فارمولا ملک 32

فارمولا ملک پر ٹیکس: درحقیقت ‘بچوں پر ٹیکس’ ہے

ہر سال بجٹ آتا ہے، نئے ٹیکس لگتے ہیں، کچھ اشیاء مہنگی ہوتی ہیں اور کچھ سستی۔ لیکن جب ٹیکس کی تلوار بچوں کی خوراک پر چلنے لگے تو سوال صرف معیشت کا نہیں رہتا، یہ انسانیت کا سوال بن جاتا ہے۔

 

فارمولا ملک یا بچوں کا دودھ کوئی تعیشاتی شے نہیں۔ یہ ہزاروں ایسے بچوں کی بنیادی غذائی ضرورت ہے جن کی مائیں طبی وجوہات، بیماری، یا دیگر مجبوریوں کے باعث انہیں دودھ نہیں پلا سکتیں۔ ایسے میں فارمولا ملک ان بچوں کی نشوونما، صحت اور بقا سے جڑا ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ اس پر ٹیکس لگانا درحقیقت ان خاندانوں پر اضافی بوجھ ڈالنا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

 

فارمولا ملک حکومتی ٹیکسوں کے نشانے پر

 

پاکستان میں گزشتہ برس مقامی طور پر تیار کیے جانے والے انفنٹ فارمولا، بے بی فوڈ اور بچوں کی غذائی مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کیے جانے کے فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ناقدین کا مؤقف تھا کہ اس سے بچوں کی غذائی قلت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور والدین سستی مگر کم معیاری غذائی متبادل استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

حالیہ بجٹ مباحث میں بھی فارمولا ملک پر ٹیکس کے معاملے نے ایک بار پھر والدین کو تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بچوں کے فارمولا دودھ پر سیلز ٹیکس کے اطلاق نے اسے مزید مہنگا کرنے کا خدشہ پیدا کیا ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

 

عام آدمی کا بجٹ کون بنائے گا؟

 

ایک عام آدمی کے بجٹ کا تصور کیجیے۔ ایک طرف گھر کا کرایہ، بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات، اور دوسری طرف روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی۔ ایسے میں اگر ایک شیر خوار بچے کے دودھ کے ڈبے کی قیمت میں بھی ٹیکس کے باعث اضافہ ہو جائے تو والدین کے لیے یہ صرف ایک اضافی خرچ نہیں بلکہ ایک ذہنی اذیت بن جاتا ہے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ گھر کے کس خرچ کو کم کیا جائے تاکہ بچے کی خوراک پوری کی جا سکے۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کئی ممالک بچوں کے دودھ اور غذائی مصنوعات کو بنیادی ضرورت سمجھتے ہوئے ان پر ٹیکس عائد نہیں کرتے یا انتہائی کم شرح رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ماہرین اور متعلقہ حلقے بارہا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ بچوں کی غذائی مصنوعات کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے تاکہ ہر بچہ مناسب غذا تک رسائی حاصل کر سکے۔

معاشی استحکام یقیناً ہر حکومت کی ضرورت ہے، لیکن ریاست کی اصل طاقت اس کے خزانے سے نہیں بلکہ اس کے بچوں کی صحت اور مستقبل سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر محصولات بڑھانے کے لیے بچوں کی خوراک کو بھی ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر اس بوجھ کا اختتام کہاں ہوگا؟

 

بچوں پر ٹیکس نہیں لگایا جاسکتا

 

بچوں پر ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا۔ فارمولا ملک پر عائد ہر اضافی ٹیکس دراصل ایک ایسے خاندان کی پریشانی میں اضافہ ہے جو پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ بجٹ بناتے وقت اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ ان معصوم چہروں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جن کا مستقبل مناسب غذا، اچھی صحت اور بہتر پرورش سے وابستہ ہے۔

کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے بچوں کی غذائی ضرورتوں کو آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی اولین ذمہ داری سمجھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں