پاکستان کی سیاست میں خوشامد، چاپلوسی اور درباری کلچر کوئی نئی بات نہیں، لیکن حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ارشد ملک نے ایک ایسا مطالبہ کر دیا ہے جس نے سیاسی تاریخ کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
ان کا فرمانا ہے کہ 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کی تصویر بھی ہونی چاہیے۔ یہ بیان سن کر جہاں عوام ہکا بکا رہ گئے، وہیں اس نے ایک بار پھر شریف خاندان کی شدید خود پسندی (Narcissism)، سیاسی نرگسیت اور ان کے حواریوں کی ذہنی غلامی کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
پاکستان، ریاست یا ذاتی جاگیر؟
یہ حیران کن مطالبہ دراصل کسی ایک ایم پی اے کی انفرادی یا جذباتی سوچ نہیں، بلکہ یہ اس مخصوص مائنڈ سیٹ کا عکاس ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے شریف خاندان کی سیاست کا بنیادی محور رہا ہے۔
شریف خاندان کا المیہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کو کوئی جمہوری ریاست نہیں بلکہ اپنی ذاتی جاگیر (Personal Estate) سمجھتے ہیں۔ ان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کی خود پسندی اور ہر سرکاری منصوبے پر اپنے نام کی تختی لگانے کا خبط ہے۔
ہسپتال ہو، سڑک ہو، میڈیکل کالج ہو یا پھر کوئی عام سا پارک، ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں ہر اینٹ پر "شریف” کا نام کندہ ہونا لازم ہے۔ یاد کیجیے وہ دور جب سرکاری پیسوں سے طلباء میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے، تو اسکرین آن ہوتے ہی نواز شریف کی مسکراتی ہوئی تصویر ابھرتی تھی۔
یلو کیب اسکیم ہو، میٹرو بس ہو یا کوئی اور سرکاری منصوبہ، اسے یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا نتیجہ نہیں بلکہ جاتی امراء کے ذاتی خزانے سے عوام پر کیا گیا کوئی عظیم احسان ہو۔ اپنی ذات کی تشہیر (Self-branding) کا یہ خبط اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ انہیں قائداعظم کی برابری کرنے کا وہم ہونے لگا ہے۔
خوشامد اور درباری کلچر کا عروج
ایم پی اے ارشد ملک کا یہ بیان دراصل مسلم لیگ ن کے اندر پنپنے والے اس بوسیدہ ‘درباری کلچر’ کا نتیجہ ہے جہاں قیادت کی خوشنودی حاصل کرنے کا واحد طریقہ ان کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا ہے۔
ان سیاسی کارکنوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ پارٹی میں ترقی، وزارتیں اور ٹکٹ کارکردگی یا اہلیت کی بنیاد پر نہیں ملتے، بلکہ اس بات پر ملتے ہیں کہ کون کتنی اونچی آواز میں "میاں دے نعرے وجن گے” کا ورد کر سکتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ خود شریف قیادت اس اندھی خوشامد کو روکنے کے بجائے اس سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ ایک سچا اور جمہوری لیڈر کبھی بھی اپنی ذات کو اداروں یا ملک پر فوقیت نہیں دیتا، لیکن یہاں معاملہ ہی الٹ ہے۔ قیادت کی خاموشی اور مسکراہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں یہ چاپلوسی بری نہیں لگتی۔
قائداعظم سے موازنہ: ایک مضحکہ خیز حرکت
قائداعظم محمد علی جناح، جنہوں نے اپنی بے لوث قیادت، غیر متزلزل دیانت اور ان تھک جدوجہد سے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ملک حاصل کیا، ان کے ساتھ ایک ایسے سیاستدان کی تصویر لگانے کا مطالبہ کرنا جو بارہا بدعنوانی، اقربا پروری اور منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کی زد میں رہا ہو، نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ بانی پاکستان کی کھلی توہین ہے۔
ایک طرف وہ عظیم لیڈر ہے جس نے قوم کو سب کچھ دیا اور اپنے اثاثے بھی قوم کے نام کر دیے، اور دوسری طرف وہ خاندان ہے جس پر ہمیشہ یہ الزام رہا ہے کہ انہوں نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور بیرون ملک اربوں کی جائیدادیں بنائیں۔ ان دونوں شخصیات کا آپس میں کیا موازنہ؟
عوام بھوکے، لیڈروں کو تصویروں کی فکر
حقیقت تو یہ ہے کہ جس 5 ہزار کے نوٹ پر یہ لوگ نواز شریف کی تصویر لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، آج کی ہوشربا مہنگائی اور معاشی تباہی میں اس نوٹ کی اپنی وقعت ہی کیا رہ گئی ہے؟
معیشت وینٹی لیٹر پر ہے، عام آدمی آٹے، بجلی اور پیٹرول کے بلوں تلے دب کر خودکشیوں پر مجبور ہے، روزگار ختم ہو چکے ہیں، اور ان حکمرانوں اور ان کے درباریوں کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ کرنسی نوٹوں پر تصویر کس کی چھپے گی۔
اگر واقعی شریف خاندان نے اس ملک کے لیے کوئی ایسا کارنامہ انجام دیا ہے تو انہیں نوٹوں پر تصویر چھپوانے کے بجائے عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ل
یکن بدقسمتی سے نرگسیت اور خود پسندی کے اس اندھے کنویں میں انہیں اپنا عکس تو صاف نظر آتا ہے، لیکن غریب عوام کے دکھ، بھوک اور تکالیف دکھائی نہیں دیتے۔ یہ مطالبہ محض ایک بھونڈا لطیفہ نہیں، بلکہ ہماری سیاست کے اس المیے کا منہ بولتا ثبوت ہے جہاں ذاتی انا اور ذات پرستی کو ریاست کی حرمت سے بالا تر سمجھا جاتا ہے۔