عمران خان کا آبائی ضلع میانوالی جہاں سے وہ خود الیکشن لڑ کر پہلی بار بھی اسمبلی میں گئے اور جب وزیراعظم بنے تب بھی ان کے پاس اسی حلقے کے سیٹ تھی۔
اس ضلع سے اس وقت عمران خان کی سیٹ پر سال 2024 کے الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے ایم این اے جمال احسن خان بھی رکنِ قومی اسمبلی ہیں۔
اسی ضلع کی ایک صوبائی سیٹ سے ملک احمد خان بھچر ممبر صوبائی اسمبلی اور بعدازاں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی منتخب ہوئے۔
علی حیدر نور خان نیازی رکنِ صوبائی اسمبلی
تاہم 9 مئی کے کیس میں نااہلی کے بعد ان کی خالی ہونے والی سیٹ پر مسلم لیگ ن کے علی حیدر نور خان نیازی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر رکنِ صوبائی اسمبلی بنے۔
اپنے منتخب ہونے کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں علی حیدر نور خان نے میانوالی میں ایسے کام کرا دیئے ہیں جو عمران خان نے بطور وزیراعظم بھی نہ کرائے۔
میانوالی میں پی پی ایس سی سنٹر کا قیام
میانوالی کی تاریخ میں پہلی بار علی حیدر نور کی کاوشوں سے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے سنٹر کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔ یہ جلد فنگشنل ہو جائے گا تو میانوالی اور گرد و نواح کے نوجوانوں کو ٹیسٹ دینے کیلئے بیرون شہر سفر نہیں کرنا پڑے گا۔
بظاہر یہ چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن بیروزگاری سے تنگ نوجوان سے پوچھا جائے تو اسکا ہزاروں روپے کا خرچ بچ جائےگا جو دوسرے شہروں میں ٹیسٹ دینے کیلئے جاتے ہوئے لگتا ہے ۔
عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی یہ آواز اٹھائی جاتی رہی، مگر ان سنی کر دی گئی۔
مریم نواز میڈیکل کالج کالج اور ٹیچنگ ہسپتال پر کام تیزی سے جاری
میانوالی میں اس وقت میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال کے قیام پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس میڈٰکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال کا قیام علی حیدر نور خان نیازی کی ایک بڑی کاوش ہے جس پر سالوں لگ جاتے، لیکن مہینوں میں اس پر کام شروع کرا دیا گیا۔
اس وقت ضلع میں پاکستان تحریکِ انصاف کے 2 ایم این اے اور 3 ایم پی ایز ہیں، لیکن یہ ساری قیادت اس وقت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ایسا نہیں کہ شہر کے مسائل نہیں ہیں، مسائل بہت سارے ہیں جنہیں اجاگر بھی کرنا چاہیے۔ لیکن پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اس پر بات تو درکنار ضلع میں نظر ہی نہیں آتی۔
مقامی سطح پر علی حیدر نورخان پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے بے حد مقبولیت پار ہے ہیں۔ مقامی صحافی برادری اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر علی حیدر نور اپنی مدت پوری کرتے ہیں تو وہ اس سے زیادہ کام کر جائیں گے جو بطور وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورِ حکومت میں کیا۔
کیاضلع میں عمران خان کی مقبولیت کم ہورہی؟
اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا عمران خان کی مقبولیت ضلع میں ختم ہو جائےگی؟ اس بارے عوامی رائے جانی جائے تو بالکل نہیں۔
عوام کی اکثریت آج بھی عمران خان کو سپورٹ کرتی ہے۔
مخالفین کہتے ہیں کہ علی حیدر نور جس الیکشن سے جیت کر اسمبلی کے رکن بنے وہ الیکشن دھاندلی زدہ تھا اور انہیں جتوانے کیلئے سابقہ پی ٹی آئی ایم پی اے ملک احمد خان بچھر کو نااہل کرایا گیا۔
ٹیچنگ ہسپتال کے قیام کے ساتھ شہریوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں شہر میں سیٹیٹ آف دی آڑٹ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال بنایا گیا تھا جسے بدل کر اب ڈٰی ایچ کیو ہسپتال کا درجہ دیا گیا ہے۔
اس تبدیلی سے شہر میں بڑے مسائل ہیں اور ناقدین کا خیال ہے کہ میڈیکل کالج کا قیام ایک شوشہ ہے جو ہسپتال کی متنقلی پر سے نظر ہٹانے کیلئے چھوڑا گیا۔
