حال ہی میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم سائیکو (Psycho)، جس میں شان شاہد اور میرا نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں، کی تشہیری مہم میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ فلم ذہنی صحت کے مسائل پر گہری روشنی ڈالے گی۔
لیکن فلم دیکھنے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ذہنی صحت پر روشنی ڈالنے کے وعدے کے بعد، ‘سائیکو’ نے اس کے بالکل برعکس کام کیا ہے۔”
خطرناک دقیانوسی تصورات کی تشہیر
فلم میں ذہنی بیماری کو گہرائی سے سمجھنے، اس کے اسباب بیان کرنے یا اس پر کوئی بامقصد مکالمہ شروع کرنے کے بجائے، اسے محض ہارر اور تھرلر کے سستے ہتھکنڈوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
ذہنی مسائل کا شکار کردار کو ایک بے جان خاکہ (Caricature) بنا کر پیش کیا گیا جس کا نہ کوئی پس منظر دکھایا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ وہ اس کرب ناک حالت تک کیسے پہنچی۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ فلم اس فرسودہ اور خطرناک تصور کو مزید تقویت دیتی ہے کہ نفسیاتی مریض محض خطرناک، پاگل اور متشدد ہوتے ہیں، اور معاشرے کی بہتری اسی میں ہے کہ انہیں "ختم” کر دیا جائے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں ذہنی صحت کے حوالے سے پہلے ہی شدید لاعلمی اور توہم پرستی پائی جاتی ہے، پردہِ سیمیں پر ایسی غیر ذمہ دارانہ عکاسی کسی بڑے المیے سے کم نہیں۔
معاشرے پر اس غلط بیانی کے گہرے اثرات
میڈیا میں ذہنی امراض کی اس قسم کی سنسنی خیز اور منفی عکاسی کے معاشرے پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں:
خوف اور فاصلے: جب سکرین پر ذہنی مسائل کا شکار افراد کو ولن یا خوفناک مخلوق بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو عام لوگ حقیقت میں بھی ایسے افراد سے ڈرنے اور کترانے لگتے ہیں۔
علاج سے گریز (Stigma): اس کا سب سے بڑا نقصان اس انسان کو ہوتا ہے جو حقیقت میں ڈپریشن، انگزائٹی (Anxiety) یا کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہے۔ معاشرے کے طعنوں، پاگل پن کے لیبل اور بدنامی کے ڈر سے وہ انسان کبھی مدد نہیں مانگ پاتا۔
تنہائی اور بے بسی: فلموں کا یہ غیر حساس رویہ ان بیمار انسانوں کو تنہائی کی اس اندھیری کھائی میں دھکیل دیتا ہے جہاں وہ اپنی تکلیف چھپانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انسانی ہمدردی کی عدم موجودگی
اس پوری فلم میں جس چیز کی سب سے زیادہ کمی محسوس ہوتی ہے، وہ ہے ‘احساسِ ہمدردی’۔ فلم کے دیگر کرداروں، حتیٰ کہ منفی کردار ادا کرنے والے مردوں تک کو کہانی میں کہیں نہ کہیں ہمدردی یا بہتری کا راستہ دے دیا گیا، لیکن ایک ذہنی طور پر بیمار عورت کے لیے کہانی میں کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔
حقیقت میں نفسیاتی مسائل سے گزرنے والے افراد ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ وہ ہماری محبت، توجہ اور علاج کے متقاضی ہوتے ہیں، نفرت یا مذاق کے نہیں۔ ذہنی صحت ایک حقیقی اور کرب ناک انسانی تجربہ ہے، یہ کوئی ایسا بکاؤ موضوع (Gimmick) نہیں جسے سکرین پر خون ریزی، خوف اور سنسنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
فلم سائیکو نے موقع گنوا دیا
فلم ‘سائیکو‘ کے پاس ایک شاندار موقع تھا کہ وہ پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت پر ایک مثبت اور صحت مند مکالمے کا آغاز کرتی، لیکن بدقسمتی سے اس نے ان ہی پرانے اور فرسودہ تصورات کی آبیاری کی جن سے ہم چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سنیما کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو انسان کا درد محسوس کرنا سکھائے۔ جب تک ہم ذہنی بیماریوں کو خوف اور مذاق کے بجائے ایک قابلِ علاج اور انسانی مسئلے کے طور پر سکرین پر نہیں دکھائیں گے، ہم ایک باشعور اور ہمدرد معاشرے کی تشکیل میں ناکام رہیں گے۔