ایچ آئی وی کا پھیلاؤ 30

پاکستان میں‌خوفناک حدتک ایچ آئی وی کا پھیلاؤ

پاکستان اس وقت ایشیا پیسیفک خطے میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 

گزشتہ چند برسوں میں عالمی ادارۂ صحت (WHO)، اقوام متحدہ کے ایڈز پروگرام (UNAIDS)، پاکستانی ماہرین صحت اور حکومتی اداروں کی رپورٹس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں نہ صرف نئے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے بلکہ متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد اب بھی تشخیص سے باہر ہے۔

2025 کے ایک حالیہ تخمینے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار 593 افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ اس کے برعکس قومی سطح پر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریباً 84 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔

یہی فرق اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز بڑے پیمانے پر رپورٹ ہی نہیں ہو رہے، اور اگر واقعی لاکھوں افراد غیر رجسٹرڈ ہیں تو اس کے عوامی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

رجسٹرڈ مریض اور اصل تعداد میں اتنا بڑا فرق کیوں؟

 

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رجسٹرڈ مریض اور تخمینی مریض ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔

رجسٹرڈ مریض وہ افراد ہیں جن کا ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا، انہیں سرکاری نظام میں درج کیا گیا اور وہ علاج کے نظام سے منسلک ہوئے۔

اس کے برعکس تخمینی تعداد میں وہ تمام افراد شامل ہوتے ہیں جو وائرس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، خواہ ان کا ٹیسٹ کبھی ہوا ہو یا نہیں۔

اگر پاکستان میں واقعی تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار افراد متاثر ہیں جبکہ صرف 84 ہزار رجسٹرڈ ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دو لاکھ سے زائد افراد یا تو اپنی بیماری سے لاعلم ہیں یا وہ کسی سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکے۔

یہی وہ خلا ہے جسے ماہرین صحت سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیتے ہیں، کیونکہ جس شخص کو اپنی بیماری کا علم ہی نہ ہو وہ علاج بھی حاصل نہیں کرتا اور غیر ارادی طور پر وائرس دوسروں تک منتقل ہونے کا خطرہ بھی برقرار رہتا ہے۔

اسی لیے عالمی ادارے صرف مریضوں کی گنتی پر نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ، رجسٹریشن اور بروقت علاج پر زور دیتے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کی زنجیر کو توڑا جا سکے۔

 

عالمی ادارے پاکستان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

 

UNAIDS نے اپنی تازہ ایشیا پیسیفک رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک میں شامل کیا ہے جہاں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ سب  سے تیزی ہو رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) بھی کئی برسوں سے خبردار کرتا آیا ہے کہ پاکستان میں متاثرہ افراد کی بڑی تعداد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں محدود ٹیسٹنگ، معاشرتی بدنامی ، کم آگاہی، اور صحت کے نظام کی کمزور نگرانی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق جب ہزاروں افراد تشخیص سے باہر رہتے ہیں تو وبا کو قابو کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ وائرس خاموشی سے نئی زنجیریں بناتا رہتا ہے۔

 

کیا پاکستان میں واقعی کیسز کم رپورٹ ہو رہے ہیں؟

 

اس سوال کا جواب "ہاں” ہے، لیکن اس کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ کم رپورٹ ہونے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ حکومت نے اعداد و شمار چھپا دیے ہوں، بلکہ اکثر کیسز کبھی سرکاری نظام تک پہنچتے ہی نہیں۔

اس کی کئی وجوہات ہیں:

  • لاکھوں افراد نے کبھی ایچ آئی وی ٹیسٹ ہی نہیں کروایا۔
  • معاشرتی خوف اور بدنامی کے باعث لوگ ٹیسٹ سے گریز کرتے ہیں۔
  • دور دراز علاقوں میں ٹیسٹنگ سہولیات محدود ہیں۔
  • کئی مریض نجی شعبے میں تشخیص کے بعد بھی قومی ڈیٹا بیس میں شامل نہیں ہوتے۔
  • مختلف صوبوں سے رپورٹنگ کا نظام یکساں نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے "رجسٹرڈ کیسز” کے بجائے ماڈلنگ اور سائنسی تخمینوں کے ذریعے اصل بوجھ (Estimated Burden) کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اس فرق کا مطلب صرف یہ نہیں کہ سرکاری اعداد و شمار نامکمل ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ صحت کا نظام ان ہزاروں افراد تک پہنچنے میں ناکام ہے جو انجانے میں وائرس کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

 

کیا حکومت پر ڈیٹا چھپانے کے الزامات بھی لگے؟

 

گزشتہ برسوں میں کچھ ایسے واقعات سامنے آئے جنہوں نے شفافیت سے متعلق سوالات ضرور پیدا کیے۔

قومی سطح پر ہونے والے اجلاسوں میں وفاقی حکام نے یہ شکایت کی کہ بعض علاقوں اور صوبوں سے ایچ آئی وی کا مکمل ڈیٹا قومی اداروں تک نہیں پہنچ رہا۔ اسی وجہ سے ماہرین نے سفارش کی کہ ایچ آئی وی کو "قابل اطلاع بیماری” (Notifiable Disease) قرار دیا جائے تاکہ ہر نئے مریض کی لازمی رپورٹنگ ممکن ہو سکے۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض صوبوں خصوصاً پنجاب کی جانب سے تمام معلومات بروقت قومی سطح پر شیئر نہیں کی جا رہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی سرکاری تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جان بوجھ کر قومی اعداد و شمار میں ردوبدل کیا گیا۔

پاکستان میں ایچ آئی وی کیوں تیزی سے پھیل رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ درج ذیل وجوہات کے باعث ہے۔

  • استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال
  • غیر محفوظ طبی انجیکشن
  • غیر محفوظ خون کی منتقلی
  • منشیات استعمال کرنے والوں میں سوئیوں کا مشترکہ استعمال
  • کمزور انفیکشن کنٹرول
  • عوام میں آگاہی کی کمی
  • ایچ آئی وی سے وابستہ سماجی بدنامی
  • بروقت تشخیص اور علاج تک محدود رسائی

ان عوامل کے ساتھ اگر بڑی تعداد میں متاثرہ افراد اپنی بیماری سے لاعلم رہیں تو وائرس کے مزید پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ایسے افراد بروقت علاج شروع نہیں کر پاتے اور صحت کا نظام ان تک پہنچنے سے پہلے ہی وائرس نئے افراد تک منتقل ہو سکتا ہے۔

علاج کی صورتحال

اگرچہ پاکستان میں سرکاری مراکز پر اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) مفت فراہم کی جاتی ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ بڑی تعداد میں متاثرہ افراد تشخیص ہی نہیں ہو پاتے۔

جب مریض کا ٹیسٹ ہی نہ ہو تو وہ علاج شروع نہیں کر سکتا، اور یہی وائرس کے مزید پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس جن افراد کی بروقت تشخیص ہو جائے اور وہ باقاعدگی سے علاج جاری رکھیں، ان میں وائرس کی مقدار نمایاں حد تک کم ہو سکتی ہے، جس سے دوسروں تک وائرس منتقل ہونے کا خطرہ بھی بہت کم ہو جاتا ہے۔

اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل توجہ غیر تشخیص شدہ اور علاج سے محروم افراد تک پہنچنے پر ہونی چاہیے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں