
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری 2026 کی جنگ کو مکمل طور پر روکنے اور خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے، پاکستان نے جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے قبل، دونوں ممالک کو مذاکرات کے ایک اور ‘آخری اور فیصلہ کن’ دور کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے۔
11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے طویل ایران امریکہ مذاکرات (Islamabad Talks) کے بعد، جن میں اگرچہ کوئی حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا سکا، پاکستان اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے کہ بات چیت کا یہ سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے۔
پہلا دور اور پاکستان کا شاندار و تاریخی سفارتی کردار
اس عالمی تنازعے میں پاکستان کا کردار انتہائی شاندار، جرات مندانہ اور قابلِ ستائش رہا ہے۔ یہ پاکستان کی ایک غیر معمولی سفارتی فتح ہے کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار، امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود آمنے سامنے ایک ہی میز پر بیٹھے۔
8 اپریل 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر محیط جو ابتدائی جنگ بندی طے پائی، وہ خالصتاً پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ تھی۔
پاکستانی قیادتبشمول وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ثابت کیا کہ پاکستان عالمی طاقتوں اور مشرق وسطیٰ کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک انتہائی موثر اور قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پہلے دور کے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت موجودہ نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاس تھی
۔ ایک ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان کی جانب سے ان دونوں حریفوں کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں اکٹھا کرنا عالمی امن کے لیے ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس پر پاکستانی سفارت کاری بجا طور پر داد کی مستحق ہے۔
حالیہ صورتحال اور مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجوہات
اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کے دوران اگرچہ فریقین میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان رابطے تاحال برقرار ہیں۔ موجودہ تعطل کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا تنازع
امریکہ کا اصرار ہے کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے فوری اور غیر مشروط طور پر کھولا جائے۔ دوسری جانب، ایران نے وارننگ دی ہے کہ امریکی جنگی جہازوں کی آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی دراندازی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ایران کا جوہری پروگرام
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق، مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ ایران کا اپنے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار ہے۔
ایران کی جانب سے منجمد اثاثوں (خاص طور پر قطر میں موجود 6 ارب ڈالر) کی بحالی اور لبنان میں حملے روکنے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں، جن پر امریکی حکام ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
ایران امریکہ مذاکرات اور آئندہ کا لائحہ عمل
چونکہ 14 روزہ جنگ بندی کی مدت جلد ختم ہونے والی ہے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے زور دیا ہے کہ دونوں فریقین جنگ بندی کی پاسداری کریں اور کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اگلے چند دنوں میں کسی بھی وقت امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اور ہنگامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ موجودہ وقت میں امریکہ اور ایران کی تیکنیکی سطح کی ٹیمیں "ماہرین کی دستاویزات” (Expert Texts) کا تبادلہ کر رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق، اگر پاکستان کی یہ آخری کوشش کامیاب ہو جاتی ہے اور دونوں ممالک ایک مستقل امن معاہدے پر دستخط کر دیتے ہیں، تو یہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچا لے گی اور سفارتی دنیا میں پاکستان کا قد مزید بلند کر دے گی۔ دنیا بھر کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس ناممکن کو مستقل طور پر ممکن بنا پاتا ہے یا نہیں۔



