آخری کھانے 22

موت کی سزا پانے والے قیدیوں کی آخری کھانے کی انوکھی خواہشیں

فرض کریں کہ آپ کو اپنی موت کا وقت اور دن پہلے سے معلوم ہو۔ ایسے میں اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ آخری بار کیا کھانا پسند کریں گے، تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟

دنیا بھر کی جیلوں میں موت کی سزا پانے والے قیدیوں کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے آخری کھانے کی خواہش کا اظہار کریں۔

کچھ لوگ اس موقع پر شاندار دعوت اڑاتے ہیں، تو کچھ ایسی چیزیں مانگ لیتے ہیں جو انسانی ذہن کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ آئیے موت کی کوٹھری سے جڑی 4 ایسی حیرت انگیز اور دل چھو لینے والی آخری خواہشات پر نظر ڈالتے ہیں جو ہمیں انسانی نفسیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیتی ہیں۔

1. صرف ایک زیتون کا دانہ — امن کی آخری امید

 

عام طور پر لوگ آخری کھانے میں پیزا، برگر یا کوئی مہنگا کھانا مانگتے ہیں، لیکن 1963 میں وکٹر فیگوئر نامی قیدی کی خواہش نے سب کو حیران کر دیا۔ اس نے کسی شاندار کھانے کے بجائے صرف ایک زیتون کا دانہ (Olive) مانگا جس کے اندر اس کا بیج موجود ہو۔

وکٹر کی سوچ یہ تھی کہ جب اسے دفنایا جائے گا، تو اس بیج سے ایک زیتون کا درخت اُگے گا، جو دنیا میں امن کی علامت بنے گا۔ موت کے بالکل سامنے کھڑے ہو کر ایسی شاعرانہ اور پرامن سوچ واقعی دل کو چھو لینے والی ہے۔

2. بے گھر افراد کے لیے پیزا — موت کے سائے میں انسانیت

 

موت کے خوف میں بھی کچھ لوگ دوسروں کا درد محسوس کرنا نہیں چھوڑتے۔ فلپ ورک مین نامی قیدی نے اپنے آخری کھانے میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگا۔ اس کی اکلوتی خواہش یہ تھی کہ ایک بڑا ویجیٹیرین پیزا خریدا جائے اور اسے جیل کے باہر کسی بے گھر (Homeless) شخص کو دے دیا جائے۔

جیل کے حکام نے اصولوں کا حوالہ دے کر یہ خواہش پوری کرنے سے انکار کر دیا، لیکن جب یہ بات خبروں کے ذریعے عوام تک پہنچی تو مقامی لوگوں نے فلپ کی جانب سے شہر کے بے گھر افراد میں درجنوں پیزے بانٹے۔ اس کی ایک چھوٹی سی خواہش نے مرنے سے پہلے کئی لوگوں کا پیٹ بھر دیا۔

3. ایک مٹھی مٹی — ایک عجیب روحانی خوف

 

یہ شاید تاریخ کی سب سے عجیب و غریب خواہش تھی۔ 1990 میں جیمز ایڈورڈ اسمتھ نے آخری کھانے کے طور پر کھانے پینے کی کسی چیز کے بجائے ‘ایک مٹھی مٹی’ مانگی۔

اس کا ماننا تھا کہ وہ اس مٹی سے ایک خاص روحانی اور جادوئی رسم ادا کرے گا تاکہ موت کے بعد اس کی روح اس دنیا میں بھٹکتی نہ پھرے۔ تاہم، جیل کے قوانین کے تحت مٹی کھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی، اس لیے حکام نے مٹی دینے سے صاف انکار کر دیا اور اس کے بجائے اسے ایک کپ دہی (Yogurt) دے دیا گیا۔

4. لارڈ آف دی رنگز اور شاندار آخری کھانے کی دعوت

 

بعض اوقات انسان موت کی تلخ حقیقت سے فرار چاہتا ہے اور کسی خیالی دنیا میں کھو جانا چاہتا ہے۔ رونی لی گارڈنر نامی قیدی نے آخری کھانے میں اسٹیک، لوبسٹر ٹیل (Lobster tail)، ایپل پائی اور ونیلا آئس کریم کی شاندار دعوت مانگی۔

لیکن حیرت کی بات صرف کھانا نہیں تھی، بلکہ اس کی یہ شرط تھی کہ وہ یہ کھانا مشہور ہالی ووڈ فلم سیریز "لارڈ آف دی رنگز” (Lord of the Rings) کی پوری ٹرائیلوجی دیکھتے ہوئے کھائے گا۔ حکام نے اس کی یہ خواہش پوری کی اور اس نے اپنے آخری لمحات موت کے خوف کے بجائے ایک جادوئی اور خیالی دنیا میں گزارے۔

یہ آخری خواہشات ہمیں دکھاتی ہیں کہ جب انسان کا سامنا موت سے ہوتا ہے تو وہ کتنے مختلف طریقوں سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ کوئی اپنے پیچھے امن کی علامت چھوڑنا چاہتا ہے، کوئی جاتے جاتے دوسروں کا پیٹ بھرنا چاہتا ہے، کوئی توہم پرستی کا شکار ہو جاتا ہے اور کوئی بس چند گھنٹوں کے لیے کسی اور دنیا میں کھو جانا چاہتا ہے۔

اگر آپ کو معلوم ہو کہ یہ آپ کا آخری دن ہے، تو آپ کا آخری کھانا کیا ہوگا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں