پراپرٹی ٹیکس 29

فیصل آباد میں‌پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر یونیورسٹی سیل

تصور کیجیے کہ ایک طالبعلم صبح سویرے اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے، کتابیں اٹھائے یونیورسٹی پہنچتا ہے، لیکن وہاں اس کا استقبال ایک بھاری بھرکم لوہے کا تالا اور ‘سیل شدہ’ (Sealed) کا نوٹس کرتا ہے۔

یہ کوئی افسانوی منظر نہیں، بلکہ فیصل آباد کی این ایف سی (NFC) یونیورسٹی کے طلباء کی تلخ حقیقت ہے، جسے حال ہی میں پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر بند کر دیا گیا ہے۔

ایک شاپنگ مال اور یونیورسٹی میں کیا فرق رہ گیا؟

مقامی میڈیا کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے جڑانوالہ روڈ فیصل آباد پر واقع این ایف سی یونیورسٹی کو 8 کروڑ 39 لاکھ روپے (83.9 ملین) کے بھاری پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سیل کیا گیا ہے۔

خبروں کے مطابق، طویل عرصے سے نوٹسز دیے جا رہے تھے، قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور بالآخر وہ قدم اٹھایا گیا جو عموماً کسی ڈیفالٹر فیکٹری، کمرشل پلازے یا دکان کے خلاف اٹھایا جاتا ہے۔

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک درسگاہ اور کسی کمرشل پلازے میں ریاست کی نظر میں کوئی فرق نہیں؟ بے شک ٹیکس دینا ہر ادارے کی قانونی ذمہ داری ہے، لیکن کیا بقایا جات کی وصولی کا واحد طریقہ علم کے دروازوں پر تالے لٹکانا ہی رہ گیا ہے؟

انتظامیہ کی غفلت یا نظام کا فیلور؟

یہ معاملہ صرف محکمہ ایکسائز کی کارروائی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں یونیورسٹی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت بھی عیاں ہے۔ ٹیکس کا حجم 8 کروڑ روپے سے تجاوز کر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک دن کا مسئلہ نہیں تھا۔

سالوں تک اس معاملے کو کیوں لٹکایا گیا؟ کیا انتظامیہ اس انتظار میں تھی کہ جب ٹیمیں تالے لے کر پہنچیں گی تب ہی کوئی حل نکالا جائے گا؟

اس مجرمانہ خاموشی اور غفلت کی قیمت اب وہ طلباء چکا رہے ہیں جن کا اس مالیاتی تنازعے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ ان کی کلاسز، لیبز، اور ریسرچ کا جو حرج ہو رہا ہے، کیا اس کا ازالہ کوئی ٹیکس ریکوری کر سکتی ہے؟

ترجیحات کا ماتم

یہ واقعہ ہمارے معاشرتی اور ریاستی ترجیحات پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف ہم تعلیم کے فروغ، نالج اکانومی (Knowledge Economy) اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے کھوکھلے نعرے لگاتے ہیں، اور دوسری طرف سرکاری محکمے ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہو کر تعلیمی اداروں کی تالہ بندی کر رہے ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں اربوں روپے کے ٹیکس نادہندگان، بڑے بڑے مافیاز اور اشرافیہ کے لیے تو ایمنسٹی اسکیمیں اور ریلیف پیکجز راتوں رات منظور ہو جاتے ہیں، لیکن ایک تعلیمی ادارے کا معاملہ آئے تو بیوروکریسی کا سارا قانون پوری طاقت سے حرکت میں آ جاتا ہے۔

آگے کیا؟

یہ تالا صرف این ایف سی یونیورسٹی کی عمارت پر نہیں لگا، بلکہ ان ہزاروں طلباء کے مستقبل، ریسرچ اور اس امید پر لگا ہے جو وہ اس ملک سے لگائے بیٹھے ہیں۔

حکومت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالیں اور تعلیمی اداروں کو بیوروکریٹک انا اور مالیاتی مس مینجمنٹ کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں۔ کیونکہ جن معاشروں میں مدرسے اور یونیورسٹیاں بند ہونے لگیں، وہاں ترقی کے دروازے خود بخود بند ہو جایا کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں