ترقی 31

جو شخص کمپنی میں‌آپ کی ترقی میں‌رکاوٹ تھا کل رات اسکا انتقال ہوگیا

‏کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اسکی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا:

"جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا کل رات اسکا انتقال ہوگیا۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لئے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں جہاں پر اسکی میت رکھی ہوئی ہے”

یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہو گیا کہ اسکا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لئے اس سے جدا ہو گیا لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخر وہ شخص کون تھا جو اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا۔

کانفرنس ہال میں کیا منفرد تھا

 

اس تجسس کو جاننے کو  وہ جلدی سے کانفرنس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے اور سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا۔

کانفرنس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لئے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہو گیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھیں۔

سب ملازمین ایک ایک کر کے اندر جانے لگے جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا تو ایک لمحے کے لئے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا اور اسکی زبان تالوسے چپک جاتی یوں لگتا کہ گویا کسی نے اسکے دل پر بڑی ضرب لگائی ہو۔

باری آئی تو وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا، کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا تھا اور اسکے ایک کونے پر لکھا تھا:

 

"دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی صلاحیتوں کو محدود کر کے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں”

کمپنی تبدیل کرنے سے نہیں، ترقی خود کو تبدیل کرنے سے آئے گی

یاد رکھئے! آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے، آپ کا لباس تبدیل ہونے سے، آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی، آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں، اپنا تجزیہ کریں، اپنے آپ کو آزمائیں، مشکلات، نقصانات اور ناکامیوں سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جئیں۔

یعنی ہم اپنے آپ کو خود سنوارنے کی کوشش کریں گے تو جلدی سنور جائیں گے۔

 

اس حوالے سے ایک ماہر نفسیات سلمان آصف صدیقی کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے راستے کی بڑی دیواریں کہیں باہر کھڑے ہیں حالانکہ وہ دیواریں ہمارے ذہن کے اندر کھڑی ہوتی ہیں۔

 

مندرجہ بالا واقعہ انسان کو اس حقیقت سے روشناس کرا رہا ہے کہ بھلے وہ دنیا بھر سے لڑتا پھرے کو وہ اس کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے  لیکن جب تک وہ خود پر کام نہیں کرے گا ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہے گا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں