ایک طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پر گمنامی اور بحرانوں کا شکار رہنے کے بعد، پاکستانی فٹبال کے افق پر بالآخر امید کی ایک روشن کرن نمودار ہوئی ہے۔
حال ہی میں قومی ٹیم نے 74 سالہ جمود کو توڑتے ہوئے ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کے فائنل میں افغانستان کو 0-2 سے شکست دے کر ایک تاریخی ٹائٹل اپنے نام کیا۔
لیکن اس فتح کی گونج ابھی تھمی بھی نہیں تھی کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کو ایک اور غیر معمولی اعزاز حاصل ہو گیا ہے: فیفا آسیان کپ (FIFA ASEAN Cup) میں شرکت کی باقاعدہ دعوت۔
یہ پیش رفت محض ایک خبر نہیں، بلکہ پاکستانی فٹبال کی عالمی سطح پر واپسی کا ایک انتہائی اہم اور مدلل باب ہے۔
فیفا آسیان کپ: ایک غیر معمولی موقع اور چیلنج
21 ستمبر سے 6 اکتوبر تک انڈونیشیا میں شیڈول یہ نیا فیفا ٹورنامنٹ پاکستان کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پی ایف ایف (PFF) کے صدر محسن گیلانی اور فیفا قیادت کے درمیان کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں پاکستان کو اس ایونٹ کے ‘ڈویژن 1’ میں شامل کیا گیا ہے۔
اس ٹورنامنٹ کی اہمیت کے چند بنیادی پہلو یہ ہیں:
-
تاریخی سنگِ میل: ورلڈ کپ اور براعظمی کوالیفائنگ راؤنڈز کے علاوہ، یہ کسی بھی باقاعدہ اور بڑے فیفا ٹورنامنٹ میں پاکستان کی پہلی شرکت ہوگی۔
-
اعلیٰ سطح کی مسابقت: ڈویژن 1 میں پاکستان کا مقابلہ تھائی لینڈ، ملائیشیا، سنگاپور، فلپائن، اور میزبان انڈونیشیا جیسی تیز اور تکنیکی اعتبار سے مضبوط ٹیموں سے ہوگا۔ اس سے کھلاڑیوں کو وہ جدید ‘میچ ٹمپرامنٹ’ ملے گا جو مقامی سطح پر ناپید ہے۔
-
پاک-بھارت ٹاکرا: اس ایونٹ کی سب سے بڑی کشش بھارت کی موجودگی ہے۔ فٹبال کے میدان میں روایتی حریفوں کا یہ ٹکراؤ نہ صرف شائقین کے جذبات کو عروج پر لے جائے گا، بلکہ عالمی نشریاتی اداروں کی توجہ بھی پاکستانی کھلاڑیوں پر مرکوز کر دے گا، جو ان کے لیے غیر ملکی کلبز تک رسائی کا زینہ بن سکتا ہے۔
فٹبال کا جنون اور زوال: ہم پیچھے کیوں رہ گئے؟
فیفا آسیان کپ کی اس خوشخبری کے ساتھ ہی یہ سوال بھی شدت سے ابھرتا ہے کہ لیاری کی گلیوں، بلوچستان کے سنگلاخ میدانوں اور خیبر پختونخوا کی وادیوں میں فٹبال کا بے پناہ جنون رکھنے والا ملک بین الاقوامی سطح پر اتنا پیچھے کیوں رہ گیا؟ اس کی وجوہات کھلاڑیوں کی صلاحیت میں نہیں، بلکہ ساختی اور انتظامی خامیوں میں پوشیدہ ہیں:
-
انتظامی بحران اور فیفا کی پابندیاں: دہائیوں تک پاکستان فٹبال فیڈریشن اندرونی سیاست اور دھڑے بندیوں کا شکار رہی۔ اس رسہ کشی کے باعث فیفا نے پاکستان پر متعدد بار طویل پابندیاں عائد کیں۔ ان پابندیوں نے نسل در نسل ہمارے باصلاحیت کھلاڑیوں کو بین الاقوامی میچز اور عالمی تجربے سے محروم رکھا۔
-
پروفیشنل لیگ کا فقدان: آج کی دنیا میں فٹبال کلبز اور کمرشل لیگز کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔ ہمارے پڑوسی ممالک (جیسے بھارت اور بنگلہ دیش) نے پروفیشنل لیگز بنا کر اپنا معیار بلند کر لیا، جبکہ پاکستان میں فرسودہ ‘محکماتی (Departmental) کھیلوں’ کا نظام رائج رہا، جس نے کھلاڑیوں میں جدید مسابقت اور پروفیشنل ازم کو پنپنے ہی نہیں دیا۔
-
وسائل کی غیر مساوی تقسیم: یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کا سارا معاشی، کارپوریٹ اور حکومتی ڈھانچہ کرکٹ کے گرد گھومتا ہے۔ کرکٹ کے غلبے کی وجہ سے فٹبال کی نچلی سطح (Grassroots) کی ترقی، اکیڈمیز کے قیام اور جدید گراؤنڈز کے لیے فنڈز ہمیشہ ایک سراب ہی ثابت ہوئے۔
پاکستان فٹبال ٹیم کا اچھا دور شروع ہونے کو
افغانستان کے خلاف حالیہ فتح اور اب فیفا آسیان کپ میں شرکت کا موقع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نامساعد حالات اور برسوں کی نظر اندازی کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں کا ٹیلنٹ ختم نہیں ہوا۔
اگر فٹبال کو سیاست سے پاک کر کے ایک پروفیشنل لیگ کی بنیاد رکھی جائے اور ان کھلاڑیوں کو مسلسل بین الاقوامی مقابلوں کا حصہ بنایا جائے، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا نام فٹبال کی عالمی رینکنگ میں بھی ایک باوقار مقام پر جگمگائے گا۔ آسیان کپ اس طویل اور کٹھن سفر کا پہلا اور شاندار قدم ہے۔