عمران خان کی آنکھ 47

فیملی اور وکلاء‌سے ملاقات کے بغیر پانچویں‌بار عمران خان کی آنکھ کر پروسیجر کر دیا گیا

پیر، 15 جون 2026 کو سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک بار پھر اڈیالہ جیل سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لایا گیا۔ مقصد ان کی آنکھ کا فالو اپ علاج اور پانچواں اِنٹرا ویٹریئل (Intravitreal) انجیکشن تھا۔

پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، طریقہ کار سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں وہ طبی طور پر مکمل مستحکم رہے اور انہیں ضروری ہدایات کے ساتھ واپس جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

تاہم، اس بظاہر معمول کی طبی کارروائی کے پیچھے کئی ایسے سوالات اور تلخ حقائق چھپے ہیں جو موجودہ سیاسی منظرنامے اور بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علاج، رازداری اور ایک غیر معمولی طرزِ عمل

 

عمران خان کی آنکھ کا عارضہ (Retinal Vein Occlusion) اور اس کا علاج اب کوئی راز نہیں، لیکن جس پراسرار انداز میں انہیں ہسپتال لایا اور لے جایا جاتا ہے، وہ یقیناً حیران کن ہے۔ یہ ایک ایسی نظیر ہے جس کی ملکی تاریخ میں شاذ و نادر ہی کوئی مثال ملتی ہے۔

ایک سابق وزیراعظم اور ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے، لیکن ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالجین کو مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔

جمہوری اور قانونی معاشروں میں قیدیوں کے بھی بنیادی حقوق ہوتے ہیں، جن میں سب سے اہم ان کے اہل خانہ کو ان کی صحت اور نقل و حرکت سے آگاہ رکھنا شامل ہے۔

انتہائی رازداری کے غلاف میں کسی بھی ہائی پروفائل قیدی کو ہسپتال منتقل کرنا نہ صرف کئی طرح کے قانونی ابہام کو جنم دیتا ہے، بلکہ اہل خانہ اور حامیوں کے لیے گہری ذہنی اذیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ پارٹی قیادت کو بے خبر رکھ کر علاج کا یہ سلسلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی سطح پر عدم تحفظ کا احساس کس حد تک بڑھ چکا ہے۔

سیاسی حاشیے پر: جب ‘ملاقات’ ہی سب سے بڑا مطالبہ بن جائے

 

اس صورتحال کا ایک اور تاریک پہلو سابق وزیراعظم کی پیدا کردہ سیاسی تنہائی اور ان کی جماعت کی موجودہ بے بسی ہے۔ ایک وقت تھا جب عمران خان ملکی سیاست کا محور تھے اور ان کا ہر بیان ملکی بیانیے کا رخ طے کرتا تھا۔

لیکن آج، ان کی سیاسی حیثیت کو اس حد تک حاشیے (margin) پر دھکیلنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کی جماعت کا سب سے بڑا اور حتمی مطالبہ صرف اپنے قائد سے "ملاقات” تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

چاہے عید جیسے بڑے تہوار ہوں، بجٹ جیسے اہم قومی دن ہوں، یا ملکی سیاست کے نازک موڑ، تحریک انصاف کی جانب سے کوئی بڑی سیاسی حکمتِ عملی سامنے آنے کے بجائے، ان کا بیانیہ محض اس ایک نقطے پر سمٹ آیا ہے کہ انہیں عمران خان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک سابق وزیراعظم کے لیے یہ بنیادی قانونی اور انسانی مطالبہ بھی پورا نہیں کیا جا رہا۔

ملاقاتوں پر یہ کڑی اور غیر اعلانیہ پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ نظام انہیں روزمرہ کے سیاسی عمل اور خبروں سے کس حد تک کاٹ دینا چاہتا ہے۔

آج بھی ان کی پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس علاج بارے لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ ان کے اہل خانہ بھی عدالتی احکامات کے مطابق ہر ہفتے دو بار اڈیالہ جیل جاتے لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔

مستقبل کے مضمرات

 

 

عمران خان کی صحت کے حوالے سے پمز ہسپتال کی رپورٹ ان کے خاندان اور حامیوں کیلئے ناقابل اعتماد ہے کیونکہ انہیں تقریباً چھ ماہ سے اپنی فیملی سے نہیں ملنے دیا گیا۔

اس دوران جو واحد ملاقات ان کے وکیل سلمان صفدر سے ہوئی اس میں ہوشربا انکشافات آئے کے عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہو گئی ہے ۔ اس کے بعد بھی اب تک ان کی فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت نہیں ملتی۔

ایک مقبول سیاسی رہنما کو اس حد تک تنہا کر دینا کہ ان کی جماعت کا واحد مطالبہ صرف ان کی خیریت جاننا رہ جائے، سیاست کے ایک انتہائی تلخ دور کی عکاسی کرتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی قیدیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک وقتی طور پر سیاسی منظرنامے کو خاموش تو کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ نظام پر عوامی عدم اعتماد اور معاشرے میں خلیج کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں مکافاتِ عمل کا دائرہ سمٹ کر بہت جلد واپس بھی آجاتا ہے۔ ماضی میں آج کی حکمران جماعت کے  قائدین بھی جیل کاٹ چکے ہیں ۔ لیکن اس سیاسی غیر روادری کا مظاہرہ مستقبل میں ان کیلئے مشکلات لا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں