جے یو آئی (ف) 5

جے یو آئی (ف) اپنی امیدوار سے لاتعلقی، عدالت نے رشتہ برقرار رکھ دیا

پاکستان کی سیاست میں دلچسپ واقعات کی کوئی کمی نہیں، لیکن بعض معاملات ایسے بھی سامنے آتے ہیں جہاں ایک سیاسی جماعت کو اپنی ہی امیدوار کی پہچان کے لیے الیکشن کمیشن اور عدالتوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اب جمعیت علمائے اسلام (ف) اور صدف احسان کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے۔ جماعت مسلسل کہہ رہی ہے کہ صدف احسان ہماری امیدوار نہیں، لیکن الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ وہ جے یو آئی ہی کی امیدوار ہیں، اور اب وفاقی آئینی عدالت نے بھی اسی مؤقف پر مہر ثبت کردی ہے۔

گویا جماعت کو اپنی امیدوار کا پتا نہیں، لیکن الیکشن کمیشن اور عدالت کو خوب معلوم ہے کہ ان کی امیدوار کون ہے!

 

تنازع شروع کیسے ہوا؟

 

یہ دلچسپ قانونی تنازع 2024ء میں شروع ہوا، جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدف احسان کو جے یو آئی (ف) کی خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی نوٹیفائی کردیا۔ اس فیصلے پر مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت نے شدید اعتراض اٹھایا اور الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر واضح کیا کہ صدف احسان ان کی امیدوار ہی نہیں ہیں۔

جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ پارٹی نے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے چار امیدواروں کے ناموں پر مشتمل ترجیحی فہرست جمع کرائی تھی، لیکن الیکشن کمیشن نے اس فہرست میں تبدیلی کرتے ہوئے صدف احسان کو رکن قومی اسمبلی کیسے بنا دیا؟ جماعت کے مطابق امیدواروں کی فہرست میں ردوبدل کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں تھا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی وضاحت بھی خاصی دلچسپ تھی۔ کمیشن کے مطابق جے یو آئی کی فہرست میں صدف یاسمین کا نام موجود تھا، لیکن صدف یاسمین کے نام سے کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے، جبکہ صدف احسان نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

یعنی جماعت ایک نام بتا رہی تھی اور الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں ایک دوسرا نام موجود تھا۔ نتیجتاً صدف احسان کو جماعت کی امیدوار قرار دے کر مخصوص نشست پر نوٹیفائی کردیا گیا۔

 

جے یو آئی (ف) نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کردیا

 

جے یو آئی (ف) نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا۔ جماعت کا مؤقف تھا کہ جب صدف احسان کو پارٹی نے امیدوار ہی نامزد نہیں کیا تو انہیں جے یو آئی کی مخصوص نشست کیسے دی جاسکتی ہے؟

دوسری طرف الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر قائم رہا۔ معاملہ مختلف قانونی مراحل سے گزرتا ہوا وفاقی آئینی عدالت تک پہنچ گیا۔ اس دوران 28 جنوری 2026ء کو الیکشن کمیشن نے حنا بی بی کی جانب سے دائر درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے صدف احسان کی رکنیت برقرار رکھی تھی۔

 

اب وفاقی آئینی عدالت نے بھی فیصلہ سنا دیا!

 

5 نومبر 2026ء کو اس معاملے پر وفاقی آئینی عدالت میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جے یو آئی (ف) کی اپیل کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جے یو آئی کے وکیل اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ایک مرتبہ پھر جماعت کا مؤقف دہرایا کہ صدف احسان ان کی امیدوار نہیں تھیں اور الیکشن کمیشن نے پارٹی کی فراہم کردہ فہرست میں اپنی طرف سے تبدیلی کی تھی۔

تاہم عدالت نے جے یو آئی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس طرح صدف احسان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی برقرار رہی اور جماعت کو عدالت سے بھی مطلوبہ ریلیف نہ مل سکا۔

 

جماعت کہتی ہے ہماری نہیں، ادارے کہتے ہیں آپ ہی کی ہیں!

 

اس پورے معاملے کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ ایک سیاسی جماعت اپنی ہی مخصوص نشست پر موجود رکن قومی اسمبلی کو اپنا امیدوار ماننے سے انکاری ہے۔ پہلے الیکشن کمیشن نے کہا کہ صدف احسان جے یو آئی کی امیدوار ہیں، پھر الیکشن کمیشن نے ایک اور درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کی رکنیت برقرار رکھی اور اب وفاقی آئینی عدالت نے بھی جماعت کی اپیل خارج کردی ہے۔

یوں مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کی جانب سے صدف احسان سے لاتعلقی کا اظہار اپنی جگہ، لیکن الیکشن کمیشن اور وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ موجود ہے۔

اب اسے سیاسی طنز کہیں یا انتخابی نظام کا ایک منفرد واقعہ، حقیقت یہ ہے کہ صدف احسان کو اپنی امیدوار ماننے کے معاملے پر جے یو آئی اور ملکی انتخابی و عدالتی اداروں کے درمیان مؤقف کا واضح تضاد برقرار ہے۔

فی الحال صورت حال یہ ہے کہ مولانا کی جماعت اپنی امیدوار کو پہچاننے سے انکاری ہے، لیکن الیکشن کمیشن اور وفاقی آئینی عدالت دونوں انہیں جے یو آئی کی امیدوار قرار دے چکے ہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں