے اطلاعات، ریلوے اور داخلہ جیسی اہم وفاقی وزارتوں کے قلمدان سنبھالے۔
ان کا عوامی اسٹائل اور برجستہ گفتگو انہیں ہمیشہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنائے رکھتی ہے۔ لیکن حالیہ سیاسی کشمکش اور بدلتے حالات نے شاید اس منجھے ہوئے سیاستدان کو اپنے روایتی میدان سے ہٹ کر ایک نئی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
شیخ رشید کا سیاست سے وکالت تک کا سفر: آخر کیوں؟
یہ سوال ہر ذہن میں ابھر رہا ہے کہ 70 کی دہائی میں عملی سیاست کا آغاز کرنے والے شیخ صاحب کو 50 سال بعد اچانک کالا کوٹ کیوں یاد آ گیا؟
ذرائع اور حالیہ بیانات کے مطابق، شیخ رشید نے یہ فیصلہ محض وقت گزاری کے لیے نہیں بلکہ ایک واضح مقصد کے تحت کیا ہے۔
کیا شیخ رشید واقعی وکیل ہیں؟
نئی نسل کے بہت سے لوگوں کے لیے شاید یہ بات حیرت کا باعث ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شیخ رشید باقاعدہ قانون کی ڈگری یافتہ ہیں۔ انہوں نے اپنے طالب علمی کے دور میں گورڈن کالج سے سیاست کا آغاز کیا تھا اور بعد ازاں 1973 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی (LLB) کی ڈگری حاصل کی۔
تاہم، وہ عملی سیاست میں اس قدر متحرک رہے کہ کبھی باقاعدہ طور پر وکالت کی پریکٹس کا موقع ہی نہ مل سکا۔ اب، تقریباً 50 برس بعد، انہوں نے دوبارہ اپنے اسی تعلیمی پس منظر کی طرف لوٹنے کی ٹھان لی ہے۔
مستقبل کا منظر نامہ
شیخ رشید کا یہ قدم صرف ایک پیشہ ورانہ تبدیلی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک دلچسپ سیاسی پیشرفت بھی ہے۔ ان کا عدالتوں میں بطور وکیل پیش ہونا یقینی طور پر میڈیا کے لیے ایک بڑی خبر رہے گا۔
وہ سیاستدان جو پارلیمنٹ کے فلور اور پریس کانفرنسز میں گرجنے برسنے اور سیاسی مخالفین پر لفظی گولہ باری کے لیے مشہور تھا، اب قانونی دلائل کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نظر آئے گا۔
کیا شیخ رشید کی یہ دوسری اننگز بھی ان کی سیاسی اننگز کی طرح دھواں دار ثابت ہوگی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات طے ہے کہ کالے کوٹ میں ملبوس شیخ رشید کی عدالتوں میں انٹری، پاکستان کی قانونی اور سیاسی تاریخ میں ایک انوکھا اور دلچسپ باب ضرور رقم کرے گی۔