رنویر سنگھ 24

ڈان 3 تنازع: رنویر سنگھ کا بائیکاٹ اور بالی ووڈ کی اندرونی کشمکش

بالی ووڈ کے سب سے زیادہ توانا اور کرشماتی شخصیت کے مالک، رنویر سنگھ، ان دنوں اپنی فلموں کے بجائے ایک سنگین تنازع کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔

وہ ستارہ جس کی ایک جھلک کے لیے مداح بے تاب رہتے ہیں، آج بھارتی فلم انڈسٹری کی سب سے بڑی ورکرز یونین ‘فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائز’ (FWICE) کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا کر رہا ہے۔

یہ تنازع صرف ایک فلم سے نکلنے کا نہیں، بلکہ یہ کہانی ہے وعدوں، کروڑوں کے نقصان، اور ان ہزاروں پسِ پردہ کام کرنے والے ہنرمندوں کے حقوق کی، جن کے بغیر سینما کا کوئی جادو ممکن نہیں۔

تنازع کا آغاز: ‘ڈان 3’ سے اچانک علیحدگی

 

فرحان اختر اور رتیش سدھوانی کی ایکسل انٹرٹینمنٹ نے جب ‘ڈان 3’ کا اعلان کیا تو شاہ رخ خان کے بعد رنویر سنگھ کو نیا ‘ڈان’ چنا گیا۔

مداح بے صبری سے اس فلم کا انتظار کر رہے تھے۔ تاہم، شوٹنگ شروع ہونے سے محض تین ہفتے قبل، رنویر سنگھ نے مبینہ طور پر اس پروجیکٹ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ پروڈیوسرز کے مطابق، اس اچانک فیصلے سے انہیں پری پروڈکشن کی مد میں تقریباً 45 کروڑ روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای (FWICE) کا سخت موقف

 

ایکسل انٹرٹینمنٹ کی شکایت پر 5 لاکھ سے زائد یومیہ اجرت والے ورکرز اور 32 مختلف ایسوسی ایشنز پر مشتمل یونین FWICE حرکت میں آئی۔ یونین کے صدر بی این تیواری اور عہدیدار اشوک پنڈت کا کہنا ہے کہ انہوں نے رنویر سنگھ کو اپنا موقف پیش کرنے کے لیے متعدد نوٹس بھیجے، لیکن اداکار نے ملنے سے انکار کر دیا۔

اس رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یونین نے فیصلہ کیا کہ جب تک رنویر سنگھ ذاتی طور پر پیش ہو کر وضاحت نہیں کرتے، ان کے ساتھ کام نہ کرنے کی ہدایت (Non-Cooperation Directive) جاری رہے گی۔ تیواری نے واضح الفاظ میں کہا:

"ہم انڈسٹری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی سپر سٹار اصولوں اور ورکرز سے بڑا نہیں ہوتا۔”

رنویر سنگھ کا ردعمل: وقار اور قانونی جنگ

 

دوسری جانب، رنویر سنگھ نے اس معاملے پر کھلی بحث کے بجائے خاموشی اور قانونی راستے کو ترجیح دی ہے۔ ان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ رنویر فلم انڈسٹری اور ‘ڈان’ فرنچائز کا بے حد احترام کرتے ہیں۔

رنویر کا موقف یہ ہے کہ یہ ایک معاہدے (Contract) کی خلاف ورزی کا تنازع ہے، جس پر فیصلہ سنانے کا مجاز فورم کوئی ٹریڈ یونین نہیں، بلکہ متعلقہ قانونی عدالتیں ہیں

۔ ترجمان کے مطابق، رنویر نے جان بوجھ کر عوامی سطح پر بیان بازی سے گریز کیا ہے کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ پیشہ ورانہ معاملات اور ذاتی تعلقات کو وقار اور باہمی احترام کے ساتھ سنبھالنا چاہیے۔

قانونی اور انسانی پہلو: کیا یہ بائیکاٹ جائز ہے؟

 

یہ معاملہ اب محض ایک اداکار اور پروڈیوسر کا نہیں رہا، بلکہ اس نے ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • قانونی ماہرین کی رائے: قانونی اعتبار سے FWICE ایک نجی ادارہ ہے اور اس کی جانب سے لگائی گئی پابندی کی کوئی ٹھوس قانونی حیثیت نہیں ہے۔ کسی بھی انسان کو اس کے روزگار سے محروم کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔

  • عملی حقیقت: اس کا عملی اور انسانی پہلو یکسر مختلف ہے۔ اگرچہ یونین کے پاس عدالتی اختیار نہ ہو، لیکن اس کے ارکان (میک اپ آرٹسٹ، کیمرہ مین، لائٹ مین، سپاٹ بوائز) کے بغیر کوئی بھی فلم مکمل نہیں ہو سکتی۔ یونین کا یہ بائیکاٹ دراصل ان مزدوروں کی طاقت کا مظاہرہ ہے جو سینما کی چمک دمک کے پیچھے دن رات محنت کرتے ہیں۔

رنویر سنگھ کا معاملہ نئی مثال قائم کرے گا

 

رنویر سنگھ کا یہ تنازع بالی ووڈ کی اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے جہاں اربوں کی انڈسٹری میں سٹار پاور اور ورکرز کے اصول اکثر آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔ کیا رنویر سنگھ کی قانونی دلیل اس یونین کے دباؤ کو شکست دے پائے گی؟

یا پھر یہ ثابت ہوگا کہ سینما کی دنیا میں اصل طاقت کیمرے کے پیچھے موجود ان ہزاروں ہنرمندوں کے ہاتھ میں ہے؟ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے، لیکن اس واقعے نے انڈسٹری میں کام کرنے کے طریقوں اور احتساب پر گہرے سوالات ضرور اٹھا دیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں