جمعہ کی شام جب حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں میں 22، 22 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان ہوا، تو یہ خبر عام آدمی کے لیے بظاہر کسی خوشخبری سے کم نہیں تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 6 سے 7 روپے فی لیٹر کا ریلیف دیا تھا۔
مسلسل دو ریلیف ملنے کے بعد اب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 380 روپے اور پیٹرول کی قیمت 381 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ سیٹ ہو گئی ہے۔
خبروں کی حد تک یہ بہت شاندار لگتا ہے، لیکن اگر ہم ایک عام پاکستانی کی نظر سے اس صورتحال کا تجزیہ کریں تو یہ کمی محض ایک سراب کے سوا کچھ نہیں لگتی۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی،حقیقت کیا ہے؟
جب ہم اس وقتی خوشی کے غبارے میں حقیقت کی سوئی چبھوتے ہیں، تو اصل تصویر واضح ہوتی ہے۔ قیمتوں میں یہ حالیہ کمی عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کا نتیجہ ہے، لیکن کیا حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اپنے منافع یا ٹیکسز میں کوئی کٹوتی کی؟ اس کا جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے
۔
اس وقت پاکستانی عوام پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) ادا کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط اور حکومتی ریونیو کے اہداف پورے کرنے کے لیے حکومت پیٹرول اور ڈیزل کے ہر لیٹر پر 60 روپے تک لیوی وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی، ڈیلر مارجن اور دیگر چارجز اس کے علاوہ ہیں۔
اصل قیمت کیا ہے؟
ذرا تصور کریں، اگر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت پر فی لیٹر 60 روپے کی یہ لیوی اور دیگر بھاری حکومتی ٹیکسز نکال دیے جائیں، تو پیٹرول کی اصل (ایکس ریفائنری) قیمت کتنی بنے گی؟
ماہرینِ معیشت کے مطابق، ٹیکسز اور لیوی کے بغیر پیٹرول کی اصل قیمت بمشکل 280 سے 300 روپے کے درمیان بنتی ہے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس "اصل قیمت” تک واپس آنا اب ایک ناممکن خواب بن چکا ہے،
کیونکہ حکومت کی معاشی گاڑی کا پہیہ عوام کی جیب سے نکلنے والے اسی لیوی کے پیسوں سے چل رہا ہے۔
پاکستان کا المیہ: جو قیمت اوپر جائے، وہ نیچے نہیں آتی
پاکستان کے معاشی نظام کا ایک بہت بڑا اور تکلیف دہ المیہ یہ ہے کہ یہاں جس چیز کی قیمت ایک بار اوپر چلی جائے، وہ دوبارہ کبھی اپنی پرانی سطح پر نہیں آتی۔
ٹرانسپورٹ اور کرائے: جب پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے کا بھی اضافہ ہوتا ہے، تو رکشہ، ٹیکسی، اور پبلک ٹرانسپورٹ والے فوری طور پر کرائے بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن آج جب مجموعی طور پر تقریباً 28 سے 29 روپے کی کمی ہو چکی ہے، تو کیا کسی روٹ کا کرایہ کم ہوا؟
اشیاءِ خورونوش: مال برداری (Freight) کے چارجز بڑھنے کا بہانہ بنا کر سبزی، پھل، دالوں اور دیگر اشیاءِ ضروریہ کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ پیٹرول سستا ہونے کے بعد بھی یہ قیمتیں وہیں کی وہیں جمی ہوئی ہیں۔ منافع خوروں اور مڈل مین کو لگام ڈالنے والا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
ٹیکسوں کی کمی سے حقیقی ریلیف ممکن
جب تک حکومت لیوی کی مد میں اپنا حصہ کم نہیں کرتی اور ضلعی انتظامیہ اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے متحرک نہیں ہوتی، پیٹرول پمپ کی مشین پر گرتے ہوئے ہندسے غریب کے گھر کا چولہا گرم نہیں کر سکتے۔
عوام کو اصل ریلیف اس دن محسوس ہوگا جب یہ کمی ان کی گروسری کی رسید اور ٹرانسپورٹ کے کرائے میں نظر آئے گی۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس ریلیف کے بعد مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی؟