مشہور اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ‘ستلج’ (سابقہ نام: پنجاب 95) نے ریلیز ہوتے ہی ایک ایسا طوفان کھڑا کیا کہ سٹریمنگ پلیٹ فارم ذی 5 نے اسے صرف 48 گھنٹے کے اندر ہی ہٹا دیا۔
مودی حکومت کی جانب سے اس فلم پر پابندی کی وجہ "سیکیورٹی خدشات” اور آئی ٹی رولز 2021 کے تحت ذمہ داریوں کو قرار دیا گیا ہے۔
فلم کی کہانی کیا ہے؟
اس فلم کا مرکزی کردار انسانی حقوق کے ممتاز کارکن جسونت سنگھ کھالڑا (1952–1995) کی زندگی پر مبنی ہے۔ 1990 کی دہائی میں پنجاب میں جاری شورش کے دوران، کھالڑا نے پنجاب پولیس کے ہاتھوں ہونے والی ہزاروں غیر قانونی ہلاکتوں، لاپتہ افراد کے کیسز اور لاوارث لاشوں کی خفیہ تدفین کے ناقابلِ تردید ثبوت اکٹھے کیے تھے۔
مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، کھالڑا نے تقریباً 25,000 لاوارث لاشوں کی دستاویزات تیار کی تھیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ تقریباً 2,000 ایسے پولیس اہلکار، جنہوں نے غیر قانونی ہلاکتوں میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا، انہیں خود ریاستی مشینری نے ختم کر دیا۔ ان کی اس تحقیقات نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ حاصل کر لی تھی۔
6 ستمبر 1995 کو امرتسر میں اپنے گھر کے باہر سے جسونت سنگھ کھالڑا کو اغوا کر لیا گیا، جس کے بعد وہ کبھی زندہ نہیں ملے۔ ان کا قتل انسانی حقوق کے ایک تاریخی مقدمے میں بدل گیا، جس کے نتیجے میں بعدازاں پنجاب پولیس کے چھ افسران کو ان کے اغوا اور قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ آج ان کا نام انصاف اور احتساب کی جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔
فلم ستلج کا متنازع سفر
فلم ‘ستلج’ کا سکرین تک کا سفر انتہائی مشکل رہا۔
سنسر بورڈ سے ٹکراؤ: سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے فلم میں 120 سے زائد کٹ اور بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا تھا، جسے فلم سازوں نے مسترد کر دیا۔
زی 5 پر ریلیز اور حکومتی پابندی: سنسر سرٹیفکیٹ نہ ملنے کے باعث، فلم سازوں نے فلم کو براہِ راست زی 5 پر ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، ریلیز کے چند گھنٹوں بعد ہی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اسے ہٹانے کا حکم دیا۔
حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ فلم کے کچھ حصے علیحدگی پسند جذبات کو ہوا دینے یا دشمن گروہوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔
کیا فلم کو ہٹا دینا مسئلے کا حل ہے؟
دلجیت دوسانجھ کا اس فلم میں مرکزی کردار نبھانا اور پھر اس کا یوں اچانک ہٹا دیا جانا اس بحث کو دوبارہ زندہ کر چکا ہے کہ کیا تاریخ کے تلخ حقائق کو فلموں کے ذریعے پیش کرنے پر پابندی لگانا ہی واحد حل ہے؟
یہ تنازعہ اب اس بات کی علامت بن چکا ہے کہ جب آرٹ اور تاریخ سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں، تو طاقتور حلقے اسے ‘سیکیورٹی’ کے نام پر دبانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔
