پی ٹی سی ایل نے انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی وراننگ جاری کر دی
پی ٹی سی ایل کے مطابق، انٹرنیٹ کی رفتار شام کے اوقات میں سست رہے گی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ وہی وقت ہوتا ہے جب فری لانسرز نے اپنے بین الاقوامی کلائنٹس کو جواب دینا ہوتا ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال اب محض ایک تفریح نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کا روزگار، طلبہ کی تعلیم اور کاروبار کا پہیہ بن چکا ہے۔لیکن بدقسمتی سے، یہاں بجلی کے بعد اب انٹرنیٹ کی لوڈ شیڈنگ کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔
حالیہ دنوں میں پی ٹی سی ایل کی جانب سے جاری کردہ نوٹس—جس میں سمندری کیبل کی مرمت کے باعث 11 مئی سے 18 مئی تک سروس متاثر رہنے کا بتایا گیا ہے—نے ایک بار پھر صارفین کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔
مرمت کا لامتناہی سلسلہ
پی ٹی سی ایل کے مطابق، انٹرنیٹ سروس شام کے اوقات میں سست رہے گی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ وہی وقت ہوتا ہے جب فری لانسرز نے اپنے بین الاقوامی کلائنٹس کو جواب دینا ہوتا ہے، طلبہ نے اپنی اسائنمنٹس اپلوڈ کرنی ہوتی ہیں اور عام آدمی دن بھر کی تھکن کے بعد تھوڑا سکون ڈھونڈتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انٹرنیشنل کیبل کنسورشیم کے پاس کوئی ایسا متبادل نظام (Redundancy) نہیں ہے جو ایک کیبل کی خرابی کی صورت میں ٹریفک کو فوری دوسرے راستے پر منتقل کر سکے؟ یا پھر ہماری آئی ٹی انفراسٹرکچر کی بنیادیں اتنی کمزور ہیں کہ ایک کیبل میں آنے والی معمولی خرابی پورے ملک کے ڈیجیٹل پہیے کو جام کر دیتی ہے؟
معیشت اور نوجوانوں کا قتلِ عام
آج کا دور ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جب انٹرنیٹ سروس کئی دنوں تک "ڈگریڈیشن” کا شکار رہتا ہے، تو اس کا براہِ راست اثر ان لاکھوں فری لانسرز پر پڑتا ہے جو بڑی مشکل سے عالمی منڈی میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔
کلائنٹس کا اعتماد ٹوٹنا: ایک غیر ملکی کلائنٹ کو اس سے غرض نہیں کہ بحیرہ عرب میں کیبل خراب ہے، اسے صرف اپنا کام وقت پر چاہیے۔
مالی نقصان: انٹرنیٹ کی سست روی سے صرف ویب پیج سست نہیں کھلتے، بلکہ ڈالر کمانے والے ہاتھ بھی رک جاتے ہیں۔
ایک ‘انسانی’ المیہ
صرف معیشت ہی نہیں، انٹرنیٹ کی یہ بندش ایک انسانی مسئلہ بھی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم اپنوں سے ویڈیو کال پر بات کرنا ہو یا کسی مریض کی رپورٹس آن لائن ڈاکٹر کو بھیجنی ہوں، انٹرنیٹ کی یہ "لوڈ شیڈنگ” ہر جگہ رکاوٹ بنتی ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ اب ایک تعیش نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے، اور اس کی بار بار کی خرابی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
ہم کب تک معذرت قبول کریں گے؟
پی ٹی سی ایل کا "ہمیں اس زحمت پر افسوس ہے” والا جملہ اب ایک روایتی جملہ بن کر رہ گیا ہے۔ عوام کو ‘افسوس’ نہیں، ‘انٹرنیٹ’ چاہیے۔ ہمیں ایسے ٹھوس حل کی ضرورت ہے جہاں بیک اپ سسٹم اتنا مضبوط ہو کہ سمندر کی تہہ میں ہونے والی کوئی بھی تبدیلی عام آدمی کی زندگی کو مفلوج نہ کر سکے۔
حرفِ آخر
اگر ہم واقعی پاکستان کو ایک ڈیجیٹل قوت بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں کیبلز کی مرمت کے اشتہارات سے نکل کر ایک ایسے انفراسٹرکچر کی طرف بڑھنا ہوگا جو 24/7 بلاتعطل سروس فراہم کر سکے۔ ورنہ یہ "انٹرنیٹ کی لوڈ شیڈنگ” ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دے گی۔



