پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی 34

پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کیا ہے اور حکومت اسے اختیارات کیوں‌دینا چاہتی؟

پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی 2025 کے Digital Nation Pakistan Act کے تحت قائم کی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی نگرانی، قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان پر عمل درآمد، سرکاری اداروں کے درمیان ہم آہنگی، اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا ہے۔

قانون کے مطابق اتھارٹی ڈیٹا گورننس، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ گورننس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے معیارات بھی تجویز کر سکتی ہے۔

 

نئے اختیارات کیا ہو سکتے ہیں؟

 

حالیہ مجوزہ National Data Governance Policy 2026 کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو وفاقی اداروں کے ڈیٹا کے معیار، استعمال اور شیئرنگ پر زیادہ اختیار دیا جا سکتا ہے۔ مجوزہ اختیارات میں:

  • سرکاری اداروں کے لیے ڈیٹا گورننس کے معیارات مقرر کرنا۔
  • اداروں کے ڈیٹا سسٹمز کا آڈٹ کرنا۔
  • ہدایات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں اصلاحی اقدامات تجویز کرنا۔
  • قومی سطح پر ڈیٹا میچورٹی انڈیکس جاری کرنا۔
  • مختلف سرکاری اداروں کے درمیان محفوظ ڈیٹا شیئرنگ کا فریم ورک تیار کرنا۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ اختیارات ابھی مجوزہ پالیسی کا حصہ ہیں اور ان پر مکمل قانونی عمل درآمد سے پہلے حکومتی منظوری درکار ہوگی۔

 

حکومت یہ تبدیلی کیوں چاہتی ہے؟

 

حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں مختلف اداروں کے پاس موجود ڈیٹا الگ الگ نظاموں میں بکھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے بہتر پالیسی سازی، عوامی خدمات اور ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مربوط ڈیٹا گورننس سے ای گورننس بہتر ہوگی، سرمایہ کاری بڑھے گی، مصنوعی ذہانت کے استعمال میں آسانی ہوگی اور سرکاری خدمات زیادہ مؤثر بن سکیں گی۔

 

پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سے عام شہری پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

 

اگر یہ پالیسی نافذ ہوتی ہے تو عام شہری کو زیادہ مربوط ڈیجیٹل سرکاری خدمات مل سکتی ہیں، مثلاً مختلف سرکاری اداروں میں ایک ہی معلومات بار بار جمع کرانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ فری لانسرز، اسٹارٹ اپس اور آئی ٹی کمپنیوں کے لیے بھی بہتر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور واضح پالیسیوں کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر مضبوط ڈیٹا پروٹیکشن قوانین، عدالتی نگرانی اور شفاف احتساب نہ ہوا تو شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ، نگرانی (Surveillance) اور آزادیٔ اظہار سے متعلق خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

 

کن اداروں سے اختیارات ٹکرا سکتے ہیں؟

 

ماہرین کے مطابق مستقبل میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے بعض اختیارات موجودہ اداروں، جیسے PTA، NADRA، NCCIA اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار سے جزوی طور پر مل سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ جہاں دوسرے

 

عالمی مثالیں

 

یورپی یونین، سنگاپور، جنوبی کوریا اور بھارت سمیت کئی ممالک نے بھی ڈیجیٹل گورننس اور ڈیٹا مینجمنٹ کے لیے مرکزی ادارے یا جامع فریم ورک قائم کیے ہیں۔ تاہم ان ممالک میں عام طور پر ڈیٹا پروٹیکشن قوانین، آزاد ریگولیٹرز اور عدالتی نگرانی بھی موجود ہوتی ہے تاکہ ریاستی اختیارات اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن برقرار رہے۔

 

پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام وقت کی ضرورت

 

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے مؤثر ڈیٹا گورننس کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو مزید اختیارات دینے کی حکومتی تجویز سرکاری خدمات، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ شفافیت، پرائیویسی، عدالتی نگرانی اور مؤثر احتساب کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔

فی الحال یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ حالیہ رپورٹوں میں بیان کیے گئے کئی اختیارات مجوزہ National Data Governance Policy 2026 سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں نافذ شدہ قانون سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں