بجلی کے بغیر چلنے والا فریج 21

بجلی کے بغیر چلنے والا فریج جو ویکسین بچانے میں مدد دے سکتی ہے

بھارت کے تین کم عمر طلبہ نے نمک اور پانی کی مدد سے ایک ایسا پورٹیبل کولنگ سسٹم تیار کیا ہے جسے چلانے کے لیے نہ بجلی درکار ہے اور نہ بیٹری۔ "تھرما والٹ” (Thermavault) نامی بجلی کے بغیر چلنے والا فریج  خاص طور پر ویکسین، ادویات اور دیگر حساس طبی سامان کو دور دراز علاقوں تک محفوظ درجہ حرارت پر پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

بھارتی شہر اندور سے تعلق رکھنے والے دھرو چوہدری (Dhruv Chaudhary)، متھرن لادھانیا (Mithran Ladhania) اور مردول جین (Mridul Jain) کی عمریں اپنی ایجاد کے وقت صرف 16 سے 17 سال تھیں، لیکن انہوں نے ایک ایسے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جو دنیا کے کئی ترقی پذیر اور دور افتادہ علاقوں میں صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے: بجلی کے بغیر ادویات اور ویکسین کو ٹھنڈا کیسے رکھا جائے؟

ان تینوں نوجوانوں کی ایجاد کو 2025 میں بین الاقوامی مقابلے The Earth Prize میں ایشیا کا علاقائی فاتح قرار دیا گیا اور انہیں اپنے منصوبے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے 12,500 ڈالر کی فنڈنگ بھی ملی۔

 

بجلی کے بغیر چلنے والا فریج تھرما والٹ کیا ہے؟

 

بجلی کے بغیر چلنے والا فریج یا Thermavault بظاہر ایک چھوٹے پورٹیبل فریج جیسا کولنگ یونٹ ہے، لیکن اسے عام گھریلو ریفریجریٹر سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اسے بنیادی طور پر ایسے طبی سامان کی نقل و حمل کے لیے تیار کیا گیا ہے جسے مخصوص کم درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے ٹھنڈا رکھنے کے لیے بجلی، بیٹری یا روایتی ریفریجریشن کمپریسر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے بجائے مخصوص نمکیات اور پانی کے درمیان ہونے والے کیمیائی عمل سے ٹھنڈک پیدا کی جاتی ہے۔

 

نمک اور پانی سے فریج ٹھنڈا کیسے ہوتا ہے؟

 

اس ایجاد کے پیچھے کوئی جادو نہیں بلکہ کیمسٹری کا ایک بنیادی اصول موجود ہے۔

کچھ مخصوص نمکیات جب پانی میں حل ہوتے ہیں تو اس عمل کے دوران اپنے اردگرد موجود حرارت جذب کرتے ہیں۔ اسے اینڈوتھرمک ری ایکشن (Endothermic Reaction) کہا جاتا ہے۔ اردگرد سے حرارت جذب ہونے کے نتیجے میں درجہ حرارت کم ہونے لگتا ہے اور یہی اصول Thermavault کے اندر موجود طبی سامان کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نوجوانوں نے اپنے تجربات کے دوران تقریباً 150 مختلف نمکیات پر غور کیا اور بالآخر ایسے نمکیات کا انتخاب کیا جو مطلوبہ ٹھنڈک پیدا کرسکتے تھے۔ ان میں امونیم کلورائیڈ (Ammonium Chloride) اور بیریم ہائیڈرو آکسائیڈ آکٹاہائیڈریٹ (Barium Hydroxide Octahydrate) شامل ہیں۔

اس لیے اسے محض "عام نمک اور پانی سے چلنے والا فریج” کہنا تکنیکی طور پر مکمل وضاحت نہیں۔ یہاں مخصوص کیمیائی نمکیات استعمال کیے جاتے ہیں۔

 

2 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت

 

Thermavault کی اہم ترین خصوصیت اس کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔

Shishukunj International School کے مطابق یہ سسٹم اپنے اندرونی درجہ حرارت کو تقریباً 2 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ درجہ حرارت بہت سی ایسی طبی اشیا کے لیے اہم ہے جنہیں کولڈ چین میں منتقل کرنا پڑتا ہے۔

The Earth Prize کے مطابق یہ کولنگ سسٹم طبی سامان کو مناسب درجہ حرارت پر 12 گھنٹے تک رکھ سکتا ہے۔ دیگر رپورٹس میں بھی اس کی کولنگ مدت تقریباً 10 سے 12 گھنٹے بتائی گئی ہے۔

یعنی کسی ایسے گاؤں یا طبی مرکز تک ویکسین پہنچانی ہو جہاں کئی گھنٹوں تک بجلی دستیاب نہ ہو، تو مستقبل میں اس نوعیت کا پورٹیبل نظام خاصا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

 

کورونا وبا نے اس ایجاد کا خیال دیا

 

Thermavault کی کہانی COVID-19 کی وبا سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

ان نوجوانوں کے خاندانوں کا تعلق میڈیکل شعبے سے ہے۔ کورونا وبا کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ بھارت کے دور دراز اور دیہی علاقوں تک ویکسین پہنچاتے ہوئے مناسب درجہ حرارت برقرار رکھنا کتنا مشکل ہوسکتا ہے، خصوصاً ان مقامات پر جہاں بجلی کی فراہمی قابلِ اعتماد نہیں۔

اسی مسئلے نے انہیں ایسا نظام بنانے کی جانب متوجہ کیا جو بجلی کے بغیر طبی سامان کو ٹھنڈا رکھ سکے۔

 

استعمال شدہ نمک دوبارہ بھی کام آسکتا ہے

 

Thermavault کی ایک اور دلچسپ خصوصیت اس کے کولنگ میٹریل کا دوبارہ استعمال ہے۔

The Earth Prize کے مطابق کولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد پانی کو ابال کر نمکیات دوبارہ حاصل کیے جاسکتے ہیں اور انہیں اگلے کولنگ سائیکل میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہر مرتبہ نیا کولنگ میٹریل استعمال کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

یہ خصوصیت خاص طور پر ایسے علاقوں کے لیے اہم ہوسکتی ہے جہاں نہ صرف بجلی بلکہ طبی سہولیات اور وسائل بھی محدود ہوں۔

 

تین نوجوانوں کو 12,500 ڈالر کا انعام

 

اس ایجاد نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ Thermavault کو The Earth Prize 2025 کا Asia Regional Winner منتخب کیا گیا۔

مقابلے کے منتظمین کے مطابق 2025 کے پروگرام میں دنیا بھر سے تقریباً 15 ہزار طلبہ شریک ہوئے جبکہ ان بھارتی طلبہ کو اپنے منصوبے کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے 12,500 امریکی ڈالر دیے گئے۔

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: انہیں The Earth Prize کا ایشیا ریجنل ایوارڈ ملا تھا، اس لیے اسے بغیر وضاحت کے عالمی مقابلے کا واحد فاتح قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

 

اب 200 یونٹس اور 120 ہسپتالوں کا منصوبہ

 

Thermavault ابھی بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی کمرشل میڈیکل ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ترقی کے مراحل سے گزرنے والی ایجاد ہے۔

The Earth Prize کے مطابق ٹیم نے ملنے والی فنڈنگ سے 200 یونٹس تیار کرنے اور تقریباً 120 ہسپتالوں تک اپنی ٹیسٹنگ اور استعمال کو وسعت دینے کا منصوبہ بنایا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ 200 یونٹس پہلے ہی 120 ہسپتالوں میں مستقل طور پر استعمال ہورہے ہیں، بلکہ یہ منصوبے کو مزید آزمانے اور بڑے پیمانے پر قابلِ استعمال بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

 

ایک چھوٹی ایجاد، مگر مسئلہ بہت بڑا

 

Thermavault کی اصل اہمیت شاید اس بات میں نہیں کہ تین نوجوانوں نے "نمک سے فریج چلا دیا”، بلکہ اس مسئلے میں ہے جسے انہوں نے حل کرنے کی کوشش کی۔

طبی کولڈ چین میں چند گھنٹوں کے لیے بھی مطلوبہ درجہ حرارت برقرار نہ رہے تو بعض حساس ادویات اور ویکسین متاثر ہوسکتی ہیں۔ دوسری جانب دنیا کے کئی دور دراز علاقوں میں مسلسل بجلی کی فراہمی اب بھی ایک چیلنج ہے۔

ایسی صورتحال میں اگر بجلی کے بغیر چلنے والی کم لاگت، محفوظ، دوبارہ قابلِ استعمال اور آسانی سے منتقل ہونے والی کولنگ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں طبی سامان کی ترسیل کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

تاہم Thermavault کو ابھی ایک امید افزا ایجاد کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔ اسے وسیع پیمانے پر طبی استعمال میں لانے کے لیے مزید حقیقی حالات میں ٹیسٹنگ، حفاظتی جائزے اور متعلقہ سرٹیفکیشن جیسے مراحل اہم ہوں گے۔

لیکن ایک بات واضح ہے: 16 اور 17 سال کے تین نوجوانوں نے اسکول میں پڑھی جانے والی کیمسٹری کے ایک نسبتاً سادہ اصول کو ایک حقیقی طبی مسئلے کے حل میں تبدیل کرکے دکھایا ہے۔ اور شاید Thermavault کی کہانی کا سب سے متاثر کن پہلو بھی یہی ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں