بھارت کی آبی جارحیت 13

بھارت کی آبی جارحیت اور ایک قطرہ بھی پاکستان نہ آنے کی دھمکی

پانی زندگی کی علامت ہے، لیکن جب اسے ہتھیار بنا لیا جائے تو یہ لاکھوں انسانوں کے لیے موت اور قحط کا پروانہ بن سکتا ہے۔

حال ہی میں بھارتی وزیرِ پانی سی آر پٹیل کا یہ تشویشناک بیان سامنے آیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کی ہدایات پر تیزی سے کام ہو رہا ہے تاکہ آنے والے برسوں میں پڑوسی ملک پاکستان کی طرف "پانی کا ایک قطرہ” بھی نہ جائے۔

بھارت کی آبی جارحیت کا یہ بیان محض ایک سیاسی بیان بازی نہیں، بلکہ خطے میں ابھرتے ہوئے ایک سنگین انسانی اور ماحولیاتی بحران کی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں پچھلے سال کے واقعات اور موجودہ زمینی حقائق کا غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا۔

‘معرکہِ حق’ اور جنگ کے بدلتے محاذ

 

پچھلے سال (2025 میں) پاک بھارت سرحدوں پر ہونے والے عسکری تصادم، جسے پاکستان میں ‘معرکہِ حق’ اور ‘آپریشن بنیان المرصوص’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا تھا۔ پاکستان نے اس معرکے میں اپنی دفاعی مضبوطی کا بھرپور مظاہرہ کیا اور بجا طور پر قومی سطح پر اس کا جشن منایا گیا۔

لیکن جنگیں ہمیشہ صرف توپوں اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں۔ بھارت نے اس تصادم کے بعد اپنی حکمت عملی کو نہایت مکاری سے تبدیل کیا ہے اور اب وہ ایک خاموش، لیکن انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کر رہا ہے جسے "آبی دہشت گردی” کہا جا سکتا ہے۔

بھارت کی آبی جارحیت  کیلئے عملی اقدامات اور ہماری بے عملی

 

اگر ہم زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو ایک واضح اور تکلیف دہ فرق نظر آتا ہے:

  • بھارت کی سرگرمی: بھارت محض دھمکیاں نہیں دے رہا۔ اس نے 1960 کے تاریخی سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو اپریل 2025 کے بعد سے عملی طور پر معطل (abeyance) کر رکھا ہے۔ وہ دریاؤں کی بھل صفائی (desilting) اور پانی کا رخ موڑنے کے انفراسٹرکچر پر دن رات کام کر رہا ہے۔ بھارتی حکومت باقاعدہ ٹائم لائنز کے ساتھ اس ہدف کو حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

  • پاکستان کا ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنا: اس کے برعکس، پاکستان کا موجودہ رویہ خطرناک حد تک سست نظر آتا ہے۔ بظاہر ہم صرف بیانات کی حد تک محدود ہیں۔ پاکستان کا یہ موقف سفارتی حد تک بالکل درست ہے کہ پانی کے بہاؤ کو روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور صریحاً ایک ‘جنگی اقدام’ (Act of War) ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ محض زبانی دعوے، پریس کانفرنسیں اور انتباہ بھارت کی چلتی ہوئی مشینوں اور تعمیراتی کاموں کو نہیں روک سکتے۔

ایک انسانی المیہ دستک دے رہا ہے

 

اس مسئلے کو صرف سیاسی یا فوجی عینک سے دیکھنا ایک بہت بڑی بھول ہوگی۔ یہ خالصتاً ایک انسانی مسئلہ ہے جس کا تعلق براہِ راست کروڑوں انسانوں کے پیٹ سے ہے۔

دریائے سندھ کا طاس ہماری زراعت، خوراک اور پینے کے پانی کی شہ رگ ہے۔ ہمارے کئی بڑے شہر، بشمول کراچی، پہلے ہی پانی کی شدید قلت (Water Scarcity) کا شکار ہیں۔ اگر بھارت اپنے ارادوں میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ہماری فصلیں سوکھ جائیں گی، کسان بے روزگار ہوں گے اور کروڑوں عام انسانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ یہ ایک ایسا قحط ہوگا جو قدرتی نہیں، بلکہ مسلط کردہ ہوگا۔

آگے کا راستہ: بقا کا تقاضا

 

ہمیں بحیثیت قوم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ محض جذباتیت اور پرانے معاہدوں کا حوالہ دینا اب کافی نہیں رہا۔

سفارتی محاذ پر جارحانہ مہم: پاکستان کو محض تنبیہات سے آگے بڑھ کر عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی بینک (جو اس معاہدے کا ضامن ہے) کے سامنے اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر اٹھانا چاہیے۔

اندرونی آبی انتظام: ہمیں اپنے ملک میں پانی کے ضیاع کو روکنے، نئے آبی ذخائر بنانے اور واٹر مینجمنٹ پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

عملی جواب کی تیاری: محض یہ کہنا کہ یہ "جنگ تصور ہوگا” کافی نہیں، بلکہ ریاست کے پاس اس آبی جارحیت سے نمٹنے کے لیے ایک ٹھوس تزویراتی (Strategic) منصوبہ ہونا چاہیے۔

ہم نے ‘معرکہِ حق’ میں ثابت کیا کہ ہم سرحدوں کا دفاع کر سکتے ہیں، لیکن آج کا سب سے بڑا چیلنج ہمارا آبی اور معاشی دفاع ہے۔ پانی کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی، اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے دریاؤں کا رخ نہیں بدلا کرتا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں