جنرل اسمبلی 23

بنگلہ دیش کے خلیل الرحمٰن جنرل اسمبلی کے 81ویں صدر منتخب

عالمی سفارت کاری کے سب سے بڑے پلیٹ فارم، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک نیا اور دلچسپ باب رقم ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی صدارت اپنے نام کر لی ہے۔

انہوں نے اس اہم دوڑ میں قبرص کے تجربہ کار سفارت کار آندریاس کاکورس کو شکست دے کر نہ صرف اپنے ملک بلکہ ایشیا اور بحرالکاہل (ایشیا پیسیفک) خطے کے لیے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

کانٹے دار مقابلہ اور شفافیت کی اعلیٰ مثال

 

یہ انتخاب سفارتی حلقوں میں کافی دلچسپی سے دیکھا جا رہا تھا۔ جنرل اسمبلی کی سالانہ صدارت کے لیے ہونے والی اس خفیہ رائے شماری میں دونوں امیدواروں کے درمیان کڑا مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

انتخابی اعداد و شمار پر ایک نظر:

  • کل ڈالے گئے ووٹ: 190

  • خلیل الرحمٰن (بنگلہ دیش) کے ووٹ: 99

  • آندریاس کاکورس (قبرص) کے ووٹ: 91

اس انتخاب کی سب سے خاص اور قابلِ ستائش بات یہ تھی کہ 190 ارکان پر مشتمل اس ایوان میں تمام ممالک نے اپنا حقِ رائے دہی انتہائی ذمے داری سے استعمال کیا۔ نہ تو کوئی ووٹ مسترد ہوا اور نہ ہی کسی ملک نے اس اہم عمل سے دور رہنے (Abstain) کا فیصلہ کیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ عالمی برادری اس انتخاب کو کتنی اہمیت دے رہی تھی۔

باری کا نظام اور ایشیا کا کردار

 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدارت کا عہدہ مستقل طور پر کسی ایک خطے کے پاس نہیں رہتا بلکہ یہ پانچ علاقائی گروہوں میں باری باری تقسیم ہوتا ہے۔

یہ ایک ایسا جمہوری اور منصفانہ نظام ہے جو ہر خطے کو عالمی سطح پر اپنی آواز اور قیادت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ رواں برس ستمبر سے شروع ہونے والے اس 81ویں اجلاس کے لیے صدر کا انتخاب ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے سے ہونا تھا، اور اب یہ اعزاز خلیل الرحمٰن کی صورت میں بنگلہ دیش کے حصے میں آیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ نئی ذمہ داریاں اور چیلنجز

 

خلیل الرحمٰن 8 ستمبر کو باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریوں کا چارج سنبھالیں گے۔ ان کا دورِ صدارت صرف معمول کے اجلاسوں تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ ان کے کاندھوں پر ایک انتہائی غیر معمولی اور تاریخی ذمے داری بھی ہوگی۔

موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی مدت رواں سال 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خلیل الرحمٰن کی صدارت کے دوران ہی اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کی تلاش اور انتخاب کا پیچیدہ اور اہم ترین عمل شروع ہوگا۔

ایک نئے عالمی قائد کا انتخاب پوری دنیا کے امن اور ترقی کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، اور اس عمل کی نگرانی یقیناً خلیل الرحمٰن کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگی۔

بنگلہ دیش کی بڑی سفارتی کامیابی

بنگلہ دیش کے لیے یہ انتخاب عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خلیل الرحمٰن اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے عالمی تنازعات کے حل، ماحولیاتی تبدیلیوں، اور نئے سیکرٹری جنرل کے شفاف انتخاب میں کیا تاریخی کردار ادا کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں