آج کے ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فون کوئی پرتعیش چیز نہیں بلکہ زندگی کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ چاہے تعلیم ہو، روزگار، یا پھر اپنوں سے رابطہ، موبائل فون کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔
لیکن پاکستان میں پی ٹی اے (PTA) کے ہوش ربا اور ظالمانہ ٹیکسوں نے اس بنیادی ضرورت کو بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ اب اسی حوالے سے ایک اہم اور کسی حد تک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی کا خوش آئند فیصلہ
حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسمارٹ فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے قسطوں کی سہولت (Installment Plans) متعارف کرائے۔
کمیٹی کے اجلاس میں، جس کی صدارت سید نوید قمر کر رہے تھے، اس بات پر زور دیا گیا کہ اس وقت مقامی مارکیٹ میں لاکھوں نان پی ٹی اے (Non-PTA) فونز موجود ہیں، اور عوام کو سہولت دینے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ارکان اسمبلی کا یہ استدلال بالکل بجا تھا کہ دنیا بھر میں لوگ سستی اشیاء بھی قسطوں پر خریدتے ہیں، تو پاکستان میں ایک مہنگے موبائل کا بھاری بھرکم ٹیکس یکمشت ادا کرنا غریب اور متوسط طبقے کے لیے کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
اس حوالے سے کمیٹی نے ایف بی آر کو پی ٹی اے کے ساتھ مل کر جلد از جلد لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ٹی اے کے بھاری بھرکم ٹیکس: عوام کا معاشی استحصال
قسطوں کی یہ تجویز بلاشبہ ایک اچھا قدم ہے، لیکن یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف قسطیں کر دینے سے اس ظلم کا ازالہ ہو جائے گا جو پی ٹی اے ٹیکس کے نام پر عوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے؟
آج کل صورتحال یہ ہے کہ بسا اوقات فون کی اصل قیمت سے زیادہ اس کا پی ٹی اے ٹیکس ہوتا ہے۔
یہ سراسر ناانصافی ہے کہ بیرونِ ملک محنت مزدوری کرنے والا کوئی پاکستانی جب اپنے پیاروں کے لیے ایک سستا سا فون تحفے میں لاتا ہے، تو ایئرپورٹ پر اسے خوشی سے زیادہ اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ اب اس کا ٹیکس کیسے بھرا جائے۔
کمیٹی کے اجلاس میں بعض اراکین نے یہ بالکل درست سوال اٹھایا کہ ان بھاری ٹیکسوں کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا یہ صرف حکومتی خزانہ بھرنے کا بہانہ ہے یا پھر چند مخصوص مقامی مینوفیکچررز کو تحفظ دینے کی آڑ میں عوام کو لوٹا جا رہا ہے؟
ایف بی آر کا موقف اور عوام کی مجبوریاں
ایف بی آر کے حکام کا وہی روایتی رونا ہے کہ ٹیکسز حکومتی آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ سیکرٹری خزانہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر سستے فونز پر ٹیکس کم کیا گیا تو حکومت کو ایک ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ لیکن کیا حکومت نے یا بیوروکریسی نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اس "ایک ارب” کی خاطر کروڑوں عوام کو ڈیجیٹل دنیا سے کاٹ کر اور ان پر ذہنی و معاشی بوجھ ڈال کر کتنا بڑا سماجی نقصان کیا جا رہا ہے؟
موبائل فون کو لگژری آئٹم نہ سمجھیں
حکومت کو چاہیے کہ موبائل فون کو لگژری آئٹم سمجھنے کے بجائے اسے روزمرہ کی ضرورت سمجھے۔ ٹیکس کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو عوام کی استطاعت کے مطابق ہو، نہ کہ ان کی کمر توڑ دے۔
قسطوں کی سہولت ایک عبوری راحت تو ہو سکتی ہے، لیکن سستے اور درمیانی قیمت والے فونز پر ٹیکس کی شرح کو یکسر کم کرنا ہی وہ واحد دیرپا حل ہے جو صارفین کے لیے حقیقی آسانی پیدا کر سکتا ہے۔