اہم خبریںصحتمتفرق

سانپ کے ڈسنے کے بعد ہسپتال پہنچنے تک ضروری ابتدائی طبی امداد

سانپ کے ڈسنے کی صورت میں سب سے پہلا قدم گھبراہٹ پر قابو پانا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی چند منٹ اور درست فرسٹ ایڈ مریض کے زندہ رہنے کے امکانات کو بڑھا دیتے ہیں۔

پاکستان میں گرمیوں کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی دیہی اور نیم شہری علاقوں میں سانپ کے ڈسنے (Snakebite) کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے سانپ اپنے بلوں سے نکل کر ٹھنڈی اور سایہ دار جگہوں کا رخ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانوں سے ان کا سامنا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ایسے ہنگامی حالات میں، ہسپتال پہنچنے اور باقاعدہ طبی امداد ملنے تک کا وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے لوگوں میں شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے تاکہ غلط روایتی طریقوں سے بچ کر مریض کی جان بچائی جا سکے۔

یہاں عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر مستند طبی اداروں کی گائیڈ لائنز کی روشنی میں ابتدائی طبی امداد کا تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

باقاعدہ طبی امداد ملنے تک کے اہم اقدامات

 

سانپ کے ڈسنے کی صورت میں سب سے پہلا قدم گھبراہٹ پر قابو پانا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی چند منٹ اور درست فرسٹ ایڈ مریض کے زندہ رہنے کے امکانات کو بڑھا دیتے ہیں۔

1. مریض کو پرسکون رکھنا

 

عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہدایات کے مطابق، سانپ کے کاٹنے کے بعد سب سے پہلا اور اہم کام مریض کو ذہنی طور پر پرسکون کرنا ہے۔

گھبراہٹ اور خوف کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جس سے زہر (Venom) تیزی سے پورے جسم اور خون میں پھیلنے لگتا ہے۔ مریض کو تسلی دیں کہ ہر سانپ زہریلا نہیں ہوتا اور بروقت علاج سے جان بچ سکتی ہے۔

2. متاثرہ حصے کو بے حرکت کرنا

 

مریض کو چلنے پھرنے سے روک دیں۔ جس اعضاء (بازو یا ٹانگ) پر سانپ نے کاٹا ہے، اسے بالکل بے حرکت کر دیں۔ اس مقصد کے لیے لکڑی کی کھپچی (Splint) یا کسی سیدھی چیز کا سہارا لیا جا سکتا ہے تاکہ پٹھوں کی حرکت سے زہر خون میں جلدی شامل نہ ہو۔

3. تنگ اشیاء اور زیورات اتارنا

 

سانپ کے ڈسنے کی جگہ پر سوجن (Swelling) بہت تیزی سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے فوری طور پر انگوٹھی، چوڑیاں، گھڑی، یا تنگ کپڑے اتار دینے چاہییں تاکہ سوجن بڑھنے پر خون کی گردش متاثر نہ ہو اور پٹھوں کو نقصان نہ پہنچے۔

4. زخم کو صاف کرنا

 

زخم کو صابن اور پانی سے نرمی کے ساتھ دھو لیں اور اسے کسی صاف اور خشک کپڑے یا پٹی سے ہلکا سا ڈھانپ دیں۔

غلطیاں جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں

 

ہمارے معاشرے میں سانپ کے کاٹنے کے حوالے سے کئی ایسے روایتی طریقے رائج ہیں جو فائدے کے بجائے شدید نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

1.  کٹ لگانے سے گریز

 

امریکن ریڈ کراس (American Red Cross) اور جدید طبی سائنس کے مطابق، زخم پر کٹ لگانا  انتہائی خطرناک ہے۔ کٹ لگانے سے خون زیادہ بہہ سکتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

2. ٹورنیکیٹ (Tourniquet) یا کس کر پٹی نہ باندھیں

 

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ زخم سے اوپر کس کر رسی یا پٹی باندھنے سے زہر نہیں پھیلتا۔ طبی ماہرین کی متفقہ رائے کے مطابق، ٹورنیکیٹ باندھنے سے خون کی سپلائی مکمل طور پر کٹ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس حصے کے پٹھے گلنا (Tissue necrosis) شروع ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات جان بچانے کے لیے متاثرہ بازو یا ٹانگ کاٹنی پڑ جاتی ہے۔

3. برف، کیفین یا دیسی ٹوٹکوں کا استعمال

 

زخم پر برف ہرگز نہ لگائیں۔ اس کے علاوہ مریض کو درد کم کرنے کے لیے اسپرین (Aspirin)، چائے، کافی یا الکحل نہ دیں۔ اسپرین سے خون پتلا ہونے کی وجہ سے بلیڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سانپ کی پہچان اور ہسپتال منتقلی

 

سانپ کو پہچاننے کی کوشش

 

اگر ممکن ہو تو دور سے سانپ کا رنگ اور شکل یاد رکھنے کی کوشش کریں یا اس کی تصویر بنا لیں۔ اس سے ڈاکٹر کو علاج میں مدد ملتی ہے۔ تاہم، قومی ادارہ صحت پاکستان (NIH) خبردار کرتا ہے کہ سانپ کو پکڑنے یا مارنے کے چکر میں وقت ہرگز ضائع نہ کریں اور نہ ہی خود کو مزید خطرے میں ڈالیں۔

بروقت ہسپتال کی منتقلی

 

سانپ کے زہر کا واحد اور حتمی علاج اینٹی وینم (Anti-Venom) ویکسین ہے۔ دیسی جڑی بوٹیوں یا عاملوں کے پاس جانے کے بجائے مریض کو فوری طور پر قریبی بڑے ہسپتال یا ڈسپنسری لے کر جائیں جہاں سانپ کے کاٹنے کی ویکسین موجود ہو۔

سانپ کے ڈسنے کے بعد مستند علاج زندگی کی علامت

 

سانپ کا ڈسنا ایک ایمرجنسی ہے جس میں وقت کی بہت اہمیت ہے۔ گھبراہٹ سے بچنا، زخم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا اور فوری طور پر مستند ہسپتال کا رخ کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جو کسی بھی انسان کی قیمتی جان بچا سکتا ہے۔

گرمیوں کے موسم میں رات کے وقت کچی جگہوں، کھیتوں یا جھاڑیوں کے قریب جاتے وقت ٹارچ اور لمبے جوتوں کا استعمال احتیاطی تدابیر کے طور پر لازمی اپنائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button