سرکاری سکولوں کی نجکاری 27

سرکاری سکولوں کی نجکاری: اصلاحات یا ریاست کا بنیادی ذمہ داریوں سے فرار؟

کسی بھی باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے میں تعلیم کو منافع بخش کاروبار نہیں، بلکہ ایک بنیادی انسانی حق سمجھا جاتا ہے۔

حالیہ دنوں میں حکومت نے سرکاری سکولوں کی نجکاری یعنی کہ  پرائیویٹ سیکٹر، این جی اوز یا نجی افراد کے حوالے کرنے (نجکاری یا آؤٹ سورسنگ) کی جو پالیسی اپنائی گئی ہے، اسے بظاہر "تعلیمی نظام کی بہتری” کے خوشنما غلاف میں لپیٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

لیکن اگر جذبات سے ہٹ کر، گہرائی اور حقائق کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جائے، تو یہ ریاست کا اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے صریح فرار اور اپنے ہی بنائے گئے نظام کے مکمل زوال کا اعتراف نظر آتا ہے۔

اس پالیسی کے خدوخال اور اس کے پیچھے چھپی حقیقتوں کا تجزیہ چند بنیادی اور ناقابلِ تردید سوالات کو جنم دیتا ہے۔

1. ٹیکس کا جواز اور سماجی معاہدہ

 

سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست عوام سے کس بنیاد پر ٹیکس وصول کرتی ہے؟ سماجی معاہدے (Social Contract) کی رو سے عوام اپنی گاڑھی کمائی سے ریاست کو مختلف مدوں (انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، وغیرہ) میں اس لیے ٹیکس دیتے ہیں تاکہ ان کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات مفت یا سستے داموں فراہم کی جائیں۔

اگر حکومت یہ دلیل دیتی ہے کہ اس کے پاس سکولوں کو چلانے، اساتذہ کو تنخواہیں دینے یا تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں، تو پھر عوام سے بھاری ٹیکس وصول کرنے کا کیا قانونی و اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے؟

اگر ریاست اپنی اس سب سے اہم ذمہ داری کا بوجھ بھی نجی شعبے اور کاروباری افراد کے کاندھوں پر ڈال رہی ہے، تو یہ ٹیکس دہندگان کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔

2. کیا ریاست واقعی بے بس ہے؟

 

حکومت کے پاس لامحدود وسائل، قومی بجٹ، بااختیار بیوروکریسی، اور ایک وسیع انفراسٹرکچر موجود ہوتا ہے۔ اگر سرکاری سکولوں میں اساتذہ ڈیوٹی نہیں دے رہے، معیارِ تعلیم گر رہا ہے، یا انتظامی ڈھانچہ زنگ آلود ہو چکا ہے، تو اس کی براہِ راست ذمہ داری حکومت کی مانیٹرنگ اور انتظامی کمزوری پر عائد ہوتی ہے۔

سکولوں کو محض اس لیے پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دینا کیونکہ "نظام ٹھیک نہیں چل رہا”، اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ حکومت اپنا نظام ٹھیک کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اس نے سسٹم کی خرابیوں کے آگے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں انتظامی ناکامی کا حل اداروں کو بیچ دینا یا نیلام کرنا نہیں ہوتا، بلکہ خامیوں کی نشاندہی، کڑا احتساب اور اصلاحات ہوتا ہے۔

3.سرکاری سکولوں کی نجکاری: تعلیم بمقابلہ تجارتی مقاصد

 

جن افراد یا اداروں کو یہ سکول ٹھیکے پر حوالے کیے جا رہے ہیں، ان کی اکثریت کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم کی فراہمی سے زیادہ "مالی منافع” (Profit Maximization) ہے۔

جب کوئی ادارہ حکومت سے ایک مخصوص رقم لے کر سکول چلانے کا معاہدہ کرتا ہے، تو وہ اپنا منافع بڑھانے کے لیے سب سے پہلا کلہاڑا اساتذہ پر چلاتا ہے۔ وہ انتہائی کم تنخواہوں پر غیر تربیت یافتہ اور کم تعلیم یافتہ اساتذہ بھرتی کرتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے ملنے والے فنڈز اور سکول کے نچلے درجے کے اخراجات کے درمیان بچ جانے والا فرق ہی ان کا اصل منافع ہوتا ہے۔ جب تعلیم منافع کے ترازو میں تولی جائے گی، تو وہاں طلباء کی ذہنی و اخلاقی تربیت محض ایک سراب بن کر رہ جائے گی اور سکول علم گاہوں کے بجائے فیکٹریاں بن جائیں گے۔

4. آئینی و حکومتی ذمہ داریوں سے انحراف

 

  • آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی: پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کر کے ریاست اپنے اس آئینی فرض سے منہ موڑ رہی ہے، کیونکہ نجی شعبہ بالآخر کسی نہ کسی شکل میں والدین پر بوجھ ڈالتا ہے۔

  • بجٹ کی حقیقت اور ترجیحات: عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ترقی پذیر ملک کو اپنی جی ڈی پی (GDP) کا کم از کم 4 فیصد تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے، ہم بمشکل 1.5 سے 2 فیصد کے درمیان تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہرگز نہیں، بلکہ ملکی ترجیحات کا غلط ہونا ہے۔

  • مربوط تعلیمی پالیسی کا فقدان: اس وقت سکولوں کی نجکاری کسی طویل المدتی اور سوچی سمجھی تعلیمی پالیسی کا حصہ نظر نہیں آتی، بلکہ یہ اندھا دھند اور ہنگامی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ بغیر کسی مضبوط اور کڑے ریگولیٹری فریم ورک  کے سکولوں کو یوں ریڑھیوں پر بانٹ دینا، قوم کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

  • کامیاب عالمی ماڈلز سے انحراف: دنیا میں تعلیمی لحاظ سے سب سے کامیاب سمجھے جانے والے ممالک (مثلاً فن لینڈ، جاپان، سنگاپور) میں تعلیم مکمل طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وہاں کا سرکاری تعلیمی نظام اتنا مضبوط ہے کہ ملک کے صدر اور ایک عام مزدور کا بچہ ایک ہی سرکاری سکول میں پڑھتا ہے۔ ہم کامیابی کے ان مسلمہ ماڈلز کو اپنانے کے بجائے نجکاری کا وہ ناکام تجربہ کر رہے ہیں جو طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کر دے گا۔

حکومت کا کام تعلیمی نظام سے جان چھڑانا نہیں درست کرنا

 

حکومت کا کام تعلیمی نظام سے جان چھڑانا نہیں، بلکہ اس کی سرپرستی کرنا اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ سرکاری سکولوں کی نجکاری سے شاید حکومت کا کچھ مالی بوجھ عارضی طور پر کم ہو جائے یا سرکاری فائلوں میں چند اعداد و شمار بہتر نظر آنے لگیں، لیکن اس کی بھاری قیمت ہماری آنے والی نسلیں چکائیں گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ میں تعلیم کا حصہ بڑھایا جائے، اساتذہ کی ٹریننگ پر سرمایہ کاری کی جائے اور سکولوں میں کڑا مانیٹرنگ سسٹم نافذ کیا جائے۔ یاد رکھیں، زندہ قومیں سکول بیچ کر نہیں، بلکہ سکولوں کو سنوار کر ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں