رانا سکندر حیات 24

وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کو تعلیم کی ضرورت ہے

کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے میں استاد کا درجہ محض ایک سرکاری ملازم کا نہیں ہوتا، بلکہ وہ قوم کے مستقبل کا معمار اور ریاست کا سب سے اہم ستون تصور کیا جاتا ہے۔

جاپان سے لے کر فن لینڈ تک، تعلیمی نظام کی کامیابی کا راز جدید عمارتوں میں نہیں بلکہ اساتذہ کو دی جانے والی عزت اور ان کی سماجی تکریم میں پوشیدہ ہے۔

لیکن بدقسمتی سے پاکستان، خاص طور پر صوبہ پنجاب میں، تعلیم کا شعبہ اکثر و بیشتر اصلاحات کے نام پر سیاسی بیان بازی، تجربات اور اساتذہ کی تذلیل کا شکار رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی جانب سے سرکاری اساتذہ کے حوالے سے دیے گئے بیانات نے ایک نئی اور تشویشناک بحث کو جنم دیا ہے۔

ایک طرف وزیرِ تعلیم نظام میں موجود خامیوں، بوٹی مافیا اور کرپشن کی نشاندہی کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ان کا لب و لہجہ اور پوری تدریسی برادری پر عمومی الزامات کی بوچھاڑ سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔

 

پس منظر: نظامِ تعلیم اور اساتذہ کا بحران

 

پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ سے وسائل کی کمی، ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی مداخلت کا شکار رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں (Out-of-school children)، جن میں ایک بڑی تعداد پنجاب سے ہے۔

سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی ہیں، انفراسٹرکچر کی خستہ حالی (دیواروں، واش رومز اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی) ایک عام سی بات ہے۔

ایسے میں جب کوئی نئی حکومت آتی ہے تو وہ نظام کی ان خامیوں کو دور کرنے کے بجائے اکثر ‘شارٹ کٹ’ پالیسیوں یا الزامات کی سیاست کا سہارا لیتی ہے۔

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا دور بھی اسی کشمکش کا حصہ نظر آتا ہے، جہاں امتحانات میں نقل (Cheating Mafia) کے خلاف ان کے کریک ڈاؤن کو عوامی سطح پر پذیرائی تو ملی، لیکن اساتذہ کے خلاف ان کے غیر محتاط بیانات نے اس ساری مہم کو متنازع بنا دیا۔

 

وزیرِ تعلیم کے متنازع بیانات: ایک تفصیلی جائزہ

 

گزشتہ چند ماہ کے دوران وزیر تعلیم کی جانب سے مختلف پریس کانفرنسوں، تقاریب اور سوشل میڈیا پر ایسے بیانات سامنے آئے جنہوں نے اساتذہ برادری میں شدید بے چینی پیدا کی۔

 

1. پندرہ ہزار روپے تنخواہ لینے والے نجی استاد کا موازنہ

 

وزیر تعلیم کا ایک دعویٰ جس نے سب سے زیادہ تنقید سمیٹی، وہ یہ تھا کہ "نجی سکولوں میں 15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا استاد، ایک لاکھ روپے لینے والے سرکاری استاد سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔

” بظاہر یہ جملہ سرکاری اساتذہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگانے کے لیے کہا گیا، لیکن اس نے نادانستہ طور پر حکومت کی اپنی قانون عملداری پر ایک بہت بڑا سوال کھڑا کر دیا۔

 

2. پنکھے، ٹونٹیاں اور بجلی کا سامان چوری کرنے کا الزام

 

ایک اور موقع پر انہوں نے سرکاری اساتذہ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اساتذہ سکولوں سے پنکھے، ٹونٹیاں اور بجلی کا سامان چوری کرنے یا بیچنے میں ملوث ہیں۔ ایسے بیانات نے جہاں اساتذہ کی عزتِ نفس کو مجروح کیا، وہیں یہ تاثر بھی دیا کہ گویا پورا سرکاری تعلیمی نظام چوروں پر مشتمل ہے۔

 

3. وضاحتی بیان اور "لسٹ آف 1000” (List of 1000 Teachers)

 

جب ان بیانات پر گرینڈ ٹیچرز الائنس (GTA) اور دیگر اساتذہ تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل آیا، سکولوں کی تالابندی ہوئی اور سڑکوں پر احتجاج شروع ہوا، تو وزیر تعلیم نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی وضاحتی بیان جاری کیا.

اپنے بیان میں‌رانا سکندر حیات کا یہ تسلیم کرنا کہ 70 سے 75 فیصد اساتذہ اچھے ہیں، خوش آئند ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض 25 فیصد (یا اس سے کم) کی بنیاد پر میڈیا میں پوری کمیونٹی کو تضحیک کا نشانہ بنانا درست پالیسی ہے؟

تاہم انہوں نے اپنے بیان پر معافی نہ مانگی . انہوں نے ایک ہزار کرپٹ یا غیر حاضر اساتذہ کی فہرست جاری کرنے کا اعلان کیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق محکمے نے کئی اساتذہ کو معطل کیا، لیکن کیا واقعی ان تمام افراد پر چوری یا بوٹی مافیا کے الزامات آزادانہ انکوائری سے ثابت ہوئے، یا یہ محض انتظامی انتقامی کارروائی تھی؟ اساتذہ تنظیموں کے مطابق، کئی معطلیاں بغیر کسی ٹھوس ثبوت اور صفائی کا موقع دیے بغیر کی گئیں۔

 

کم از کم اجرت کا قانونی و اخلاقی تضاد

 

چند روز قبل وزیر تعلیم نے ایک بیان میں‌پرائیوٹ اداروں میں‌15 ہزار تنخواہ لینے والوں کو ایک لاکھ والے سرکاری اداروں‌کے استاتذہ سے موازنہ کرتے ہوئے 15 ہزار والے استاد کو بہتر قرار دیا. ان کے اس بیان کا ایک قانونی پہلو انتہائی سنگین ہے۔

پاکستان اور خصوصاً پنجاب کے لیبر قوانین کے مطابق، کم از کم اجرت (Minimum Wage) 32,000 سے لے کر 37,000 روپے مقرر ہے۔

ایک صوبائی وزیر جو کہ کابینہ کا حصہ ہے اور ریاست کی رٹ نافذ کرنے کا پابند ہے، اگر وہ کھلے عام اس بات کا اعتراف اور ایک طرح سے توثیق کر رہا ہے کہ نجی سکول 15 ہزار روپے دے کر اساتذہ کا استحصال کر رہے ہیں، تو یہ بذاتِ خود قانون کی کھلی خلاف ورزی کو معمول (Normalize) بنانے کے مترادف ہے۔

اگر نجی سکول کا استاد 15 ہزار میں بہتر پڑھا رہا ہے، تو وہ شوق سے نہیں بلکہ بے روزگاری کے خوف اور معاشی مجبوری کی وجہ سے پڑھا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ان نجی سکولوں کے مالکان کے خلاف کارروائی کرتی جو پڑھے لکھے نوجوانوں کو کم از کم اجرت سے بھی آدھی تنخواہ دے کر لیبر قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ اس کی بجائے وزیر کی جانب سے اسے ایک ‘مثالی ماڈل’ کے طور پر پیش کرنا، حکومت کی اپنی معاشی اور سماجی پالیسیوں پر ایک طمانچہ ہے۔

 

ماہرین تعلیم اور صحافتی نقطہ نظر

 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے سرکاری تعلیمی نظام میں خرابیاں موجود ہیں۔ واقعی کچھ ایسے اساتذہ ہیں جو ڈیوٹی پر نہیں جاتے، جو سیاست کرتے ہیں، اور جو بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں.

ایسے عناصر کے خلاف رانا سکندر حیات یا کسی بھی حکومت کا ایکشن قابلِ ستائش ہے۔ بوٹی مافیا کے خلاف وزیر تعلیم کی ابتدائی کارروائیوں کو عوام نے سراہا تھا۔

لیکن خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جب آپ کا لب و لہجہ جارحانہ، استہزائی اور تضحیک آمیز ہو جائے۔ جب آپ چند افراد کے جرائم کی سزا پوری برادری کی عزتِ نفس کچل کر دیتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور صوبائی حکومت محاذ آرائی کی بجائے مکالمے (Dialogue) کا راستہ اپنائے۔ اساتذہ کو اپنا حریف نہیں بلکہ تعلیمی ایمرجنسی میں اپنا اتحادی سمجھے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ استاد کی عزت کیے بغیر نہ تو کوئی قوم آج تک معاشی ترقی کر سکی ہے اور نہ ہی اخلاقی بلندی حاصل کر سکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں