کسی بھی معاشرے کی ترقی کا سیدھا راستہ اس کے تعلیمی نظام سے ہو کر گزرتا ہے، اور اس نظام کی بنیاد وہ استاد ہے جو کلاس روم میں کھڑا ہوتا ہے۔
لیکن پنجاب میں حالیہ برسوں کے دوران تعلیم اور اساتذہ کے ساتھ جو نئے تجربات کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک انتہائی تکلیف دہ پہلو "سکول ٹیچنگ انٹرنز” (STIs) کی عارضی بھرتیاں ہیں۔
بظاہر تو یہ قدم سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے اٹھایا گیا، لیکن زمینی حقائق اور ان نوجوانوں کی کہانیاں ایک مختلف اور افسوسناک حقیقت بیان کرتی ہیں۔
اعلیٰ تعلیم مگر ادنیٰ مراعات
آج اگر آپ پنجاب کے سرکاری سکولوں کا دورہ کریں، تو آپ کو حیرت ہوگی کہ ان عارضی آسامیوں پر بھرتی ہونے والے زیادہ تر نوجوان ‘ہائلی کوالیفائیڈ’ (Highly Qualified) ہیں۔
ان میں سے کئی ایم فل (M.Phil) اور ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہیں، اور بعض اوقات ان کی تعلیمی قابلیت ان سکولوں کے مستقل پرنسپلز یا ہیڈ ماسٹرز سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے باوجود، نظام انہیں محض ایک "انٹرن” یا دیہاڑی دار مزدور کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان نوجوانوں کے کاندھوں پر تعلیمی ذمہ داریاں تو مستقل اساتذہ کے برابر ڈال دی گئی ہیں، لیکن جب بات حقوق اور مراعات کی آتی ہے تو ان کے حصے میں صرف امتیازی سلوک آتا ہے۔
معاشی عدم استحکام اور تنخواہوں کا بحران
ایک استاد جو اپنے گھر کا چولہا جلانے کی فکر میں مبتلا ہو، وہ کلاس روم میں کس طرح مکمل یکسوئی سے پڑھا سکتا ہے؟ ایس ٹی آئیز کا سب سے بڑا المیہ مالی عدم استحکام ہے۔
تاخیر کا شکار تنخواہیں: ان نوجوانوں کو کئی کئی ماہ تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں۔ وہ مہینوں ادھار مانگ کر سکول پہنچتے ہیں تاکہ بچوں کا حرج نہ ہو۔
چھٹیوں کی کٹوتی: گرمیوں یا سردیوں کی چھٹیوں میں انہیں کوئی تنخواہ نہیں دی جاتی، جیسے ان مہینوں میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو بھوک نہیں لگتی یا ان کے بلز نہیں آتے۔
حالیہ بے چینی: 21 مئی بمقابلہ 31 مئی کا کٹ آف
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک پر موجود STIs کے گروپس میں ایک شدید بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔ ان نوجوانوں سے جو کنٹریکٹ سائن کروایا گیا تھا، اس کی مدت 31 مئی تک تھی۔ قاعدے اور قانون کے مطابق انہیں پورے مہینے کی تنخواہ ملنی چاہیے تھی۔ لیکن اب جو سیلری پروپوزلز (Salary Proposals) بن رہے ہیں، ان میں مبینہ طور پر صرف 21 مئی تک کی حاضری شامل کی جا رہی ہے۔
ایک عام سا سوال: کیا محض عید کی تعطیلات اور گرمیوں کی چھٹیوں کے چند دن شروع ہونے کی وجہ سے حکومت کے لیے ان نوجوانوں کو ان کے جائز 10 دن کے پیسے دینا اتنا بوجھ بن گیا ہے؟
یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ نظام ان پڑھے لکھے نوجوانوں کو انسان نہیں بلکہ ایک مشینی پرزہ سمجھتا ہے، جسے جب ضرورت ہو استعمال کیا جائے اور جب چھٹیاں آئیں تو تنخواہ بچانے کے لیے پلگ نکال دیا جائے۔
دعوے اور حقیقت کا تضاد
وزیرِ تعلیم پنجاب، رانا سکندر حیات، اور دیگر حکومتی عہدیداران کی جانب سے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیوں، سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی بہتری کے لیے اکثر بڑے دعوے سننے کو ملتے ہیں۔
لیکن جب تک زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، یہ تمام دعوے محض طفل تسلیاں محسوس ہوتے ہیں۔ ایک طرف ہم معیاری تعلیم کا خواب دیکھتے ہیں اور دوسری طرف ان نوجوانوں کا معاشی استحصال کر رہے ہیں جو اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک انسانی المیہ جس پر توجہ کی ضرورت ہے
یہ معاملہ محض چند ہزار روپوں یا چند دن کی تنخواہ کا نہیں ہے؛ یہ ریاست کے اس رویے کا عکاس ہے جو وہ اپنے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے۔
جب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روزانہ سکول جاتا ہے، پوری لگن سے پڑھاتا ہے، اور پھر مہینے کے آخر میں دیکھتا ہے کہ اس کی تنخواہ میں سے 10 دن کاٹ لیے گئے ہیں، تو اس کا دل تعلیم اور نظام دونوں سے اچاٹ ہو جاتا ہے۔
حکومت سکول ٹیچنگ انٹرنز سے ناروا سلوک بند کرے
تعلیمی نظام کو پرائیویٹائز کرنے یا عارضی بھرتیوں کے ماڈل پر چلانے سے شاید کاغذوں میں اعداد و شمار بہتر ہو جائیں اور بجٹ میں کچھ بچت ہو جائے، لیکن اس سے ایک پوری نسل کا مستقبل اور اساتذہ کی عزتِ نفس تباہ ہو رہی ہے۔
حکومتِ وقت کو چاہیے کہ وہ سکول ٹیچنگ انٹرنز کے ساتھ ہونے والے اس استحصالی رویے کو ختم کرے۔ کٹوتیوں اور تاخیر کی بجائے، ان کے جائز حقوق انہیں بروقت اور پورے دیے جائیں تاکہ وہ ذہنی سکون کے ساتھ اس قوم کے معمار ہونے کا اپنا فرض ادا کر سکیں۔