غربت 30

8 ہزار 483 روپے کی "امیری”: غربت مٹانے کا سرکاری مذاق اور زمینی حقائق

کیا آپ جانتے ہیں کہ ریاستِ پاکستان کی نظر میں اب آپ غریب نہیں رہے؟ جی ہاں، اگر آپ ماہانہ 8 ہزار 483 روپے کما لیتے ہیں، تو سرکاری فائلوں میں آپ کا شمار "امیر” یا کم از کم غیر غریب افراد میں ہوتا ہے۔ یہ کوئی لطیفہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشی نظام کی وہ تلخ حقیقت ہے جو غریب کے زخموں پر سیدھا نمک چھڑکتی ہے۔

روزانہ 282 روپے: زندہ رہنے کا ناممکن فارمولا

 

ذرا اس سرکاری دعوے کا حقیقت کی کسوٹی پر جائزہ لیں۔ 8 ہزار 483 روپے ماہانہ کا سیدھا سا مطلب ہے کہ ایک دن کے محض 282 روپے! آج کے اس ہوشربا مہنگائی کے دور میں جہاں بجلی کا بل غریب کی نیندیں اڑا دیتا ہے، آٹا، گھی اور چینی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں، وہاں 282 روپے میں کیا آتا ہے؟

کیا کوئی ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھا افسر یا پالیسی ساز ایک دن بھی 282 روپے میں گزارا کر سکتا ہے؟ اس رقم میں تو شاید دو وقت کی سوکھی روٹی اور چائے کا کپ بھی پورا نہ پڑے۔ ایک ایسا شخص جس نے کرایہ بھی دینا ہے، بچوں کی فیس بھی بھرنی ہے اور بیماری کی صورت میں دوا بھی لینی ہے، اس کے لیے یہ رقم غربت کی لکیر نہیں، بلکہ موت کی لکیر ہے۔ یہ غریب کی مجبوری کا ایسا تمسخر ہے جو صرف زمینی حقائق سے کٹے ہوئے معاشروں میں ہی اڑایا جا سکتا ہے۔

یہ مضحکہ خیز اعداد و شمار کہاں سے آئے؟

 

یہ جادوئی ہندسہ حکومت کے جاری کردہ "پاکستان اکنامک سروے” کے ذریعے عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔ بیوروکریسی غربت ماپنے کے لیے "بنیادی ضروریات کی لاگت” (Cost of Basic Needs) کا ایک فرضی اور بوسیدہ فارمولا استعمال کرتی ہے۔ اس میں روزانہ درکار کیلوریز کا حساب لگا کر، پرانے اور ان سرکاری نرخوں پر خوراک کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جو بازار میں کہیں موجود ہی نہیں ہوتے۔

مقصد صاف ہے: کاغذوں پر غربت کی لکیر کو اتنا نیچے گرا دو کہ کروڑوں غریب رات و رات سرکاری کھاتوں میں "خوشحال” نظر آنے لگیں، تاکہ عالمی اداروں کے سامنے "سب اچھا” کی رپورٹ پیش کی جا سکے۔

روزی روٹی پر پہرے اور چھینے جاتے نوالے

 

حیرت تو اس بات پر ہے کہ ایک طرف حکومت کاغذی کارروائیوں میں غریب کو غائب کر رہی ہے، اور دوسری طرف عملی طور پر اسی غریب سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے۔ پیرا فورس اور انسدادِ تجاوزات مہم کے نام پر سڑک کنارے ریڑھی لگانے والوں اور چھوٹی موٹی دیہاڑی کرنے والوں پر روز زمین تنگ کی جاتی ہے۔ ریاست انہیں باعزت روزگار فراہم کرنے میں تو ناکام ہے، لیکن ان کی اپنی محنت اور پسینے سے کمائی ہوئی دو وقت کی روٹی پر لات مارنے کے لیے ریاستی مشینری پوری طاقت سے حرکت میں آ جاتی ہے۔

بجٹ کا لولی پاپ: 10 فیصد اضافہ

اس ظلم پر ستم حالیہ بجٹ کے اعلانات ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور عوام کی چیخیں نکل جانے کے بعد، کم از کم تنخواہ میں محض 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ 10 فیصد اس طوفانی مہنگائی کے سامنے ریت کی دیوار بھی نہیں ہے۔ یہ غریب عوام کے لیے ریلیف ہرگز نہیں، بلکہ ان کی بے بسی کا کھلم کھلا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

غربت کا حکومتی مذاق

 

جب حکمران اور ان کی بیوروکریسی زمینی حقائق سے اس قدر بے خبر ہو جائے کہ وہ 282 روپے روزانہ کو ایک انسان کی بقا کے لیے کافی سمجھنے لگے، تو پھر شکوہ کس سے کیا جائے؟ یہ روبوٹک اور کاغذی اعداد و شمار بھوکے بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتے، نہ ہی فائلوں میں ہندسے بدلنے سے پیٹ کی آگ بجھتی ہے۔ جب ریاست کا کام صرف عوام کی بدحالی پر پردہ ڈالنا رہ جائے، تو دل سے بے ساختہ یہی دعا نکلتی ہے کہ: "اللہ ہی حافظ ہے اب ہم پاکستانیوں کا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں