اسرائیلی قید میں فلسطینی خواتین رمضان المبارک میں کن حالات سے گزر رہی ہیں؟
فلسطین کے اسیران سے متعلق کمیشن کے مطابق اس وقت تقریباً 70 خواتین رمضان کے مہینے میں سخت ترین اسرائیلی جیل پالیسیوں کے زیر سایہ رہ رہی ہیں۔

رمضان کا مہینہ روزوں اور عبادات سے منسوب ہے اور اس مہینہ میں خواتین عزت و احترام کا مزید خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن اسرائیل کی بدنام زمانہ جیل میں قید خواتین یہ مہینہ بھوک،تذلیل اور بدسلوکی کے سائے میں گزار رہی ہیں۔
فلسطین کے اسیران سے متعلق کمیشن کے مطابق اس وقت تقریباً 70 خواتین رمضان کے مہینے میں سخت ترین اسرائیلی جیل پالیسیوں کے زیر سایہ رہ رہی ہیں۔ ان خواتین میں مائیں ، صحافی اور طالبات شامل ہیں ۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی حکام کے رپورٹ کردہ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ صہیونی فورسز نے مذہبی مہینے کو خواتین کیلئے سخت آزمائش اور بقاء کی جدوجہد میں بدل دیا ہے۔
خوراک کی قلت:
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی جانب سے کئے گئے سابق اسیران کے انٹرویوز اور شہادتیں یہ بتاتی ہیں کہ اسرائیلی جیلوں میں عرصہ دراز سے فلسطینی قیدیوں کی خوراک محدود رکھی جاتی ہے اور رمضان میں اس عمل میں شدت دیکھنے کو ملتی ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں سابق اسیر نے بتایا رمضان میں قیدیوں کو روزانہ صرف ایک کھانا دیا جاتا تھا جس میں چند چمچ چاول ، تھوڑی سا دال کا شوربہ اور چند گرام بند گوبھی شامل تھی۔ قیدی نے مزید بتایا کہ قیدیوں کو جو پانی دیا جاتا تھا اس میں کلورین جیسا ذائقہ آتا تھا۔
ایسے حالات میں خواتین، جن کی غذائی ضروریات مختلف ہوتی ہیں بالخصوص چند ماؤں کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ امید سے ہیں، انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں میں شمار ہوتا ہے۔
یوں رمضان المبارک کے علاوہ بھی بھوک کی اسرائیلی پالیسی کی وجہ سے جیل میں قیدی روزے کی ہی حالت میں رہتے ہیں۔
اسرائیلی قید میں فلسطینی خواتین کی مذہبی آزادی کی نفی
ٹی آر ٹی ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق فلطسطینی جیل میں قید خواتین کو رمضان کے اوقات نامے حاصل کرنے سے روک دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ سحر و افطار کے درست وقت سے واقف نہیں ہوتیں۔
اسی طرح قیدیوں کو اجتماعی نماز پرھنے اور قرآن رکھنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ چند میڈیا رپورٹس کے مطابق پانی بند کر کے شہریوں کو وضو میں مشکلات دی جاتی ہیں جو کہ مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔
جنسی ، ذہنی اور جسمانی تشدد
اسرائیلی جیلوں بالخصوص بدنام زمانہ دامون جیل میں خواتین پر جنسی ، ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بی تسلیم کی رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو جسنی تشدد جیسا کہ ریپ کی دھمکیاں، کپڑے اتارنے پر مجبور کرنا اور کتوں سے حملے کروانا اور جنسی اعضاء پر مارنا، برقی جھٹکے وغیرہ دینا شامل ہے۔
اسی طرح خواتین کو زبردستی حجاب اتارنے پر مجبور کرنا اور 24 گھنٹے کیمرہ نگرانی میں رکھنا انتہائی تذلیل آمیز حالات ہیں جن سے فلسطینی جیلوں میں خواتین کو گزرنا پڑتا ہے۔
طبی غلفت اور نامساعد رہائشی حالات:
اسرائیلی جیلوں میں انتہائی بھیڑ ہے اور یہاں خواتین کو طبی غفلت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مخصوص ایام سمیت دیگر بیماریوں کے دوران بھی خواتین کو بنا تشخیص کے ایک ہی طرز کی ادویات دی جاتی ہیں جو دائمی بیماریوں کا شکار خواتین کیلئے جان لیوا ہو سکتی ہیں۔
اختتامیہ:
رمضان کا مہینہ یوں تو خاندانوں کے اجتماعات کا مہینہ ہوتا ہے جہاں سحر و افطار میں گھر کے افراد اکھٹے ہوتے ہیں۔ خواتین ماں، بیٹی، بیوی ، بہن ہر روپ میں رمضان دستر خوانوں کی رونق ہوا کرتی ہیں۔
اسرائیلی قید میں فلسطینی خواتین دوہری اذیت میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف جیل کی سختیاں تو دوسری طرف اہلخانہ نفسیاتی صدموں کا شکار۔
بین الاقوامی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی حالتِ زار پر توجہ دیتے ہوئے اسرائیل کو پابند بنائے کہ وہ ماہ مقدس کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے بدنام زمانہ جیلوں سے خواتین قیدیوں کو رہا کرے۔



