سکولوں کی نجکاری 39

پنجاب میں سکولوں کی نجکاری اور تعلیمی اداروں کا زوال

کسی بھی ملک کی ترقی یا تنزلی کا اندازہ اس کے تعلیمی نظام سے لگایا جا سکتا ہے کیونکہ ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کا انحصار بڑی حد تک تعلیم کے فروغ پر ہے۔ پاکستان اس نظام میں دنیا سے دہائیوں  پیچھے تو تھا ہی صحیح لیکن حال ہی میں پنجاب حکومت کا پبلک پرائیویٹ ایکٹ کے تحت سکولوں کی نجکاری کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

یہ بات غور طلب ہے کہ خطے کے تعلیمی میدان میں افغانستان صرف پاکستان سے پیچھے ہے۔ نیپال بھوٹان اور مالدیپ کی ریکنگ پاکستان سے بہتر جبکہ  ایران سب سے اگے ہے ۔ یاد رہے یہ حکومت کے اپنے پیش کردہ اعداد و شمار ہیں۔ ۔

سکولوں کی نجکاری کے اس  ایکٹ کے تحت پنجاب حکومت نے پرائیویٹ اتھارٹیز کو ان باتوں کا پابند کیا ہے کہ بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانا ہو گی، طلبہ کے لیے مفت تعلیم، طلبہ کے داخلوں میں اضافہ کرنا ہو گا، اسکول کی عمارت اور سہولیات کی دیکھ بھال کرنا ہو گی اور باقاعدہ کارکردگی رپورٹس جمع کروانا ہوں گی ۔

مگر یہ کام تو حکومت پنجاب خود بھی بخوبی سر انجام دے سکتی تھی تو نجکاری کی کیوں ضرورت پڑی؟ کیا پنجاب حکومت محکمہ تعلیم سے بلکل ہی بری الذمہ ہونا چاہتی ہے؟

آج کے دور میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے تقریباً ایک بزنس ماڈل ہی بن چکے ہیں اور جب سرکاری اسکولوں کو بھی پرائیویٹ اداروں یا کسی بھی کاروباری شخصیت کے حوالے کیا جائے گا تو اس کی اولین ترجیح اپنے اس کاروبار کو بہتر کرنا ہوگی نہ کہ تعلیمی نظام کو اور اب ہزاروں سرکاری اسکول بھی حکومت کی بجائے مختلف شخصیات کی زیر نگرانی آئیں گے تو تعلیمی نظام مزید بگڑنے کا خدشہ ہے ۔

 پاکستان کے تعلیمی نظام کی پسماندگی

 

پاکستان کے تعلیمی نظام کی پسماندگی اور زوال پذیر ہونے کی سب سے بڑی وجہ  محکمہ تعلیم کا کم ترین بجٹ ،احتساب اور شفافیت، وسائل کا ضیاع اور تعلیمی نصاب یا تعلیمی نظام میں یکسانیت نہ ہونا ہے۔

یو این ایس ایف (UNSF)کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تقریبا 25.1 ملین یعنی دو کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں جو دنیا میں دوسری بڑی تعداد ہے۔

گزشتہ دنوں میں سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں تعلیم کو صرف اور صرف جی ڈی پی کا 0.8 فیصد حصہ دیا گیا ہے۔ جو کہ ایک وقت میں جی ڈی پی کا 2.7 پھر 1.7 پھر 1.00فیصد ہوا کرتا تھا اور آج یہ صرف 0.8 فیصد رہ گیا ہے۔

 عالمی رپورٹس

 

یونیسکو (UNESCO)کے مطابق ممالک اپنے جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کریں جو کہ پاکستان کے تعلیمی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔

جبکہ کئی یورپی ممالک اپنی جی ڈی پی کا 4 سے 7 فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور ان ممالک میں صرف ایک یونیورسٹی کو ریسرچ کے لیے لاکھوں ڈالرز دیے جاتے ہیں اور یہاں پر ہمارے پوری تعلیم نظام کے لیے صرف چند سو ارب مختص کیے گئے ہیں۔

اگر حکمرانوں کے اپنے اخراجات کی بات کی جائے تو صرف صدر اور وزیراعظم کے کے دفاتر کے لیئے 6 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ۔

دوسری طرف وہ بچے جو اسکولوں سے باہر ہیں ان کے لیے 3 ارب کی فنڈنگ رکھی گئی ہے ۔ یعنی ایک طرف صرف دو شخصیات کے لیے 6 ارب اور دوسری طرف اڑھائی کروڑ بچوں کے لیے 3 ارب روپے جو کہ انتہائی شرمناک ہے ۔

ایک ریسرچر ہونے کے ناطے حالیہ دنوں میں ایک سروے کیا جس میں  بنیادی سوال یہ تھا  کہ آپ پاکستان کے تعلیمی اداروں یا تعلیمی نظام سے کتنے مطمئن ہیں تو صرف 34 فیصد طلبہ و طلبات کا جواب ہاں میں تھا یعنی صرف 34 فیصد ہی مطمئن تھے۔

 تعلیمی نظام میں بہتری

 

تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے حکومت کو بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا، جس سے سرکاری ادارے مفت یا کم خرچ پر معیاری تعلیم مہیا کریں، اس سے جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر توجہ دلائی جائے ،اساتذہ کو اعلی تربیت اور بہترین تنخواہیں دی جائیں، رٹا سسٹم کی بجائے تنقیدی سوچ زور دیا جائے ،سینیئر یا ریٹائرڈ سرکاری اساتذہ کو ایجوکیشن کی گورننگ باڈیز میں  شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے تجربے سے تعلیمی اداروں میں بہتری لا سکیں اور نئے تعلیم یافتہ اساتذہ بھرتی کیے جاتے تاکہ وہ طلبہ و طلبات کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کریں ۔

اور سب سے بڑھ کر پورے ملک کے تعلیم نظام اور تعلیمی نصاب میں یکسانیت لائی جائے جس میں دینی تعلیم کو بھی فروغ دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں