کسی اپنے کا بچھڑ جانا یقیناً زندگی کا سب سے گہرا اور جان لیوا دکھ ہے۔ جب گھر کا کوئی فرد دنیا سے چلا جاتا ہے تو پیچھے رہ جانے والوں کے لیے زندگی کبھی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
ایسے میں عزیز و اقارب کا ان کے پاس آنا اور ہمدردی کرنا ایک فطری اور خوبصورت عمل ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایک انتہائی تکلیف دہ رواج نے جڑ پکڑ لی ہے— "پہلی عید” کا سوگ۔
پہلی عید کے سوگ کی یہ ایسی رسم ہے جس میں لوگ عید کے خوشیوں بھرے دن، اس گھر کا رخ کرتے ہیں جہاں پچھلے سال کوئی فوتگی ہوئی ہو۔ بظاہر اس کا مقصد ہمدردی کرنا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں ہم انجانے میں ان کے بھرتے ہوئے زخموں کو دوبارہ کرید دیتے ہیں۔
آئیے اس رسم کا نفسیاتی، سماجی اور سب سے بڑھ کر اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔
ایک نفسیاتی اور جذباتی پہلو
ذرا اس خاندان کے بارے میں سوچیے جس نے حال ہی میں اپنا پیارا کھویا ہے۔ کئی مہینوں کے کرب کے بعد، شاید عید کے دن وہ خود کو سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
شاید انہوں نے بچوں کی خاطر چہرے پر ایک مسکراہٹ سجا لی ہو اور اللہ کی رضا پر راضی ہونے کی کوشش کر رہے ہوں۔
ایسے میں اچانک رشتہ داروں اور محلے داروں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ آتے ہیں، گلے مل کر روتے ہیں، اور مرحوم کی باتیں چھیڑ کر پورے گھر کا ماحول دوبارہ سوگوار کر دیتے ہیں۔
ہمدردی کے نام پر ہم دراصل ان سے وہ تھوڑی سی خوشی اور سکون بھی چھین لیتے ہیں جو وقت نے انہیں دی ہوتی ہے۔ یہ عمل انہیں اندھیرے سے نکالنے کے بجائے دوبارہ اسی صدمے میں دھکیل دیتا ہے۔
اسلام کی روح اور سوگ کے احکامات
پہلی عید کے سوگ کی اس رسم کو اسلام کی عینک سے دیکھیں تو یہ واضح طور پر دین کی روح کے خلاف نظر آتی ہے۔ اسلام ایک مکمل اور دینِ فطرت ہے، جو انسان کے جذبات کا احترام بھی کرتا ہے اور اسے اعتدال کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
سوگ کی مدت:
اسلام نے واضح طور پر سوگ کی مدت صرف تین دن مقرر کی ہے (سوائے بیوہ کے جس کی عدت چار ماہ دس دن ہے)۔ تین دن کے بعد سوگ منانے، ماتم کرنے یا نوحہ کرنے کی سختی سے ممانعت ہے۔
عید کا فلسفہ:
عید الفطر اور عید الاضحیٰ مسلمانوں کے لیے اللہ کی طرف سے انعام کے دن ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں واضح طور پر آیا ہے کہ یہ کھانے پینے اور خوشی منانے کے دن ہیں۔ اسی لیے عید کے دن روزہ رکھنا بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔
صبر اور شکر:
جب ہم عید کے دن کسی کے گھر جا کر زبردستی کا سوگ مناتے ہیں، تو ہم دراصل ان کے "صبر” کو توڑنے کا سبب بنتے ہیں۔ عید کا دن شکر گزاری کا دن ہے، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا ہی اصل ایمان ہے۔
ہم یہ کیوں کرتے ہیں؟ ("لوگ کیا کہیں گے” کا خوف)
بدقسمتی سے، ہماری اس روایت کے پیچھے کوئی دینی یا اخلاقی جواز نہیں، بلکہ محض سماجی دباؤ ہے۔ ہم یہ سوچ کر سوگ والے گھر جاتے ہیں کہ "اگر پہلی عید پر نہ گئے تو وہ کیا سوچیں گے؟”، "لوگ طعنے دیں گے کہ کیسی بے حس دنیا ہے”۔
یہ ایک غلط فہمی ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عید کے دن تعزیت پر جانا یا ماتم برپا کرنا ہمدردی نہیں، بلکہ ایک سماجی تکلف ہے جس کی قیمت وہ سوگوار خاندان اپنے آنسوؤں سے چکاتا ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اس فرسودہ روایت کو ختم کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم غمزدہ خاندان کو بھول جائیں۔ ہمیں ان کے پاس جانا چاہیے، لیکن ہمارا انداز مختلف اور مثبت ہونا چاہیے:
خوشی کا پیغام بن کر جائیں: جب ان کے گھر جائیں تو چہرے پر مسکراہٹ رکھیں۔ انہیں عام انداز میں "عید مبارک” کہیں۔
ہمت بندھائیں: رونے دھونے اور مرحوم کی بیماری یا موت کا ذکر چھیڑنے کے بجائے، ان کے بچوں سے پیار کریں، انہیں عیدی دیں اور ان کی ہمت بندھائیں۔
ایصالِ ثواب: اگر مرحوم کو یاد کرنا ہی ہے تو ان کے لیے دل میں یا مل کر مغفرت کی دعا کریں، درود شریف پڑھیں، مگر ماحول کو بوجھل نہ ہونے دیں۔
کھانا یا تحفہ لے کر جائیں: سوگوار خاندان کو یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، اور عید کی خوشیوں میں وہ آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
عید پر سوگ کی روایت
کسی کی موت پر غمگین ہونا انسانی فطرت ہے، لیکن دکھوں کو سینے سے لگا کر بیٹھ جانا اور خوشی کے دنوں کو بھی ماتم بنا لینا نہ تو زندہ رہنے والوں کے حق میں بہتر ہے اور نہ ہی دنیا سے جانے والوں کے لیے۔
آئیے! اس عید سے ایک نئی شروعات کریں۔ "پہلی عید کے سوگ” کی اس غیر اسلامی اور غیر فطری رسم کو دفن کریں۔ غمزدہ دلوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کریں، کیونکہ سچی ہمدردی زخم کریدنے میں نہیں، بلکہ ان پر مرہم رکھنے میں ہے۔