
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حال ہی میں ایک میڈیکل کانووکیشن کے دوران ایک ایسی بات کہی جس نے ہمارے معاشرے کی ایک انتہائی تلخ اور چبھتی ہوئی حقیقت پر انگلی رکھ دی۔
انہوں نے طالبات اور ان کے والدین پر زور دیا کہ شادی کے وقت اپنے ہونے والے سسرال سے یہ بات باقاعدہ تحریری طور پر طے کریں کہ انہیں شادی کے بعد میڈیکل پریکٹس جاری رکھنے کی اجازت ہوگی کیونکہ صوبے اور ملک کو ان کی ضرورت ہے۔
بظاہر یہ ایک عام سا یا شاید کچھ لوگوں کے لیے عجیب مشورہ لگ سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے وہ کرب اور ریاستی نقصان چھپا ہے جسے ہم برسوں سے ‘ڈاکٹر برائیڈ’ (Doctor Bride) کے نام پر خاموشی سے برداشت کر رہے ہیں۔
میرٹ کی جنگ اور خوابوں کا قتل
پاکستان کے میڈیکل کالجز کا میرٹ اس وقت آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ ایک سیٹ حاصل کرنے کے لیے طلباء و طالبات کو دن رات ایک کرنا پڑتا ہے، کتابوں میں سر کھپانا پڑتا ہے اور کئی کئی سالوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔
یہ بات بلاشبہ باعثِ فخر ہے کہ ہماری بچیاں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر میڈیکل کالجز کی 70 فیصد سے زائد نشستوں پر خالص میرٹ کے ذریعے قبضہ کر لیتی ہیں۔ لیکن اصل کہانی اور معاشرتی المیہ اس ڈگری کے ملنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بہو اور خاندانی اسٹیٹس
ہمارے ہاں ایک عجیب سی معاشرتی منافقت نے جنم لیا ہے۔ ہر خاندان کو اپنے بیٹے کے لیے ‘ڈاکٹر بہو’ چاہیے، لیکن اس لیے نہیں کہ وہ معاشرے کی خدمت کرے، ہسپتالوں میں زندگیاں بچائے یا اپنے علم کا لوہا منوائے، بلکہ محض اس لیے کہ خاندانی وقار اور اسٹیٹس میں اضافہ ہو۔
شادی کے بعد وہی معاشرہ اور سسرال، جو کل تک ڈاکٹر بہو کی ڈگری پر فخر کر رہا ہوتا ہے، اچانک ہسپتال کی ڈیوٹی، نائٹ شفٹس، اور ایمرجنسی کے نام پر اسے گھر بیٹھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک قابل ڈاکٹر، جس کے ہاتھ میں کسی کی دھڑکنیں بحال کرنے کا ہنر تھا، وہ محض گھر کے کچن اور ڈرائنگ روم تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔
ریاست اور میرٹ کا ناقابلِ تلافی نقصان
جب ایک طالبہ اتنے سخت میرٹ سے گزر کر میڈیکل کی سیٹ پر آتی ہے اور بعد میں پریکٹس نہیں کرتی، تو یہ صرف اس کا ذاتی نقصان نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ساتھ ایک زیادتی ہے۔
کسی حق دار کی حق تلفی: جب وہ ایک سیٹ پر قبضہ جماتی ہے تو دراصل وہ سیٹ کسی ایسے طالب علم (خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی) کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے جو شاید پوائنٹس کے معمولی فرق سے پیچھے رہ گیا ہو، لیکن اس کے دل میں واقعی ایک ڈاکٹر بن کر عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ تھا۔ ہم نے ایک سیٹ ضائع کر کے دراصل معاشرے کو ایک فعال ڈاکٹر سے محروم کر دیا۔
وسائل کا بے دریغ ضیاع: ایک سرکاری میڈیکل کالج میں ایک ڈاکٹر تیار کرنے پر ریاست کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں—اور یہ سارا پیسہ اس غریب عوام کے ٹیکس کا ہوتا ہے جو ہسپتالوں کی لائنوں میں دھکے کھا رہی ہوتی ہے۔ جب وہ ڈاکٹر پریکٹس نہیں کرتی، تو ریاست کا وہ سارا سرمایہ رائیگاں چلا جاتا ہے۔
خواتین ڈاکٹرز کی شدید کمی: آج بھی ہمارے دیہی، پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں خواتین مناسب علاج نہ ملنے یا مرد ڈاکٹرز کے پاس جانے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ ہمیں گائناکالوجسٹس اور فی میل فزیشنز کی شدید ضرورت ہے، لیکن ہماری آدھی سے زیادہ تیار شدہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ کھیپ گھروں میں بیٹھی ہے۔
وقت کی اہم ضرورت
وزیرِ اعلیٰ کے پی کے کا یہ بیان دراصل ایک ‘ویک اپ کال’ ہے۔ یہ وقت آ گیا ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کو صرف ‘اچھا اور کھاتا پیتا رشتہ’ ملنے کی غرض سے میڈیکل نہ پڑھائیں۔
اگر ایک بچی اتنی مشکل پڑھائی مکمل کر کے ڈاکٹر بنتی ہے، تو اسے کام کرنے کا بھرپور حق ملنا چاہیے۔ شادی کے وقت یہ شرائط طے کرنا کوئی معیوب بات نہیں، بلکہ یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ معاشرے کا ایک انتہائی کارآمد اور قیمتی فرد ضائع نہیں ہوگا۔
ڈاکٹری صرف ایک کاغذ کی ڈگری کا نام نہیں، یہ ایک مسیحائی ہے۔ اسے فریم کر کے دیوار پر لٹکانے کے بجائے، ہسپتالوں کے وارڈز میں سسکتی انسانیت کے کام آنا چاہیے۔ تبھی ہم اس میرٹ کے ساتھ بھی انصاف کر سکیں گے جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا، اور اس معاشرے کے ساتھ بھی جو ان کی راہ تک رہا ہے۔



