پشاور ہائیکورٹ میں ایک منفرد نوعیت کا مقدمہ سامنے آیا، جہاں "قائداعظم” نامی شہری نے قومی شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔
شہری کا مؤقف ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہے، تاہم شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث اسے نہ صرف سفری مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اس کے کاروباری معاملات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
قائداعظم شناختی کارڈ کی بلاک کے خلاف ہائیکورٹ پہنچ گئے
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے، باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہے اور اس کے خاندان کے دیگر افراد بھی پاکستانی شناختی کارڈ رکھتے ہیں۔
وکیل کے مطابق نادرا کی جانب سے ان کے مؤکل سے مزید تصدیق کے لیے اس کے ایک چچا کو پیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب نادرا کے ڈائریکٹر لیگل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا ریکارڈ "مشکوک” قرار دیے جانے کے باعث اس کا شناختی کارڈ بلاک کیا گیا۔ نادرا کے مطابق شہری کی شہریت اور خاندانی ریکارڈ کی مزید جانچ پڑتال ضروری ہے، اسی لیے یہ معاملہ متعلقہ فورم پر بھیجا گیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
قائداعظم کا شناختی کارڈ بلاک کئے جانے کے کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنا مؤقف اور متعلقہ دستاویزات نادرا بورڈ کے سامنے پیش کرے تاکہ قانون کے مطابق اس کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جا سکے۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ نادرا بورڈ کے حتمی فیصلے تک درخواست گزار کے خلاف کوئی سخت کارروائی، بشمول ملک بدری، عمل میں نہ لائی جائے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ نادرا کے قواعد کے مطابق جن شہریوں کے ریکارڈ میں کسی قسم کا تضاد یا شبہ سامنے آئے، ان کے معاملات نادرا بورڈ کے سامنے رکھے جاتے ہیں، جہاں دستیاب شواہد، خاندانی ریکارڈ، بائیومیٹرک معلومات اور دیگر دستاویزات کی روشنی میں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ شناختی کارڈ بحال کیا جائے یا مزید کارروائی کی جائے۔
یہ مقدمہ محض ایک شناختی کارڈ کی معطلی تک محدود نہیں بلکہ اس نے شہریوں کی شناخت کی تصدیق کے نظام، قانونی تقاضوں اور سرکاری طریقۂ کار پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور درست شہری ریکارڈ کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی شہری کو غیر ضروری تاخیر، پیچیدہ کارروائی یا طویل قانونی مراحل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
قائد اگر حقیقت میں زندہ ہوتے؟
اس خبر کا سب سے منفرد پہلو درخواست گزار کا نام "قائداعظم” ہونا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی۔
اگرچہ یہ محض ایک اتفاق ہے، لیکن اس واقعے نے ایک اہم سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ جب ایک عام شہری کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، تو ہمیں اپنے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور شہری دوست بنانے کی ضرورت ہے۔
آخرکار، ایک مضبوط ریاست کی پہچان صرف مؤثر قوانین نہیں بلکہ ایسا انتظامی نظام بھی ہے جو ہر شہری کو بروقت، منصفانہ اور باوقار طریقے سے انصاف اور سہولت فراہم کرے۔
