آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین 10

آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین: تاریخ کے سب سے بڑے جنازے کی تیاریاں

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین اور عوامی تقریبات کی تیاریاں عروج پر ہیں، جس کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ  تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ہوگا۔

28 فروری 2026 کو امریکی-اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی موت کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث ان کی تدفین میں کئی ماہ کی تاخیر ہوئی۔

جنازے اور تدفین کی تفصیلات

 

حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس تقریب کو غیر معمولی پیمانے پر منعقد کیا جائے گا۔

 جنازے کی حتمی رسومات 21 جون (یا ذوالحجہ کے آخر) کے قریب متوقع ہیں۔ اس سلسلے میں تین روزہ عوامی سوگ اور الوداعی تقریبات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

تہران کے نائب میئر کے مطابق، صرف دارالحکومت میں 2 کروڑ افراد کی شرکت کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان، افغانستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت دیگر پڑوسی ممالک سے بھی زائرین کی بڑی تعداد میں آمد متوقع ہے۔

 مرکزی جنازہ تہران میں شروع ہوگا جو کم از کم 24 گھنٹے جاری رہے گا، جس کے بعد میت کو مذہبی شہر قم اور پھر حتمی تدفین کے لیے مشہد لے جایا جائے گا۔

 آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات ان کی وصیت کے مطابق مشہد میں واقع امام رضا کے مزار پر ادا کی جائیں گی۔ یہ مقام شیعہ اسلام میں انتہائی مقدس مانا جاتا ہے، اور یہاں تدفین سے ان کے حامیوں کی نظر میں ان کا روحانی اور علامتی رتبہ مزید بلند ہوگا۔

آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تدفین میں غیر معمولی تاخیر کی وجوہات

 

اسلامی روایات میں موت کے فوراً بعد جلد از جلد تدفین پر زور دیا جاتا ہے، تاہم اس جنازے میں کئی ماہ کی تاخیر کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ جنگی حالات اور اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنے کے لیے درکار لاجسٹک اور سکیورٹی چیلنجز تھے۔

  • ہجوم کا انتظام اور ماضی کے سکیورٹی خدشات: حکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے جنازے کے دوران پیش آنے والے المناک واقعے (بھگدڑ) کو دہرانے سے روکنا ہے۔

    خمینی کے جنازے میں تقریباً 10 ملین افراد نے شرکت کی تھی، اور اب اس سے دگنے ہجوم کی توقع ہے، جس کے لیے انتہائی سخت سکیورٹی اور کراؤڈ مینجمنٹ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

     

  • نئے سپریم لیڈر کی پراسرار خاموشی: ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر چنا گیا تھا۔ تاہم، وہ یہ اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی عہدہ سنبھالنے کے بعد سے زیادہ تر منظرِ عام سے غائب ہیں اور ان کی عوامی سطح پر موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

     

  • خطے کی سیاسی و سفارتی صورتحال: یہ جنازہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جنگ کے بعد پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو ہونے والے فائر بندی کے معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے، لیکن اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ابھی تک کسی مستقل امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

     

یہ جنازہ محض ایک مذہبی رسم نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایران کے اندرونی استحکام، موجودہ قیادت کی طاقت کے مظاہرے اور خطے میں ان کے اثرو رسوخ کا ایک بہت بڑا امتحان ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں