سینیٹر دنیش کمار 22

پاکستان کا آدھا بجٹ سود کی نذر؛ سینیٹر دنیش کمار کی سینیٹ میں گونج

پاکستان کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں ملکی معاشی صورتحال اور وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران اس وقت ایک غیر معمولی اور چشم کشا منظر دیکھنے میں آیا جب ایک غیر مسلم رکنِ پارلیمنٹ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مالیاتی نظام کو قرآنی احکامات کی روشنی میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر دنیش کمار نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا کہ ملک کے بجٹ کا 50 فیصد حصہ سود کی ادائیگیوں میں جا رہا ہے، جسے قرآن نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔

قرآنی آیات کا حوالہ اور بجٹ پر تنقید

 

سینیٹ اجلاس میں بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر دنیش کمار نے ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع پر بات کی۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران قرآن مجید کی ان آیات کا باقاعدہ حوالہ دیا جن میں سود (ربا) سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

انہوں نے انتہائی افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"قرآن نے سود لینے اور دینے سے واضح طور پر منع کیا ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کا آدھا بجٹ سود کی نذر ہو رہا ہے۔ ہم اپنے بجٹ کا 50 فیصد حصہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ پر خرچ کر رہے ہیں۔”

اقلیتی رکن کی صدائے حق اور لمحہ فکریہ

 

سیاسی اور سماجی حلقوں میں سینیٹر دنیش کمار کے اس خطاب کو زبردست اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایک اقلیتی سینیٹر کی جانب سے ریاست کے معاشی نظام کی خامیوں کو اجاگر کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دینا ایوان، حکمرانوں اور پوری قوم کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

ان کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملک کا موجودہ مالیاتی نظام نہ صرف اخلاقی اور مذہبی اقدار کے منافی ہے بلکہ معاشی بقا کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

ملکی معیشت اور قرضوں کا بھاری بوجھ

 

سینیٹر دنیش کمار کی جانب سے پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار ملکی معیشت کی حقیقی اور خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ معاشی حقائق کے مطابق:

  • قرضوں کی ادائیگی (Debt Servicing): وفاقی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود ادا کرنے میں چلا جاتا ہے۔

  • ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی: سود کی ادائیگیوں کے باعث عوامی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے لیے انتہائی قلیل بجٹ بچتا ہے، جس سے ملک میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • قرضوں کا چکر: ملکی معیشت پرانے قرضوں اور ان کا سود ادا کرنے کے لیے مزید نئے قرضے لینے پر مجبور ہے، جس سے معیشت ایک نہ ختم ہونے والے گرداب میں پھنس چکی ہے۔

پالیسی سازوں کے لیے ایک آئینہ

 

سینیٹر دنیش کمار کی یہ تقریر ایوانِ اقتدار میں بیٹھے پالیسی سازوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس تقریر کو سراہا جا رہا ہے اور یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ آئینِ پاکستان اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ملک کو سودی نظام سے پاک کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

ریاست کو اپنے اخراجات کم کرنے اور معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ایسی معاشی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے جو ملک کو آئی ایم ایف اور سود کے اس شکنجے سے آزاد کروا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں