اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آج صبح پیش آنے والے سانحے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہسپتال کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچے کو بچا لیا گیا۔
ابتدائی طور پر آگ کی وجہ ایئرکنڈیشننگ یونٹ/کمپریسر میں خرابی یا دھماکا بتائی گئی ہے، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، اس لیے حتمی ذمہ داری کا تعین ابھی باقی ہے۔
مگر اس سانحے کا ایک تلخ سیاسی پس منظر بھی ہے۔
یہ وہی پمز ہسپتال ہے
یہ وہی پمز ہے جو صرف چند روز قبل عمران خان کی صحت کے معاملے پر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان تنازعے کا مرکز بنا ہوا تھا۔
سپریم کورٹ نے 18 اگست کو سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی، لیکن انتظامیہ انہیں شفا کے بجائے پمز لے گئی۔ حکومت نے اس فیصلے کو محض قبول ہی نہیں کیا بلکہ بھرپور انداز میں اس کا دفاع بھی کیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایک روز قبل ہی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کو پمز لے جانے کی وجہ سکیورٹی صورتحال تھی۔
ان کے مطابق عمران خان کے لیے تجویز کردہ تمام طبی ٹیسٹ پمز میں دستیاب تھے اور حکومت ان کی صحت اور سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹر پمز میں ہونے والے معائنے کے دوران موجود تھے۔
یعنی چند روز پہلے بحث یہ تھی کہ پمز کتنا قابل، موزوں اور سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہے۔
اور آج سوال کہیں زیادہ خوفناک ہے: اگر پمز میں تمام طبی سہولیات موجود تھیں تو ایک نرسری کو آگ سے محفوظ رکھنے کی سہولیات کتنی مؤثر تھیں؟
حکومت کے بے تکے دلائل
ملک کے سابق وزیراعظم کو شفا کے بجائے پمز لے جانے کے لیے سکیورٹی اور طبی سہولیات کے دلائل دیے جاتے رہے، لیکن آج اسی ہسپتال میں وہ نومولود بچے جان سے چلے گئے جنہوں نے ابھی زندگی کا آغاز بھی نہیں کیا تھا۔
یہاں عمران خان اور ان بچوں کے طبی معاملات کو ایک جیسا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ایک طرف قیدی کے طبی معائنے اور ہسپتال کے انتخاب کا معاملہ تھا، دوسری طرف نرسری میں ایک المناک آتشزدگی ہے۔
لیکن پمز کی اہلیت اور انتظامی معیار پر حکومت کے حالیہ اعتماد کے تناظر میں آج کے سانحے کے بعد سخت سوالات اٹھنا بالکل جائز ہے۔
رپورٹس کے مطابق آگ صبح تقریباً پونے سات بجے نرسری میں لگی۔ وزیراعظم نے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا حکم دیا ہے۔ والدین کی جانب سے فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات اور آگ کے مکمل اسباب کی تصدیق تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ہی ہوسکے گی۔ اصل سوال کسی ایک اے سی یا کمپریسر کا نہیں۔
حفاظتی انتظامات کیوں نہ تھے؟
اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد 14 نومولود بچوں کو بچایا کیوں نہ جا سکا؟
فائر الارم اور آگ بجھانے کا نظام کس حالت میں تھا؟ نرسری جیسے انتہائی حساس حصے کے لیے ایمرجنسی پلان کیا تھا؟ عملہ کتنی تیزی سے حرکت میں آیا؟ حفاظتی نظام نے کام کیا یا نہیں؟ اور اگر کہیں غفلت ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ان سوالات کے جوابات تحقیقاتی کمیٹی کو دینے ہوں گے۔ کیونکہ یہ صرف ایک ہسپتال میں آگ لگنے کی خبر نہیں۔ یہ 14 خاندانوں کی دنیا اجڑنے کا سانحہ ہے۔
چند روز پہلے حکومت پمز کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کر رہی تھی۔ آج اسی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ محض تعزیتی بیانات اور تحقیقاتی کمیٹی کے اعلان تک محدود نہ رہے بلکہ عوام کو بتایا جائے کہ ایک بڑے وفاقی ہسپتال کی نرسری میں ایسا سانحہ آخر کیسے ممکن ہوا۔
جس ہسپتال میں ملک کے مستقبل یعنی نومولود بچوں کو آگ سے محفوظ نہ رکھا جا سکا، اس ہسپتال کے انتظامی اور حفاظتی نظام پر سوال تو اٹھیں گے۔
اور شاید سب سے تلخ سوال یہی ہے: کل تک حکومت پمز کے گُن گا رہی تھی، آج پمز میں 14 ماؤں کی گود اجڑ گئی—اب حکومت اس ہسپتال کے بارے میں قوم کو کیا جواب دے گی؟
