ہمارے پلان فلاپ کیوں ہو جاتے ہیں؟
آپ 5 دوست تھے اور آپ نے مل بیٹھ کر ایک دن مخصوص کیا اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا کہ کیسے کیسے جانا ہے۔ جب یہ منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو آپ کائنات کے اس نظام کو سائیڈ پر رکھ کر اپنی سوچ لڑا رہے تھے۔

ہم اکثر پلان بناتے ہیں اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ فلاں دوست کی وجہ سے پلان فلاپ ہو گیا۔ ہم اکثر لمبی منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں لیکن یہ سب منصوبہ بندی کسی نہ کسی وجہ سے ناکام رہتی ہے۔
تو یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے پلان ناکام کیوں ہوتے ہیں اور وہ کام جو ہم بغیر کسی پلان کے کرتے ہیں وہ اتنی آسانی سے کیسے ہو جاتے ہیں؟
ہمارے پلان فلاپ کیوں ہوتے ہیں؟
ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کائنات کا نظام اللہ رب العزت کی منشاء کے مطابق چلتا ہے۔ اس میں کسی انسان کو عمل دخل کا اختیار حاصل نہیں ہوسکتا۔
جب ہم لمبی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو ہم کائنات کے اس اصول کو عموماً بھول جاتے ہیں اور نتیجہ ہمارا پلان فلاپ ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔
اس بات کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بالفرض آپ نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر شمالی علاقہ جات کی سیر کا منصوبہ بنایا۔
آپ 5 دوست تھے اور آپ نے مل بیٹھ کر ایک دن مخصوص کیا اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا کہ کیسے کیسے جانا ہے۔ جب یہ منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو آپ کائنات کے اس نظام کو سائیڈ پر رکھ کر اپنی سوچ لڑا رہے تھے۔
اب ہوا کچھ یوں کہ ایک دوست کو آفس سے چھٹی نہ ملی اور دوسرے دوست کے گھر میں کوئی بیمار ہو گیا۔ یوں پلان فیل ہو گیا۔ عموماً ہم پلان بناتے ہیں اور کائنات کو اپنے حساب سے چلانے کی کوشش میں ناکام ہو بیٹھتے ہیں۔
انسان کو ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے؟
کائنات کا نظام اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے اس لئے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی طرف سے محنت اور ارادہ کرے، ساتھ انشاء اللہ کہہ کر معاملہ اللہ پر چھوڑ دے۔ ایسا کرنے سے انسان اپنا معاملہ اللہ کی منشاء کے سپرد کر کے بری الذمہ ہو جائے گا۔ یوں جو پلان انسان نے بنایا اگر وہ اس کی بہتری کا پلان ہو گا تو وہ اسے جلد تعبیر ہوتا پائے گا۔
انسان اگر اپنی کمزوریوں کی وجہ سے کسی ایسی چیز کا پلان بنا بیٹھا جو اس کے لیے نقصاندہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس پلان کو روک دیتے ہیں۔ ہم اس وقت سمجھ نہیں پاتے اور شکوہ کرنے لگتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب حقیقت کھلتی ہے تو انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ کاش وہ پلان اس وقت فیل نہ ہوتا تو آج کتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑتا۔
بغیر پلان کے کام کیوں ہو جاتے ہیں؟
اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ وہ کام جو ہم بغیر کسی منصوبہ بندی کے کرتے ہیں، وہ اکثر آسانی سے ہو کیوں جاتے ہیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم بغیر پلان کے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اپنی مرضی مسلط کرنے کا بوجھ نہیں ہوتا۔ ہم بس چل پڑتے ہیں اور اللہ کی تقدیر اپنا کام کرتی ہے۔ جب انسان اپنی انا اور اپنے حساب و کتاب کو درمیان سے ہٹا دیتا ہے تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بزرگوں نے ہمیشہ یہ تعلیم دی کہ نیت پکی رکھو، محنت سے پیچھے مت ہٹو، مگر نتیجے کی فکر اللہ پر چھوڑ دو۔
صحیح طریقہ کیا ہے؟
پلان بنانا غلط نہیں ہے۔ پلان بنانا دراصل ایک ذمہ دارانہ عمل ہے۔ اسلام بھی ہمیں تدبیر سے کام لینے کی تعلیم دیتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تدبیر کے بعد تقدیر پر بھروسہ رکھنا ضروری ہے۔
جب آپ کوئی پلان بنائیں تو یہ تین باتیں یاد رکھیں۔ پہلی یہ کہ پوری محنت اور سنجیدگی سے منصوبہ بندی کریں۔ دوسری یہ کہ ہر قدم پر انشاء اللہ کہیں اور دل میں یہ یقین رکھیں کہ حتمی فیصلہ اللہ کا ہے۔ تیسری یہ کہ اگر پلان فیل ہو جائے تو مایوس ہونے کی بجائے یہ سوچیں کہ شاید اللہ نے میرے لیے اس سے بہتر کچھ رکھا ہے۔
آخری بات
زندگی میں ہر لمحہ اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔ انسان کی حیثیت بس اتنی ہے کہ وہ کوشش کرے اور بقیہ معاملہ اپنے رب کے سپرد کر دے۔ جو لوگ یہ راز سمجھ لیتے ہیں، وہ نہ پلان فیل ہونے پر ٹوٹتے ہیں اور نہ دوسروں کو الزام دیتے ہیں۔ وہ ہر حال میں سکون سے رہتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ جو ہوا، بہتر کے لیے ہوا اور جو ہونا ہے، وہ بھی بہتر کے لیے ہوگا۔



