ایرانی جھنڈا 27

لاس اینجلس کے فیفا میچ میں‌ایرانی پرچم لہر ا دیا گیا

لاس اینجلس کے مشہور SoFi اسٹیڈیم میں جب فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک اہم مقابلے سے قبل ایرانی پرچم نمایاں انداز میں بڑی اسکرینوں اور شائقین کے درمیان نظر آیا تو یہ منظر صرف ایک کھیل کی تقریب تک محدود نہ رہا۔ چند ہی لمحوں میں اس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن گئیں۔

 

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، سیاسی اختلافات اور خطے میں جاری تنازعات کے پس منظر میں یہ منظر بہت سے لوگوں کے لیے غیر معمولی تھا۔ا

 

ایک طرف اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں ایرانی نژاد افراد اپنے وطن کی نمائندگی پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے، تو دوسری جانب بعض حلقے اسے ایک سیاسی علامت کے طور پر بھی دیکھ رہے تھے۔

 

صرف ایک جھنڈا نہیں، شناخت کی علامت

 

لاس اینجلس دنیا کی سب سے بڑی ایرانی تارکینِ وطن آبادیوں میں سے ایک کا گھر سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران کے میچز میں جذباتی وابستگی عام کھیلوں کے مقابلوں سے کہیں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

شائقین مختلف اقسام کے ایرانی پرچم اور قومی علامات کے ساتھ اسٹیڈیم پہنچے، جن میں بعض وہ تاریخی نشان بھی شامل تھے جو ایران کے سیاسی حلقوں میں حساس سمجھے جاتے ہیں۔

بہت سے ایرانی نژاد امریکیوں کے لیے یہ لمحہ سیاسی نہیں بلکہ ثقافتی شناخت اور اپنے آبائی وطن سے تعلق کے اظہار کا ذریعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پرچم کی موجودگی نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی۔

 

فیفا  کا  کا کردار: سیاست سے بالاتر یا سیاست کے درمیان؟

 

فیفا کا ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ فٹبال لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ تقسیم کرنے کا۔ لیکن 2026 کا ورلڈ کپ متعدد سیاسی اور جغرافیائی تنازعات کے سائے میں کھیلا جا رہا ہے۔

ایران کی ٹیم کو ویزا مسائل، سفری پابندیوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث امریکہ کے بجائے میکسیکو کے شہر تیخوانا میں قیام کرنا پڑا، جہاں سے وہ میچ کھیلنے کے لیے امریکہ آتی رہی۔ بعض ایرانی حکام اور عملے کے افراد کو ویزا نہ ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ان تمام مشکلات کے باوجود فیفا نے ایران کی شرکت برقرار رکھی اور یہ مؤقف اپنایا کہ عالمی فٹبال مقابلوں میں تمام اہل ٹیموں کو کھیلنے کا حق حاصل ہے۔

 

کھیل کے میدان میں سیاست کا عکس

 

SoFi اسٹیڈیم کے باہر بعض ایرانی نژاد گروہوں نے احتجاج بھی کیا جبکہ اندر ہزاروں شائقین اپنی ٹیم کی حمایت میں موجود تھے۔ یہی تضاد آج کے عالمی کھیلوں کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جہاں فٹبال صرف 90 منٹ کا کھیل نہیں بلکہ قوموں، شناختوں اور جذبات کا اظہار بھی بن جاتا ہے۔

ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلہ 2-2 سے برابر ختم ہوا، لیکن میدان سے باہر ہونے والی بحث شاید اس اسکور سے کہیں زیادہ دیر تک جاری رہے گی۔

 

امن کی جانب ایک ہلکی سی امید

 

اگرچہ ایران اور امریکہ کے تعلقات حالیہ برسوں  اور گزشتہ چند ماہ میں  بالخصوص شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں، لیکن حالیہ سفارتی کوششوں اور جنگ بندی و امن مذاکرات کی خبروں نے دنیا بھر میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔

شاید اسی لیے SoFi اسٹیڈیم میں لہراتا ہوا ایرانی پرچم صرف ایک قومی علامت نہیں تھا بلکہ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی تھا کہ کھیل وہ زبان ہے جسے سرحدیں، نظریات اور سیاست مکمل طور پر خاموش نہیں کر سکتیں۔

فٹبال کے میدان میں مخالف ٹیمیں ضرور آمنے سامنے کھڑی ہوتی ہیں، مگر اسٹیڈیم کی گیلریوں میں بیٹھے انسان اکثر ایک ہی خواہش رکھتے ہیں: امن، احترام اور ایک بہتر مستقبل۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں