پاکستانی نژاد 29

پاکستانی نژاد وکیل کا لندن میں‌ امام مسجد کے خاندان سے ہزاروں پاؤنڈ فراڈ

برطانیہ کی ہائی کورٹ نے ایک پاکستانی نژاد وکیل کو لندن کی ایک معروف مسجد کے امام کے خاندان کے ساتھ 8 لاکھ 34 ہزار پاؤنڈ کے فراڈ اور امانت میں خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے رقم واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس فیصلے نے نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ برطانوی پاکستانی کمیونٹی میں بھی اعتماد، پیشہ ورانہ دیانت اور مالی معاملات پر نئی بحث چھیڑ دی ہےچ۔

عدالتی فیصلے کے مطابق امام کے خاندان نے 2018 اور 2019 کے دوران شریعت کے مطابق جائیداد میں سرمایہ کاری کی غرض سے مجموعی طور پر 834,000 پاؤنڈ متعلقہ وکیل کے سپرد کیے۔ خاندان کا مؤقف تھا کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ یہ سرمایہ حلال بنیادوں پر جائیداد کے منصوبوں میں لگایا جائے گا، جہاں دونوں فریق مساوی شراکت دار ہوں گے۔

تاہم ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ وکیل نے نہ صرف اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی بلکہ خاندان کی رقم کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا، بعض رقوم بیرونِ ملک منتقل کیں اور سرمایہ کاری کی اصل نوعیت سے متعلق مسلسل گمراہ کن معلومات فراہم کرتا رہا۔

استاد اور شاگرد کا رشتہ، جو اعتماد سے دھوکے تک جا پہنچا

 

عدالت میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاندان کے سربراہ لندن کی ایک معروف مسجد کے امام ہیں، جنہوں نے برسوں قبل برطانیہ آنے والے اس نوجوان کو عربی زبان اور اسلامی علوم بھی پڑھائے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں خاندانوں کے درمیان گہرا اعتماد قائم ہو گیا اور امام نے اسے اپنے خاندان کے فرد جیسا مقام دے دیا۔

اسی اعتماد کی بنیاد پر خاندان نے اپنی جمع پونجی اس کے سپرد کی، کیونکہ وہ ایک رجسٹرڈ سالیسٹر بھی تھا اور قانونی معاملات میں مہارت رکھتا تھا۔

عدالت کے سخت ریمارکس

 

فیصلہ سناتے ہوئے ڈپٹی ہائی کورٹ جج کرسٹوفر پائمونٹ کے سی نے وکیل کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ وہ ایک "مکمل طور پر غیر دیانت دار گواہ” ثابت ہوا، جس کے بیانات میں سچائی، شفافیت اور اعتماد کا فقدان تھا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ متاثرہ خاندان نے اس پر غیر معمولی اعتماد کیا، مگر اس اعتماد کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جج کے مطابق دستیاب شواہد واضح کرتے ہیں کہ سرمایہ کاری کے حوالے سے خاندان کو مسلسل گمراہ کیا گیا اور حقائق چھپائے گئے۔

پاکستان منتقلی اور دیوالیہ ہونے کا معاملہ

 

عدالتی کارروائی کے دوران یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ وکیل نے اپنی جائیداد فروخت کرنے کے بعد حاصل ہونے والی بعض رقوم پاکستان منتقل کیں اور بعد ازاں خود کو دیوالیہ قرار دے دیا۔

تاہم عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ یہ ذمہ داری فراڈ اور امانت میں خیانت سے پیدا ہوئی ہے، اس لیے دیوالیہ ہونے سے یہ قرض ختم نہیں ہوگا اور متاثرہ خاندان اپنی رقم کی وصولی کا قانونی حق برقرار رکھے گا۔

رقم واپس کرنے کا حکم

 

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں وکیل کو 834,000 پاؤنڈ واپس کرنے، متعلقہ جائیدادوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حساب دینے اور دیگر مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے سود اور دیگر قانونی اخراجات سے متعلق بھی متاثرہ خاندان کے حق میں فیصلے دیے۔

وکیل نے فیصلے سے اختلاف کر دیا

 

دوسری جانب وکیل نے عدالتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گا اور قانونی فورم پر اپنے مؤقف کا دفاع کرے گا۔

 

ایک اہم سبق

 

یہ مقدمہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مالی معاملات میں صرف ذاتی تعلقات یا مذہبی وابستگی پر انحصار کافی نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق ہر سرمایہ کاری کو باقاعدہ قانونی معاہدوں، آزادانہ قانونی مشورے اور مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دینا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔

یہ فیصلہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ برطانوی عدالتیں امانت میں خیانت اور اعتماد کے ناجائز استعمال جیسے معاملات میں سخت مؤقف اختیار کرتی ہیں، چاہے فریقین کے درمیان تعلقات کتنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں