
گزشتہ روز پاکستان ریلوے کی قراقرم ایکسپریس جو کراچی کی جانب رواں دواں تھی خانیوال جنکشن کے قریب ایک حادثہ کے بعد دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔
حادثہ انتہائی خطرناک تھا تاہم میڈیا رپورٹس اور ریلوے حکام کے مطابق واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
قراقرم ایکسپریس کا حادثہ ٹرین دو ٹکڑوں میں بٹ گئی
قراقرام ایکسپریس ایک بڑے حادثے کا شکار ہوتے ہوتے اس وقت بال بال بچی جب خانیوال جنکشن کے قریب ڈبوں کو جوڑنے والا کپلنگ اچانک ٹوٹ گیا جس سے ٹرین دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق اکانومی کلاس کا ایک ڈبہ اس حادثے کی وجہ سے بقیہ ٹرین سے الگ ہو گیا تھا۔
اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی حادثے کے ہونے تک کا انتظار کرتے رہیں گے؟
ابھی جان بچی، لیکن کل کا کیا؟
ریلوے حکام نے اس واقعہ کے ابتدائی رد عمل میں وسائل کی کمی کو مشکلات کی وجہ قرار دیا۔
اس واقعے کے صرف دو روز قبل تیزگام ایکسپریس کے آٹھ ڈبے لودھراں کے قریب پٹری سے اتر گئے تھے جس میں متعدد مسافر زخمی ہوئے۔
ایک ہفتے میں دو بڑے واقعات حالات کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن حکومتی سطح پر مکمل خاموشی کے آثار نظر آتے ہیں اور بات صرف تحقیقاتی کمیٹی بننے تک محدود ہیں۔
اعداد و شمار جو شرمندہ کر دیں
2019 سے 2024 کے دوران پاکستان میں ریلوے حادثات کے 500 سے زائد واقعات رونما ہوئے یعنی 100 سے زائد واقعات فی سال کے حساب سے۔ ان واقعات میں 300 سے زائد افراد کے جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر ہم اس سے تھوڑا پیچھے جلے جائیں تو بھی ہمیں 100 کا ہندسہ ہر سال ملتا ہے جو کہ ایک بڑی تعداد ہے۔
پرانی پٹریاں، پرانی سوچ
ریلوے حکام خود تسلیم کرتے ہیں کہ حادثوں کی بڑی وجوہات میں پرانے انجن، سگنل کی خرابیاں اور دیکھ بھال کا فقدان شامل ہیں۔ موجودہ پٹریاں برطانوی نوآبادیاتی دور میں بچھائی گئی تھیں اور ان میں شاذ و نادر ہی بہتری لائی گئی ہے۔
ٹرین حادثات اکثر پاکستان کی ناقص دیکھ بھال شدہ پٹریوں پر ہوتے ہیں، جہاں نوآبادیاتی دور کے مواصلاتی اور سگنل نظام کو جدید نہیں بنایا گیا اور حفاظتی معیار انتہائی کمزور ہیں۔
حکومتیں آتی جاتی رہیں، مسافر مرتے رہے
پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی تمام حکومتوں نے ریلوے کو جدید بنانے کے وعدے کیے اور فنڈ حاصل کرنے کی کوشش کی — مگر اب تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔
ہر بڑے حادثے کے بعد ایک ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے: وزیر صاحب دورہ کریں گے، انکوائری کمیٹی بنے گی، "فوری اقدامات” کا اعلان ہوگا — اور پھر سب کچھ بھول جائے گا، اگلے حادثے تک۔
کیا پرائیوٹ کرنا ہی حل ہے؟
پاکستان میں دیگر محکمہ جات کی طرح ریلوے کی بڑی تعداد میں بسیں بھی نجی شعبہ کو منتقل کی جا چکی ہیں۔
حکومتیں عوامی سہولت کے ادارے جیسا کہ ریلوے،سکول ، ہسپتال وغیرہ چلانے سے قاصر ہیں تو شہری سوال کرتے ہیں کہ حکومت عوام سے ٹیکس کس مد میں لے رہی ہے؟
اگر حفاظت کا انتظام کرنا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ یہ سہولت بھی نجی شعبے کو منتقل کر دے تا کہ قیمتی انسانی جانوں کو ضیاع سے بچایا جا سکے۔



