انتخابی اصلاحات کمیٹی 1

انتخابی اصلاحات کمیٹی کا قیام اور پی ٹی آئی کی دو نشستیں

حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو دو، دو نشستیں دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اے این پی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ایک، ایک نشست دی جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے مطابق کمیٹی کے ارکان کے نام وزیراعظم اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اپوزیشن، اتحادی جماعتوں اور متعلقہ پارلیمانی قیادت سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دیں گے۔ تاہم پی ٹی آئی نے تاحال کمیٹی میں شمولیت کی حتمی منظوری نہیں دی۔ پارٹی رہنما عامر ڈوگر کے مطابق اس بارے میں فیصلہ مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

 

2024 کے انتخابات اور پی ٹی آئی کے تحفظات

 

اس فیصلے کی اہمیت سمجھنے کے لیے 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی نے نتائج میں مبینہ ردوبدل، فارم 45 اور فارم 47 میں فرق اور انتخابی مینڈیٹ متاثر ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔

انتخابات میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی براہ راست منتخب ہونے والی 92 نشستیں حاصل کیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے 75 اور پیپلز پارٹی نے 54 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت تشکیل دی۔

مخصوص نشستوں کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کے درمیان قانونی تنازع سامنے آیا۔ جولائی 2024ء میں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کے معاملے میں ریلیف دیا، تاہم جون 2025ء میں نظرثانی کے فیصلے کے بعد اس معاملے کی قانونی صورتحال تبدیل ہوگئی۔

یہ تمام واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے انتخابی نظام پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بنیادی مسئلہ ہے۔

کیا پی ٹی آئی کی شمولیت فائدہ مند ہوگی؟

 

یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس جماعت نے 2024ء کے انتخابات کے بعد اپنے مینڈیٹ پر سوالات اٹھائے، انتخابی عمل پر اعتراضات کیے اور نتائج کو چیلنج کیا، کیا اس کے لیے اسی پارلیمانی نظام کے تحت انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں بیٹھنا فائدہ مند ہوگا؟

سیاسی اور جمہوری نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو انتخابی اصلاحات کے عمل میں پی ٹی آئی کی شرکت اسے اپنے تحفظات براہ راست سامنے رکھنے، انتخابی قوانین میں تبدیلیوں کی تجاویز دینے اور مستقبل کے انتخابات کے لیے قابلِ قبول طریقہ کار مرتب کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔

تاہم محض دو نشستیں مختص کر دینا سیاسی اعتماد کی بحالی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی کے تحفظات، انتخابی تنازعات، نتائج کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری جیسے معاملات پر سنجیدہ بحث اور قابلِ عمل فیصلے بھی ضروری ہوں گے۔

دوسری جانب اگر پی ٹی آئی اس کمیٹی میں شرکت سے انکار کرتی ہے تو انتخابی اصلاحات کا ایک اہم پارلیمانی فورم اس کی براہ راست شمولیت کے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے، جس سے اصلاحات کی سیاسی قبولیت کا سوال برقرار رہے گا۔

 

اصل امتحان نشستوں کی تقسیم نہیں، انتخابی شفافیت ہے

 

انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل کو سیاسی مفاہمت کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا تعین صرف جماعتوں کو نشستیں دینے سے نہیں ہوگا۔

اصل ضرورت ایسے انتخابی نظام کی تشکیل ہے جس میں فارم 45 اور فارم 47 کی شفافیت، نتائج کی بروقت فراہمی، انتخابی شکایات کا مؤثر ازالہ، الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور تمام امیدواروں کو یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

2024ء کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات کو دیکھتے ہوئے انتخابی اصلاحات کی ضرورت پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی کو کمیٹی میں دو نشستیں مل رہی ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ان نشستوں پر بیٹھنے والوں کو اپنے تحفظات کے حل اور انتخابی نظام میں حقیقی تبدیلی لانے کا مؤثر موقع بھی ملے گا؟ کیونکہ جمہوریت میں انتخابات کی شفافیت صرف حکومت یا اپوزیشن کی نہیں بلکہ ووٹر کے اعتماد کی ضمانت ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں