کسی بھی ریاستی رہنما کا جنازہ صرف ایک مذہبی یا سماجی تقریب نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات وہ ایک ایسا منظرنامہ بھی بن جاتا ہے جس میں ہر حرکت، ہر روایت اور ہر علامت کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات بھی کچھ ایسی ہی بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔
جہاں لاکھوں افراد کی شرکت، غیر ملکی وفود کی آمد اور کئی روز تک جاری رہنے والی تقریبات نے دنیا کی توجہ حاصل کی، وہیں ایک اور پہلو نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی دلچسپی پیدا کی۔ یہ پہلو تھا مختلف سرکاری وفود کی آمد کے موقع پر پڑھی جانے والی قرآنی آیات، جنہیں بہت سے مبصرین نے محض تلاوت نہیں بلکہ ایک علامتی اور سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا۔
کیا واقعی ہر وفد کے لیے الگ آیات منتخب کی گئیں؟
خامنہ ای کے جنازے تقریبات کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے نشاندہی کی کہ مختلف ممالک اور تنظیموں کے وفود کی آمد پر الگ الگ قرآنی آیات کی تلاوت سنائی دے رہی تھی۔ اس کے بعد یہ سوال گردش کرنے لگا کہ کیا یہ محض اتفاق تھا یا ہر وفد کے لیے مخصوص آیات کا انتخاب پہلے سے کیا گیا تھا؟
اگرچہ ایرانی حکام نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی، لیکن مختلف ویڈیوز اور ان پر ہونے والی بحث نے اس سوال کو عالمی سطح پر موضوع بنا دیا۔
سعودی وفد اور سورۂ آل عمران
سب سے زیادہ توجہ اس وقت حاصل ہوئی جب سعودی عرب کے وفد کی آمد کے دوران سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 13 کی تلاوت سنائی دی۔
یہ آیت دو گروہوں کے درمیان مقابلے، اللہ کی نصرت اور ایمان والوں کی کامیابی کا ذکر کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض تجزیہ کاروں نے اس آیت کو موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال، ایران اور سعودی عرب کے تعلقات اور خطے میں طاقت کے توازن کے تناظر میں دیکھا۔ ان کے مطابق اگر واقعی یہ انتخاب شعوری تھا تو اس کے کئی علامتی معنی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
قطر کے وفد کے لیے سورۂ الفتح
خامنہ ای کے جنازے میں قطری وفد کی آمد کے موقع پر سورۂ الفتح کی آیت نمبر دو کی تلاوت کی گئی، جس میں اللہ کی بخشش، نعمتوں کی تکمیل اور سیدھی راہ کی ہدایت کا ذکر موجود ہے۔
بعض مبصرین نے اسے ایران اور قطر کے نسبتاً قریبی سفارتی تعلقات کے تناظر میں ایک مثبت اشارہ قرار دیا، اگرچہ اس دعوے کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ترک وفد اور جہاد کا مفہوم
ترکی کے وفد کی آمد پر سورۂ نساء کی آیت 95 کے ایک حصے کی تلاوت کی گئی، جس میں اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کا ذکر ہے۔
کئی سوشل میڈیا صارفین نے اسے ترکی کے خطے میں عسکری کردار اور علاقائی سیاست سے جوڑنے کی کوشش کی، جبکہ بعض مذہبی حلقوں نے اس تشریح کو ضرورت سے زیادہ سیاسی قرار دیا۔
حماس کے وفد کے لیے سورۂ احزاب
فلسطینی تنظیم حماس کے وفد کی آمد پر سورۂ احزاب کی آیت 23 پڑھی گئی، جس میں ان اہلِ ایمان کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے عہد کو سچا ثابت کیا، کچھ اپنی ذمہ داری پوری کر چکے اور کچھ اب بھی منتظر ہیں۔
چونکہ ایران خود کو فلسطینی مزاحمت کا مضبوط حامی قرار دیتا ہے، اس لیے اس آیت کو بھی سوشل میڈیا پر مزاحمت، قربانی اور استقامت کے پیغام سے جوڑا گیا۔
حزب اللہ اور سورۂ المائدہ
لبنانی حزب اللہ کے وفد کی آمد پر سورۂ المائدہ کی آیت 56 کی تلاوت کی گئی، جس میں "حزب اللہ” یعنی اللہ کی جماعت کے غالب آنے کا ذکر موجود ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جس نے سب سے زیادہ بحث کو جنم دیا کیونکہ آیت کے الفاظ خود حزب اللہ کے نام سے مماثلت رکھتے ہیں۔ متعدد صارفین نے اسے ایران کی جانب سے اپنے قریبی اتحادی کے لیے ایک واضح علامتی پیغام قرار دیا۔
کیا واقعی یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا؟
اسی بحث کے دوران کئی صارفین اور مبصرین نے اس خیال سے اختلاف بھی کیا۔
ان کے مطابق کسی بھی سرکاری تقریب میں قرآن مجید کی مسلسل تلاوت ہوتی رہتی ہے، اس لیے مختلف اوقات میں مختلف آیات کا پڑھا جانا لازمی طور پر کسی سیاسی منصوبہ بندی کا ثبوت نہیں بنتا۔
بعض ایرانی شخصیات نے بھی اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مہمانوں کو مذہبی احترام کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہے اور آیات کو وفود کی شناخت کے مطابق منتخب کیے جانے کے دعوے کی کوئی سرکاری بنیاد موجود نہیں۔
پھر یہ بحث اتنی بڑی کیوں بن گئی؟
اس سوال کا جواب خود موجودہ عالمی سیاست میں پوشیدہ ہے۔
آج سفارت کاری صرف بیانات، ملاقاتوں اور معاہدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ علامتیں، تصاویر، نشستوں کی ترتیب، لباس، موسیقی، جسمانی زبان اور مذہبی حوالوں کو بھی سفارتی ابلاغ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران پڑھی جانے والی آیات کو بھی بہت سے لوگوں نے ایک ایسے "خاموش سفارتی ابلاغ” کے طور پر پڑھنے کی کوشش کی جس میں الفاظ کم اور اشارے زیادہ تھے۔
ایک جنازہ کئی پیغامات
خامنہ ای کی آخری رسومات نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا کہ جدید دور میں ریاستی تقریبات صرف رسمی اجتماعات نہیں ہوتیں بلکہ وہ عالمی میڈیا، سفارت کاروں اور سیاسی مبصرین کے لیے ایک کھلی کتاب بن جاتی ہیں۔
ممکن ہے ان آیات کا انتخاب محض مذہبی ترتیب کے مطابق ہوا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض حلقوں نے ان میں ایسے معنی تلاش کیے ہوں جو تقریب کے منتظمین کے پیشِ نظر نہ ہوں۔ تاہم ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان رسومات نے مذہب، سیاست اور سفارت کاری کے باہمی تعلق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
خامنہ ای کے جنازے کی سب سے نمایاں خبر شاید لاکھوں افراد کی شرکت نہیں تھی، بلکہ وہ سوال تھا جو دنیا بھر میں گونجتا رہا: کیا قرآن کی یہ آیات صرف تلاوت تھیں، یا خاموش سفارتی زبان میں لکھا گیا ایک سیاسی پیغام؟
