اہم خبریں

ایزی پیسہ جیز کیش میں بھیجی فراڈ رقم آپکو مشکل میں ڈال سکتی ہے

قانونی کارروائی آپ کا وقت، عزت اور پیسہ تینوں لے سکتی ہے چاہے آپ بے قصور کیوں نہ ہوں۔

پاکستان میں ایزی پیسہ جیز کیش اور اس جیسی موبائل منی سروسز لاکھوں لوگوں کی روزمرہ کی ضرورت بن چکی ہیں۔ پیسے بھیجنا، بلز ادا کرنا، کیش نکالنا — یہ سب کام اب چند لمحوں میں ہو جاتے ہیں۔

لیکن اس سہولت کے ساتھ ایک سنگین قانونی خطرہ بھی جڑا ہوا ہے جس سے اکثر ایجنٹ اور صارفین بالکل بے خبر ہیں۔ آج ہم اسی موضوع پر بات کریں گے  تاکہ آپ کو اس خطرے سے آگاہ کیا جا سکے اور آپ اپنا بچاؤ کر سکیں۔

کسی کا ایزی پیسہ جیز کیش فراڈ آپ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے

 

اگر آپ ایزی پیسہ جیز کیش وغیرہ کا کام کرتے ہیں عام طور پر فراڈ اس طرح ہوتا ہے:

  1. کوئی انجان شخص آپ کے پاس آتا ہے اور آپ کے اکاؤنٹ کے ذریعے کیش نکلوانا یا پیسے بھیجنا چاہتا ہے۔
  2. ٹرانزیکشن بالکل عام لگتی ہے۔ آپ اپنا کمیشن لے کر معاملہ نمٹا لیتے ہیں۔
  3. لیکن آپ کو نہیں پتہ کہ وہ رقم کسی ہیک شدہ اکاؤنٹ، دھوکے یا غیر قانونی ذریعے سے آئی تھی۔
  4. اصل متاثرہ شخص ایف آئی اے یا این سی سی میں شکایت درج کرواتا ہے۔
  5. تحقیقات میں پیسے کا سراغ آپ کے اکاؤنٹ تک پہنچتا ہے — آپ کا اکاؤنٹ فوری بلاک ہو جاتا ہے۔
  6. آپ کو سرکاری نوٹس موصول ہوتا ہے — حالانکہ آپ نے کوئی جانتے بوجھتے غلطی نہیں کی۔

اس کے بعد آپ کا اکاؤنٹ بلاک ہو جاتا ہے جس کا مطلب کے آپ نہ پیسے بھیج سکتے ہیں نہ وصول کر سکتے ہیں۔ اپنا پورا کاروبار اس پلیٹ فارمز پر چلانے والوں کیلئے یہ صورتحال تباہ کن ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ قانونی کارروائی آپ کا وقت، عزت اور پیسہ تینوں لے سکتی ہے چاہے آپ بے قصور کیوں نہ ہوں۔

 

حل: ایک ٹرانزیکشن رجسٹر بنائیں

 

سب سے آسان اور مؤثر کام جو آپ آج ہی کر سکتے ہیں — بالکل مفت — وہ ہے ایک سادہ ٹرانزیکشن رجسٹر مینٹین کرنا۔ یہ ریکارڈ اس بات کا ثبوت بنتا ہے کہ ایزی پیشہ جیز کیش سے جو ٹرانزیکشن ہوئی، وہ کس نے کروائی۔

رجسٹر میں کیا لکھنا ضروری ہے؟

 

ہر اس انجان شخص کے لیے جو پانچ ہزار روپے یا اس سے زیادہ کی ٹرانزیکشن کروائے، یہ معلومات لازمی ریکارڈ کریں:

  • پورا نام (شناختی کارڈ کے مطابق)
  • شناختی کارڈ (CNIC) نمبر
  • شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی یا واضح تصویر (آگے اور پیچھے دونوں طرف)
  • انگوٹھے کا نشان یا دستخط
  • تاریخ اور وقت
  • رقم کی مقدار
  • ٹرانزیکشن کی نوعیت (کیش ان، کیش آؤٹ، منتقلی وغیرہ)

  اہم بات:

 

پانچ ہزار روپے کیوں؟ اس حد سے اوپر کی ٹرانزیکشنز پر ریگولیٹری اور تحقیقاتی اداروں کی نظر زیادہ پڑتی ہے۔ زیادہ حفاظت کے لیے آپ ہر انجان گاہک کے لیے یہ عمل اپنا سکتے ہیں۔

 

یہ رجسٹر آپ کو قانونی طور پر کیسے بچاتا ہے؟

 

اگر کبھی ایف آئی اے، این سی سی یا کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ آپ سے رابطہ کرے، تو یہ رجسٹر آپ کی سب سے پہلی قانونی ڈھال ہے:

  • یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نے نیک نیتی سے کام کیا — ٹرانزیکشن سے پہلے شناخت کی تصدیق کی۔
  • تحقیقات کاروں کو اصل مجرم کی شناخت ملتی ہے — ذمہ داری آپ سے ہٹ کر اصل دھوکے باز پر آ جاتی ہے۔
  • عدالت اور ریگولیٹری ادارے اس ایجنٹ سے زیادہ نرمی سے پیش آتے ہیں جو ریکارڈ رکھتا ہے۔
  • آپ کا اکاؤنٹ جلدی بحال ہو سکتا ہے — کیونکہ آپ کے پاس تعاون اور دستاویزات کا ثبوت موجود ہے۔
  • آپ فوجداری ذمہ داری سے بچ سکتے ہیں — بغیر ریکارڈ کے یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ فراڈ میں شامل نہیں تھے۔

 

اپنے حقوق اور ذمہ داریاں جانیں

 

موبائل منی ایجنٹ یا غیر رسمی پیسے کی منتقلی کے آپریٹر کی حیثیت سے آپ کو یہ باتیں معلوم ہونی چاہئیں۔

آپ کو حق ہے کہ بڑی ٹرانزیکشن کروانے والے کی شناخت جانچیں۔ کوئی مشکوک ٹرانزیکشن مکمل کرنا آپ کے لیے قانونی طور پر لازمی نہیں ہے — آپ انکار کر سکتے ہیں۔

مشکوک سرگرمی کی اطلاع ایف آئی اے کے این آر تھری سی (سائبر کرائم ہیلپ لائن 9911 پر دیں۔

جانتے بوجھتے فراڈ ٹرانزیکشن میں مدد کرنا پاکستان کے پیکا 2016 قانون کے تحت سنگین جرم ہے۔ اگر آپ کا اکاؤنٹ بلاک ہو جائے تو فوری وکیل سے رابطہ کریں اور کوئی سرکاری نوٹس نظرانداز نہ کریں۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button