
لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ویڈیو کسی فلم کا منظر نہیں، بلکہ ایک سرکاری ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کے اندر کی حقیقت ہے، جہاں دو حاملہ خواتین سی سیکشن کی میز پر لیٹی ہیں اور ان کے اردگرد موجود ڈاکٹر آپس میں ایک انوکھی "دوڑ” لگا رہے ہیں، یعنی یہ دیکھنے کے لیے کہ پہلے آپریشن کون مکمل کرتا ہے۔
آپریشن تھیٹر کی ویڈیو میں کیا ہوا؟
گائنی آپریشن تھیٹر میں بیک وقت دو خواتین کے سی سیکشن جاری تھے۔ ایک طرف ڈاکٹر طیبہ کی ٹیم تھی، دوسری طرف ڈاکٹر عائشہ کی۔ کسی نے موبائل اٹھایا اور یہ سب ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔ ویڈیو میں آوازیں صاف سنائی دیتی ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ یہاں پورا مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سی سیکشن کرتا ہے، اور ڈاکٹر عیسیٰ جج ہوں گے۔ اس پر قہقہے بھی لگتے ہیں۔
سوچیں، ایک عورت بے ہوش میز پر لیٹی ہے، اس کے جسم پر آپریشن ہو رہا ہے، اور اس کے ڈاکٹر اپنے ساتھیوں سے مقابلہ جیتنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ یہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ مریض کے ساتھ بنیادی انسانی احترام کی پامالی ہے۔
کن ڈاکٹروں پر گرفت ہوئی؟
ویڈیو میں موجود چار زیر تربیت پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں، ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور ڈاکٹر عائشہ افضل کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ معطل کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فرح انعام اور گائنی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
حکومت کا ردعمل
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کے منافی ہیں۔ وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ویڈیو پرانی ہو سکتی ہے، تاہم اس کے باوجود ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی ہوگی۔ سیکریٹری صحت نے واضح کیا کہ اسپتالوں میں علاج کے دوران موبائل فون کا استعمال مکمل طور پر ممنوع ہے۔
اصل سوال یہ ہے
قانونی کارروائی ہو جائے گی، ٹریننگ معطل ہو جائے گی، اخباروں میں خبر چھپ جائے گی اور چند دنوں میں معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یہ سوچ کہاں سے آئی؟ آپریشن تھیٹر جیسی مقدس جگہ پر کسی کو یہ خیال کیسے آیا کہ یہاں ہنسی مذاق اور مقابلہ بازی کا موقع ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جلد بازی مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ سی سیکشن ایک نازک اور پیچیدہ طریقہ عمل ہے جس میں ماں اور بچے دونوں کی زندگی داؤ پر ہوتی ہے۔ اسے ریس سمجھنا نہ صرف لاپروائی ہے بلکہ فوجداری غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
مزید برآں، ان مریض خواتین نے اپنا علاج کروانے کے لیے سرکاری ہسپتال کا رخ کیا تھا، کیونکہ وہ نجی ہسپتال کا خرچ برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ ان کمزور اور بے بس خواتین کے ساتھ یہ سلوک ہمارے سرکاری نظامِ صحت کی خستہ حالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ واقعہ صرف چار ڈاکٹروں کی غلطی نہیں، یہ اس پورے نظام کا آئینہ ہے جس میں احتساب نہ ہو تو اختیار بھی بے لگام ہو جاتا ہے۔ امید ہے کہ اس بار کارروائی محض کاغذوں تک محدود نہ رہے۔



