اہم خبریںپاکستانعوام

پنجاب پولیس پاکستان ایپ سے گمشدہ کاغذات کی گھر بیٹھے ایف آئی آر کرائیں

ماضی میں کسی بھی اہم دستاویز کے گم ہونے کا مطلب ایک طویل، تکلیف دہ اور ذلت آمیز عمل سے گزرنا ہوتا تھا۔

پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی سہولیات کی فراہمی اور پولیسنگ کے نظام کو عوام دوست بنانے میں ایک نئے باب کا اضافہ ہواہ ے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے "پنجاب پولیس پاکستان ایپ” کا افتتاح کر دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد شہریوں کو گھر بیٹھے پولیس کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

اس ایپ کا سب سے انقلابی فیچر شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر اہم دستاویزات کی گمشدگی کی رپورٹ کا آن لائن اندراج ہے۔

اب شہریوں کو ان بنیادی کاموں کے لیے پولیس اسٹیشن یا خدمت مراکز کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ گمشدگی کی ای-ایف آئی آر (e-FIR) یا رپورٹ انہیں گھر بیٹھے ہی موصول ہو جائے گی۔

روایتی پولیسنگ اور تھانہ کلچر کے عوام پر منفی اثرات

 

ماضی میں کسی بھی اہم دستاویز کے گم ہونے کا مطلب ایک طویل، تکلیف دہ اور ذلت آمیز عمل سے گزرنا ہوتا تھا۔

روایتی پولیسنگ یا جسے ہم ‘تھانہ کلچر’ کہتے ہیں، نے عوام اور پولیس کے درمیان ایک گہری خلیج اور بداعتمادی پیدا کر رکھی تھی، جس کے درج ذیل نقصانات تھے:

  • خوف اور ہراسانی: عام شہری، خاص طور پر خواتین اور شریف النفس افراد، تھانے جانے سے کتراتے تھے۔ پولیس اسٹیشنز کا ماحول عموماً خوفزدہ کرنے والا اور غیر دوستانہ ہوتا تھا، جہاں سائل کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔

  • وقت اور وسائل کا ضیاع: ایک عام سی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے کے لیے کئی کئی گھنٹے، اور بعض اوقات کئی دن لگ جاتے تھے۔ سائلین کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر اور ایک میز سے دوسری میز تک خوار کیا جاتا تھا۔

  • رشوت ستانی اور سفارش کا کلچر: روایتی نظام میں شفافیت نہ ہونے کے باعث کرپشن اور سفارش کے بغیر کام نکلوانا انتہائی مشکل تھا۔ ایک سادہ سی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے بھی اکثر ناجائز مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

  • ذہنی اذیت اور عدم تحفظ: دستاویزات (جیسے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ) کے گم ہونے کی پریشانی اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے، لیکن تھانے کے چکر اور عملے کے روایتی بے حسی پر مبنی رویے سے شہری مزید ذہنی اذیت کا شکار ہوتے تھے۔

پنجاب جدت کی راہ پر گامزن

 

مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت کی اولین ترجیح نظر آتی ہے کہ صوبے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔

حال ہی میں ان کی جانب سے ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن (جہاں خواتین آن لائن اپنی شکایات درج کروا سکتی ہیں) اور ٹریفک چالان کے لیے ڈیجیٹل ثبوتوں پر مبنی ‘ون ایپ’ (One App) جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت پولیس کے محکمے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

پنجاب پولیس پاکستان ایپ ایک بہترین متبادل

 

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ڈیجیٹل گورننس کا اصل مقاصد ہے۔ "پنجاب پولیس پاکستان ایپ” روایتی تھانہ کلچر کے خاتمے کی جانب ایک مضبوط اور قابلِ ستائش قدم ہے۔

اس طرح کے مؤثر اقدامات سے نہ صرف پولیس اور عوام کے درمیان دہائیوں سے موجود اعتماد کا فقدان دور ہوگا، بلکہ پنجاب ترقی، جدت، اور شفافیت کی نئی منازل طے کرے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button