وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کر دیا گیا ہے، اور ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک کے غریب، مزدور اور تنخواہ دار طبقے کی نظریں حکومت کی جانب لگی تھیں کہ شاید اس بار مہنگائی کے اس بے رحم طوفان میں انہیں کوئی حقیقی ریلیف مل سکے۔
لیکن بجٹ تقریر اور سامنے آنے والی دستاویزات نے ایک بار پھر عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار اور ایک عام آدمی کی حقیقی زندگی کی جدوجہد کے درمیان جو گہری خلیج ہے، وہ اس بجٹ میں مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔
سرکاری ملازمین ریلیف پانے میں ناکام
بجٹ دستاویزات کے ریلیف اقدامات کے حصے کے مطابق، حکومت نے مہنگائی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا زبانی ادراک تو کیا ہے، لیکن عملی طور پر جو قدم اٹھایا ہے وہ کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محض سات (7) فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جب ہم اس حکومتی اعلان کو روزمرہ کی زندگی اور بازار کے حقائق کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں، تو یہ اضافہ واقعی "اونٹ کے منہ میں زیرہ” محسوس ہوتا ہے۔
پچھلے چند سالوں میں بجلی، گیس، پیٹرول، اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں جس بے تحاشا اور ظالمانہ شرح سے اضافہ ہوا ہے، اس کے سامنے 7 فیصد اضافہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
ایک عام سرکاری یا پرائیویٹ ملازم، جو مہینے کے پندرہ دن گزرنے کے بعد ہی ادھار مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اس کے لیے یہ اضافہ بجلی کے ایک مہینے کے بل کا چوتھائی حصہ بھی ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔
کم از کم اجرت اور پنشن: زمینی حقائق سے دوری
دوسری جانب، پسے ہوئے مزدور طبقے کے لیے بجٹ 27-2026 کم از کم ماہانہ تنخواہ (Minimum Wage) میں بمشکل 10 فیصد اضافے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کی موجودہ حالات میں کوئی عملی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ ایک ایسے وقت میں جب دو وقت کی سوکھی روٹی کا حصول ایک غریب مزدور کے لیے ایک اذیت ناک جدوجہد بن چکا ہے، یہ معمولی اضافہ ان کے گھر کا چولہا جلانے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔
یہی کربناک صورتحال ہمارے بزرگ پنشنرز کی ہے، جنہیں اس کمزوری کی عمر میں علاج معالجے اور زندگی بچانے والی ادویات کے لیے خطیر رقم درکار ہوتی ہے۔ ان کی پنشن میں بھی صرف 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافے کے بعد یہ معمولی رقم ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
فلاحی ریاست کا تقاضا بمقابلہ حکومتی ترجیحات
ایک طرف بھاری بھرکم ٹیکس اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں، جن کا بالواسطہ سارا بوجھ عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے، اور دوسری جانب ریلیف کے نام پر چند فیصد کا اضافہ عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق کی عکاسی کرتا ہے۔
بجٹ کا مقصد محض کھاتوں کو متوازن کرنا یا بین الاقوامی اداروں کے اہداف کو پورا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی فلاحی ریاست کی معاشی پالیسی کا مرکز ‘انسان’ اور اس کی بقا ہونی چاہیے۔ جب تک بجٹ بناتے وقت پالیسی سازوں کے ذہنوں میں غریب کے آنسو اور مزدور کے پسینے کی قدر نہیں ہوگی، تب تک ایسے بجٹ محض اعداد و شمار کا بے حس گورکھ دھندا ہی کہلائیں گے۔